نئی نسل کی فکر!

ہم ایک چینل کے اسٹوڈیو میں ایک پروگرام ریکارڈ کروانے کے لیے جمع تھے۔ وہاں پروگرام میں میں شریک خواتین سے بات ہونے لگی، ایک خاتون جن کا تعلق کسی مڈل کلاس گھرانے سے تھا، اپنے حلیے سے بہت مذہبی بھی نہیں لگ رہی تھیں مگر ماحول میں پھیلی بے حیائی پر بہت فکر مند تھیں۔۔۔ دکھ سے بولیں: کیا کریں، کہاں لے کر جائیں بچوں کو، کیسے بچائیں اور کہاں کہاں بچائیں! میرا بچہ تیسری جماعت میں پڑھتا ہے اور عام سا اسکول ہے، مگر ویلنٹائن سے ایک دن پہلے اسکول سے آکر کہنے لگا ’’امی کل مجھے لال شرٹ پہن کر جانی ہے اور ایک پھول لے کر جانا ہے۔۔۔ امی ہماری ٹیچر نے کہا ہے کل کلاس میں ویلن ٹائن ڈے منائیں گے تو وہ کپل بنائیںگی اور مجھے اپنی کپل کو پھول دینا ہے۔‘‘ وہ خاتون تو اپنا دکھ بیان کرگئیں مگر مجھے لگا کہ ہم ایک ایسی گہری کھائی میں گر رہے ہیں جس کی پستی کا ابھی اس وقت شاید کسی کو اندازہ نہیں، یا کرنا نہیں چاہتے، مگر جب آنکھ کھلے گی تو وقت گزر چکا ہوگا۔

اسکول جو ماں کی گود کے بعد بچے کی تربیت اور شخصیت سازی کی اہم ترین جگہ ثابت ہوا کرتے تھے، استاد جن کو روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے کہ یہ ان کے فرائض میں شامل ہوتا ہے کہ وہ بچے کو ہر برائی سے روکیں اور اس میں اچھائیاں پیدا کریں۔۔۔۔ مگر یہ کیا! آج کے استاد نے اپنا کام صرف چھوڑ دیا ہوتا تو بھی اتنا نقصان نہ ہوتا مگر اس نے تو اپنی راہ ہی بدل لی، اور راہوں کے بدلنے کا کفارہ من حیث القوم دینا پڑتا ہے۔ جن قوموں کی تقلید میں ہم اپنا دین، ایمان، غیرت، حیاء سب داؤ پر لگا دیتے ہیں وہ پھر بھی ہمیں قبول نہیں کرتیں اور سب کچھ کھوکر بھی ہاتھ کچھ نہیں آتا۔

مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا۔

آج ہر اسکول، کالج، یونیورسٹی میں منایا جانے والا بے غیرتی کا یہ تہوار معاشرے کے لیے زہر قاتل کی طرح ہے، اور نوجوان نسل ہی کیا اب تو معصوم ذہنوں کو بھی پراگندہ کرنے میں کسی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، چاہے وہ نام نہاد آزاد میڈیا ہو جہاں ہر چینل پر بیٹھے غیرت سے عاری جوڑے ہوں جو ایک طرف خاندانی نظام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو دوسری طرف آنے والی نسل کو اخلاقی بانجھ پن کا شکار کر رہے ہیں۔ یا وہ خود غرض سرمایہ دار ہوں جو اپنا کثیر سرمایہ بے حیائی کی ترویج کے لیے اس تہوار پر لگاتے ہیں، جن کی بدولت بڑے شاپنگ مالز سے لے کر گلی محلے کی دکانوں میں بھی ویلن ٹائن کے کارڈز ہوں، دل کی شکل والے غبارے ہوں یا پھول۔۔۔۔ ہر طرف سرخ رنگ کی بہتات نظر آتی ہے اور ہر ایک کے لیے اس کو منانا اتنا آسان کردیا گیا، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہر ایک کے دروازے تک پہنچا دیا تو بے جا نہ ہوگا، جس نے پورے کے پورے معاشرے کو بے حیا بنا دیا۔

اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس کو دنیا کے کسی ملک میں اتنی کوریج اور اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی کہ ہمارے ملک میں۔ کیوں کہ ہم تو وہ کہنہ مشق بھکاری ہیں جو غیروں کی اندھی تقلید میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے!

اس تہوار کے بہت سے تاریخی پس منظر بیان کیے جاتے ہیں مگر ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جو حیا سے عاری نہ ہو اور نوجوان نسل کو بے راہ روی کی ترغیب نہ دیتا ہو۔ مگر ہماری نوجوان نسل جو ۱۵؍ اگست کو پتنگ اڑانے میں گزارتی ہے اس تہوار کو وہ بہت ہی اہتمام کے ساتھ مناتی ہے۔

اس تہوار کے منانے والے اللہ کے نبیؐ کی اس تنبیہ کو یاد رکھیں: ’’جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے، وہ انہی میں سے ہے۔‘‘ (ترمذی، مسند احمد، سنن ابوداؤد)

چوں کہ شیطان کا پہلا وار ہی انسان کی حیا پر کیا گیا تھا اور اسی لیے رب نے خود بنی آدم کو تنبیہ کی تھی کہ:

’’اے اولادِ آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا، ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وہ ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتے ہیں کہ تم ان کو نہیں دیکھتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔‘‘ (الاعراف)

فرمانِ نبویؐ ہے: ’’جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہارا جی چاہے کرو۔‘‘ (بخاری) اس لیے کہ حیا ایمان کی ایک شاخ قرار دی گئی اور حیا اور ایمان دونوں کو لازم و ملزوم قرار دے دیا گیا اور واضح کر دیا گیا کہ جب آج ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حیا ہی وہ فرق ہے جو انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے اور جب حیا نہ رہے تو انسان کو حیوان بنتے دیر نہیں لگتی اور رشتوں کا تقدس و احترام سب جاتا رہتا ہے۔

نام نہاد روشن خیال لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ محبت کا دن ہے اور اسے ضرور منانا چاہیے تو ان کے لیے یہ ایک اہم خبر ہے کہ اسلام کی تو بنیاد ہی محبت و اخوت پر ہے، اس میں تو سال کا ہر دن محبتوں سے لبریز ہوتا ہے۔ ہاں بس فرق اتنا ہے کہ اسلام جائز رشتوں، جائز طریقوں سے محبت کا حکم دیتا ہے اور ہر لمحے کے لیے دیتا ہے، سال میں صرف ایک دن کے لیے نہیں۔

ہاں کچھ حدیں ہیں جو اللہ نے خود متعین کی ہیں اور یہ بجلی کے تاروں کی طرح ہیں، جن کو چھونے سے ہی منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کے قریب سے بھی گزرنے سے روک دیا گیا ہے اور وعید سنائی گئی۔ll

شیئر کیجیے
Default image
اسریٰ غوری

Leave a Reply