حقوق العباد کے چند پہلو

انسانوں کا خالق و مالک اور حقیقی حکمران اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہے، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق و مالک کی ہی ’’بندگی‘‘ کرے۔ بندگی سے مراد اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ اس کے دو حصے ہیں: ایک حقوق اللہ اور دوسرا حقوق العباد۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ حقوق اللہ کو کماحقہ ادا کرنے کے لیے حقوق العباد کی ادائیگی ضروری ہے۔ اسی لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے حقوق معاف کرسکتا ہے لیکن اپنے بندوں کے حقوق سے روگردانی معاف نہیں کرتا، یہ گناہ صرف اسی وقت معاف ہوسکتا ہے جب وہ شخص معاف کرے جس کی حق تلفی کی گئی ہو۔

ایک اسلامی ریاست میں عوام کے حقوق کا پاسدار اْن کا حکمران ہوتا ہے۔ اسی لیے خلیفۂ راشد حضرت عمرؓ بن الخطاب نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا: ’’خدا کی قسم اگر دریائے دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوک سے مرتا ہے تو میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں۔‘‘ آپ رات کے وقت بھیس بدل کر مدینہ منورہ کی گلیوں میں چکر لگایا کرتے تھے کہ کہیں کوئی فرد بھوکا تو نہیں سورہا۔

کہا جاتا ہے کہ جیسے عوام ہوں ویسے ہی حکمران ان پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ اگر ہمارے حکمران عوام کے حقوق کی پامالی کرتے ہیں تو عوام بھی کون سا ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں! مثال کے طور پر ہمارے یہاں لائوڈ اسپیکر کا بے جا استعمال اس قدر عام ہوچکا ہے کہ سبزی اور پھل فروشوں کے علاوہ گلی کوچوں میں بھیک مانگنے والے بھی اسی کے ذریعے اپنی صدائیں بلند کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے کسی کو یاد نہیں رہتا کہ ان کے اس فعل سے شاید کسی ضعیف اور بیمار کو تکلیف ہورہی ہو۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو شادی بیاہ پر اونچی آواز میں بذریعہ ڈیک گانے چلانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ایسا کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہوسکتا ہے آس پاس کوئی مریض ہو یا کوئی طالب علم اپنے امتحان کی تیاری کررہا ہو۔ اگر انہیں ایسا کرنے سے روکا جائے تو جواب ملتا ہے کہ ہماری مرضی‘ ہماری شادی کی تقریب ہے ہم گانے بجائیں گے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ: ’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے اس کا پڑوسی محفوظ رہے۔‘‘ لیکن افسوس صد افسوس کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچاتے وقت ہمارے دل میں ذرا سی بھی خلش محسوس نہیں ہوتی۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا۔ ویسے بھی ہر شہری کا حق ہے کہ اسے صاف ستھرا اور گندگی سے پاک ماحول ملے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ذاتی صفائی ستھرائی کا تو بہت خیال رکھتے ہیں لیکن اپنے آس پاس کے ماحول کی ہمیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔ ہم اپنے گھر کا کچرا اور بعض اوقات کھانے پینے کی بچی ہوئی چیزیں بلا تکلف پلاسٹک کی تھیلی میں بھرکر سڑک پر پھینک دیتے ہیں اور یہ سوچتے تک نہیں کہ راستے میں چلنے والوں کو ایک طرف تو اس سے تکلیف ہوسکتی ہے دوسری طرف گندگی بھی ہوتی ہے۔ساتھ ہی رزق کی ناقدری و بے حرمتی بھی ہوتی ہے۔ اسی کی وجہ سے ہمیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔

حقوق العباد کی ایک اجتماعی شکل ریاست کے حقوق بھی ہیں۔ مثلاً ریاست کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اس کے قوانین کی پابندی کی جائے۔ دنیا کی تمام مہذب قومیں قانون کی پاسداری کرتی ہیں، جبکہ بحیثیت مسلمان ہم پر قانون کی پابندی اور بھی لازم ہوجاتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر قانون کی خلاف ورزی ہمارے یہاں طاقت کا مظہر بن گئی ہے۔ جن قوانین کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کی جاتی ہے وہ ٹریفک کے قوانین ہیں۔ ہم مجبوری کی حالت میں گھنٹوں ایک جگہ کھڑے رہ سکتے ہیں لیکن جب ٹریفک رواں ہوتا ہے تو سگنل توڑنا ہم پر لازم ہے، یعنی اگر ایک منٹ بھی تاخیر ہوگئی تو نجانے کیا ہوجائے گا۔ غرض سگنل توڑنے کے نتیجے میں عوام سینکڑوں حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح ریاست کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ٹیکس ادا کیا جائے تاکہ ملک میں ترقیاتی کام ہوسکیں۔ لیکن ہمارے ہاں ٹیکس ادا کرنیوالوں کی تعداد بھی کم ہے۔ نتیجتاً ملک کی معاشی صورت حال دن بدن کمزور ہوتی چلی جارہی ہے جس کا خمیازہ عوام کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑرہا ہے۔

ایک مسلمان کی حیثیت سے اس ساری ابتر صورت حال کا ایک ہی حل ہے کہ ہم صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی اختیار کریں۔ اس کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ ہم حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور انفرادی طور پر حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی اہتمام کریں۔ اسی طرح ہم دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوسکتے ہیں۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے ہمیں یہ جامع دعا عطا فرمائی گئی ہے:

ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا فرما اور دوزخ کے عذاب سے بچا۔‘‘ll

شیئر کیجیے
Default image
صائمہ جوہر

Leave a Reply