تجربہ باورچی خانہ کا

کالج کی چھٹیوں کا آج پہلا دن تھا۔ سالوں سے اس کے پھوہڑ پن پہ کلستی امی کے ہاتھ اْسے سگھڑ بنانے کا نادر موقع آگیا تھا۔

صبح ناشتہ تو خیر انہوں نے ہی بنایا، البتہ ناشتے کے فوراً بعد وہ اسے باورچی خانے میں لے آئی تھیں اور اب تک کئی اقسام کے ضخیم لیکچرز اس کے اندر انڈیل چکی تھیں، جس کے نتیجے میں وہ ان کے سامنے تھی۔ وہ اس سپاہی کی طرح تھی جس نے زندگی میں پہلی بار میدانِ جنگ میں قدم رکھا ہو۔ پہلی پیاز کٹنے تک ناک سرخ اور رخسار تر ہوچکے تھے۔

’’تم سے ابھی تک ایک پیاز بھی پوری نہیں کاٹی گئی! جلدی کاٹو ابھی ترکاری بھی بنانی ہے۔ دوپہر میں کیا سب کو بھوکا رکھو گی؟‘‘ کچھ دیر بعد عینک سنبھالتے ہوئے انہوں نے ایک نظر اس کے سامنے رکھی پلیٹ پر ڈال کر اسے گھڑکا۔

’’امی نہیں کٹ رہی۔‘‘ وہ بے بسی کی تصویر بنی۔

’’اے لو! کیوں نہیں کٹ رہی! اتنی بڑی ہوچلی ہو، ایک پیاز نہیں کٹتی تم سے!‘‘ انہوں نے اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کی۔

’’امی چھری ٹھیک نہیں ہے شاید۔ نہیں کٹ رہی اس سے‘‘ اس نے بے بسی سے چھری کو گھورا۔ کتنی دیر سے اس کے نخرے برداشت کررہی تھی۔

’’کل ہی تو دھار بنائی تھی اس کی۔ اب کیا ہوگیا۔‘‘ انہوں نے سراٹھائے بغیر کہا۔ وہ بے حد مصروف تھیں۔

’’آپ پیاز کاٹ دیں… میں سودے کا حساب کرلیتی ہوں۔‘‘ اس نے لجاجت سے کہتے ہوئے امید بھری نظریں ان کی طرف اٹھائیں۔

’’شیبا! جائو جو کام کہا ہے وہی کرو۔ کیبنٹ میں چھری تیز کرنے والا ہوگا، اس سے تیز کرلو۔ دھیان سے کرنا، زیادہ تیز نہ ہوجائے۔‘‘

اس نے بائیں ہاتھ کی پشت سے گال صاف کیے اور چھری ہاتھ میں لیے کرسی دھکیل کے اٹھ کھڑی ہوئی۔

کسی کیبنٹ میں چھری تیز کرنے والا نہیں تھا۔ اس نے ہر جگہ دیکھ لیا، پھر مایوس ہوکر واپس آبیٹھی۔ مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق اس نے چھری سے الٹی سیدھی جیسی ہوسکی پیاز کاٹنی شروع کردی۔ کھانے میں دیر ہورہی تھی۔ دوسری کوئی چھری تیز دھار کی نہیں تھی کہ وہی استعمال کرلیتی۔

آنسو ابل ابل آرہے تھے۔ کن انکھیوں سے امی کو دیکھا… وہ ہنوز ڈائری میں گم تھیں۔

’’اللہ! کھانا پکانا اتنا مشکل کام کیوں ہے!‘‘ لال سرخ ناک، رخسار پہ بہتا پانی۔ امی نے سر اٹھایا۔

’’کیا ہوا، ملا؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘

’’اچھا لائو میں کردوں۔‘‘ وہ صفحے میں قلم پھنسا کے ڈائری بند کرکے انگلی سے عینک اوپر کرتی اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔ پلیٹ اپنی طرف کی۔

’’رہنے دیں، میں کرلوں گی۔‘‘ اس کا منہ پھول گیا۔ پلیٹ واپس کھینچ لی۔

’’شیبا! حد ہے بے وقوفی کی۔ عقل کہاں رہتی ہے تمہاری؟‘‘ وہ ماتھے پر ہاتھ مار کر ہنس پڑیں۔

اس نے ان کی نظر کا تعاقب کیا اور چونک گئی۔ اس کے منہ سے بھی ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑا تھا۔

وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اْلٹی چھری سے پیاز کاٹ رہی تھی۔ll

شیئر کیجیے
Default image
سارہ خالد

Leave a Reply