ماں!

سرچشمۂ حیات، انتہائے شفقت، شیرازۂ الفت۔ ایثارِ بے لوث کی پیکر رحمت ماں! تیری حیاتِ زریں کا عکس صرف اوراقِ ماضی ہی میں ملتا ہے۔ جب تجھے زبانِ عالم نے احکامِ خداوندی کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر ام المومنین کہا۔ فاتحہ عالم! تیرے پاؤں میں جنت کے متلاشی ہوئے۔ تیرے ذوقِ شہادت نے پیکارِ حق و باطل میں شوہر اور تین بیٹوں کی قربانیِ حیات کے بعد تسکین دل پائی۔ تیرے پاکیزہ شجر حیات سے وہ گلہائے سدا بہار شگفتہ ہوئے، جن سے جہان مہک اٹھا۔ تیرے کردار منور نے وہ انجم و ماہتاب درخشاں کیے جن کی ضیائے حسین سے تیرگیِ جہل اور بدبختی مقدر انسانیت کی پیشانی سے چھٹ گئی۔۔۔۔!اپھر صدیوں نے کروٹ لی۔ لیل و نہار بدلے۔ دماغوں پر غنودگی۔ دلوں میں مدہوشی، آنکھوں میں غفلت کا خمار اور اعصاب پر رعشہ طاری ہوگیا۔ غفلت کا ایک سیل مہیب اپنے دامن میں طاغوتی خمار۔ لادینی کا بھیانک آتشیں دستور لے کر بڑھتا اور پھیلتا چلا گیا۔ خفتہ ضمیر اور دل خاکستر ہوکر بے حس ہوگئے۔۔۔۔! اے ماں نہ جانے پھر کس طرح تیرہ بختی نے سحر طاری کر کے تیری شہ نشیں سے اس طرح خراماں خراماں پستیوں میں اتار دیا کہ تجھے اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ عقل فریب خوردہ بھٹکی، اور اس راہ پر گامزن ہوئی جو منزل مقصود کی جانب نہ تھی۔ کلامِ خالقِ اکبر اور قانونِ حیات کو یوں طاق میں رکھو۔ یا گویا۔۔۔۔ الاماں! اک نظر بھی بارِ خاطر بن گئی۔ اس طرح درسِ صراطِ مستقیم بھولا۔ حقیقت خالق و مخلوق ناقابل فہم بنی۔ اور پھر تو اور تیری اولاد بھٹک کر تحت الثریٰ میں پہنچ گئی۔ انسان نے اسفل السافلین کا جامہ پہن لیا۔ ادراک و شعور کی کم فہمی اور قلب کی بے نوری نے ہر راہ گزر کے نقش پاکر نشانِ بہبود جانا اور اُسی کے پیچھے ہوئے۔ یہ کرب انگیز، درد ایک طویل شب الم بن کر طاری رہا۔

پھر وقت نے پینترا بدلا۔ صدیوں کے بوجھ تلے دبی غیرتِ انسانی نے سرکنا شروع کیا۔ اورغلامی کے پیہم تازیانوں نے جھنجھوڑا۔ اگرچہ تاریکی بدستور تھی۔اور حادثاتِ لہو و لعب کی شوخیِ رنگت تیز تر تھی۔ تاہم جب رمقِ زندگی پیدا ہوئی تو ہنگامہ لازمی تھا۔ اس ہنگامہ اس غلغلہ کا مفہوم تھا آزادی!۔۔۔۔ وہ آزادی آئی، جس نے خوابیدہ لاشوں میں روح پھونکی اور انہوں نے جہانِ نو بنا کے رکھ دیا!۔۔۔۔ لیکن اے ماں! ہنوز اولادِ آدم کو تجھ سے شکوہ ہے؟ تیرے افکار کسی کی تقلید میں اور قوتِ ادراک خود نمائی میں الجھی ہوئی ہے۔ تیرا مکتبِ آغوش سونا اور زبانِ ضمیر گنگ ہے۔ للّٰہ اس قیامت خیز سکوت کو توڑ۔ اٹھ! اور رُخ تقدیر بدل دے۔ پدر اسمٰعیلؑ، فاروق ؓاور صدیقؓ، خالد ؓ و قاسمؒ کو اپنی گود سے نکال کر مظہر حق بنا دے!

شیئر کیجیے
Default image
زرینہ نکہت

Leave a Reply