بچہ کی نشو ونما میں والدین کا رول

والدین کا انداز گفتگو، معاملات، رویے اور مختلف معاملوں میں ان کا ردعمل براہِ راست بچے پر اثر ڈالتے ہیں۔

بچوں کی اچھی ذہنی نشو ونما کے لیے درج ذیل باتوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔

۱- گھر کا ماحول پیار بھرا، خوشگوار اور دوستانہ ہونا چاہیے۔ بچے کے دل اور دماغ میں کسی بھی طرح کا خوف یا دباؤ نہیں ہونا چاہیے اور ہر بچے کو گھر میں سوالات پوچھنے کی آزادی بھی ہونی چاہیے اور ان کے سوالات کے معقول اور صحیح جوابات بھی دیے جانے چاہئیں۔ کچھ والدین کا برتاؤ اپنے بچوں کے ساتھ اتنا سخت ہوتا ہے کہ بچے اپنے ماں باپ سے بات کرنے میں ڈرتے ہیں۔ بچوں کو سوال پوچھنے پر ڈانٹ دیا جاتا ہے۔ ٹھیک سے جواب نہیں دیا جاتا ہے،ماں باپ کے ایسے برتاؤ سے بچوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ایسے بچے گم سم رہنے لگتے ہیں اور وہ اپنے اندر پیدا ہونے والے جذبات کو دبا لیتے ہیں، جس سے بچوں کی ذہنی نشو ونما رک جاتی ہے۔

ماں باپ کو اپنے بچوں کو سوال پوچھنے پر اکسانا چاہیے اور بچوں کے تمام سوالات کا جواب پیار سے دینا چاہیے، جیسے اگر کسی بچے نے کسی چڑیا کے بارے میں پوچھا تو بچہ کو اس طرح سے جواب دینا چاہیے کہ وہ اور سوال پوچھیں اور سوچیں۔ بچوں سے کہیں کہ چڑیا کی چونچ کیسی ہوتی ہے اور کہیں کہ کل چڑیا کو دیکھ کر بتائیں۔ اس طرح بچے کسی چڑیا کو دیکھنے کی کوشش کریں گے اور ان سوالات کو دھیان میں رکھیں گے جس سے ان کی ذہنی نشو ونما اچھی ہوگی۔ بچے چار پانچ سال کی عمر سے ہی بہت زیادہ سوال پوچھنے لگتے ہیں اور ان کے ہر سوال میں کیوں ہوتا ہے اور جب تک بچوں کے سوال کا جواب نہیں دیا جاتا اس وقت تک وہ پوچھتے رہتے ہیں، اس لیے والدین کا یہ فرض ہے کہ اپنے بچے کے سوال پر غور کریں اور اس کا اچھی طرح جواب دیں۔

ماں اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی ہے اس لیے اس ماں کو چاہیے کہ وہ گھر کا کام کرتے وقت گھر کی مختلف چیزوں مختلف سامان کے بارے میں تعلیم دے، رنگوں، چیزوں کی شکلوں اور مختلف تصورات کے بارے میں ان کو بتا سکتی ہے جیسے پانی کا استعمال کرتے وقت اس کی اہمیت کے بارے میں بتا سکتی ہے۔ پانی کا استعمال کہاں کہاں ہوتا ہے، اس کو حقیقت میں دکھا سکتی ہے۔ اسی طرح گھر کے مختلف سامانوں کے ذریعے بچوں کو مختلف شکلوں جیسے گول، چوکور، تکون کے بارے میں بتایا جاسکتا ہے۔

سبزیاں کاٹتے وقت بچوں کو مختلف سبزیوں کے نام اور ان کے رنگ اور شکلیں یاد کروا سکتے ہیں۔ سبزی کی اہمیت اور فوائد بتائے جاسکتے ہیں۔

بچے کے ساتھ بول چال کی زبان ایسی ہونی چاہیے جس سے کہ بچہ روز مرہ کی باتوں کو آپس میں جوڑ سکے۔ مثال کے طور پر ایک ماں اپنے بچے کو باہر سے بلاتی ہے اور کہتی ہے کہ جاؤ ہاتھ دھوکر آؤ، بچے کو یہ معلوم ہے کہ وہ ہاتھ دھولے گا تو اس کو کھانا مل جائے گا۔

ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کی عادت اور اس کی دلچسپیوں اور ان کے شوق کو پہچانیں اور دھیان میں رکھیں اور اسی کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کریں۔ بچوں کو کہانی سننے کا شوق ہے تو ان کو ایسی کہانی سنائیں جس سے بچوں کو سبق حاصل ہو۔ اکثر بچوں کو کہانیاں پسند ہوتی ہیں، کہانیوں کے ذریعے بچوں کو بہت کچھ علم دیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ ایک کہانی کے اندر مختلف کردار، مختلف چیزوں کے نام آتے ہیں۔ کہانیوں کے ذریعے بچے بہت جلدی سیکھ جاتے ہیں۔ بعد میں بچے کہانی کو دہراتے اور یاد رکھتے ہیں۔ جس سے ان کی ذہنی نشو ونما پر اچھا اثر پڑتا ہے۔

والدین کا یہ فرض ہے کہ بچوں کو کبھی کبھی گھمانے اور سیر کرانے کے لیے تاریخی مقامات پر لے جائیں اور وہاں موجود چیزوں پر غور کرنے کو کہیں۔ بچوں سے پوچھیں کہ آپ نے کیا دیکھا؟ بچوں کو بازار لے جائیں جس سے بازار میں بچوں کو مختلف چیزوں کو دیکھنے کا موقع ملے گا، بچے گھر آکر ان تمام چیزوں کو دوہراتے ہیں جو جو انھوں نے دیکھا ہوتا ہے جس سے ان کی ذہنی نشو ونما ہوتی ہے۔

ہر بچے کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ اسی طرح بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی سطح بھی الگ الگ ہوتی ہے۔ اس میں اہم چیز بچے کو اور اس کی صلاحیت اور مزاج کو جاننا اور پھر اسے صحیح سمت میں آگے بڑھانے کی کوشش کرنا ہے۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ ماں باپ کو الگ الگ بچے کے لیے الگ طریقہ اپنانے پڑیں۔ لیکن اصل چیز والدین کا رویہ اور ان کی فکر ہے جو اس کام میں انہیں معاونت فراہم کرتی ہے۔ll

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ پروین (ابو الفضل انکلیو)

Leave a Reply