طرزِ زندگی بدلیں، صحت مند رہیں!

ماضی کے مقابلے میں امراض قلب میں مبتلا افراد کی شرح بڑھی ہے۔ کسی بھی حیثیت یا طبقے کے لوگ ان امراض سے محفوظ نہیں ہیں۔ امیر غریب، بچے، بوڑھے سب ہی امراض قلب کا خطرہ رکھتے ہیں۔ یہ امراض ترقی یافتہ اور متمول ممالک کی طرح ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ اب سے کچھ مدت پہلے تک ابلاغ اور علاج کی سہولتیں کم تھیں لہٰذا یہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کتنے لوگ دل کے مریض ہیں۔ وقت کے ساتھ لوگوں میں صحت کا شعور اور صحت مند رہنے کی جستجو بڑھی ہے۔ اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے لہٰذا ہمیں اس بارے میں گھر بیٹھے پتہ چل جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ بات ہم جیسے ممالک کے لیے درست ہو لیکن ان ممالک کی فکر مندی کو کیا نام دیا جائے جہاں نئے طرزِ زندگی، غذائی عادات اور ماحول کے باعث ماضی کے مقابلے میں اب نہ صرف بڑے بلکہ نو عمر افراد بھی خطرات سے دو چار ہیں اور یہ کہ جوں جوں دوسرے ممالک یہی انداز اپنا رہے ہیں، ان میں بھی امراض قلب کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ دل کو بیما رکرنے کے دیگر عوامل بھی ہیں، جو خطرے کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں، طرزِ زندگی اور غذائی عادات کی جدید تبدیلیوں نے ان عوامل کا کام آسان بنا دیا ہے۔

آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ طرزِ زندگی اور غذائی عادات کے اثرات کیا ہیں اور یہ کہ دیگر عوامل امراض قلب سے کیا ربط رکھتے ہیں۔

طرزِ زندگی اور غذائی عادات

ماضی قریب کے مقابلے میں آج کاانسان کئی گنا کم متحرک زندگی بسر کر رہا ہے۔ اگر کسی کو سست یا کاہل کہا جائے تو وہ اس کی مخالفت میں بہت سے دلائل دے سکتاہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے مقابلے میں بہت آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹیکنا لوجی کے فروغ نے ہمارے سارے کام آسان بنا دیے ہیں۔ گھریلو زندگی ہو یا بیرونی مصروفیات، کھیتی باڑی ہو یا صنعتی سرگرمیاں ہر معاملے میں ہمارا مشینوں پر انحصار ہے۔ بلکہ اس زمانے میں سواری کے بغیر سفر کا کوئی تصور نہیں، عمارتوں میں سیڑھیاں موجود ہیں لیکن لفٹ کے بغیر ایک یا دو منزل جانا پسند نہیں کیا جاتا ہے۔ سیڑھیاں چڑھنے کے مقابلے میں اترنا آسان ہے لیکن اس کی بھی زحمت کیوں کی جائے۔ اس صورت میں جو انسان دن بھر مصروف رہنے کے باوجود مجموعی طو رپر چندکلیو میٹر بھی پیدل نہ چلے تو اس کے منفی اثرات سے کس طرح بچ سکتا ہے، جب کہ اس کو عمومی غذا سے ملنے والی توانائی کے صرف ہونے کے لیے اس کا جسمانی طور پر متحرک ہونا ضروری ہے۔ دوسری صورت میں خرچ نہ ہونے والی توانائی چکنائی بن کر جسم میں جمع ہونے لگتی ہے۔ کولسٹرول میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو کہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر وہ فاسٹ فوڈ، چکنی اور مسالہ دار غذائیں، گوشت وغیرہ کھانے کا عادی ہے تو پھر اس کے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے میں کیا کسر رہ جاتی ہے۔ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو ان کے بیمار پڑنے کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ غذا سے زیادہ چاکلیٹ، برگر اور تلی ہوئی اشیاء خوب کھاتے ہیں لیکن نہ تو پیدل چلتے ہیں، نہ ہی کھیل کود میں حصہ لیتے ہیں۔ ٹی وی اور کمپیوٹر نے انہیں گوشہ نشین بنا دیا ہے۔ ایسے بچے بھی بڑوں کی طرح عارضہ قلب کے خطرات رکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آپ کیا اور کتنا کھاتے ہیں۔ خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ اپنی غذا سے ملنے والی توانائی خرچ نہیں کر پاتے ہیں۔ صورتِ حال اس وقت زیادہ پریشان کن ہو جاتی ہے جب غذائی اشیاء آپ کی ضرورت سے کئی گنا زیادہ حراروں پر مشتمل ہوں۔ یہ حرارے نہ صرف آپ کے وزن میں اضافے کا سبب بنتے ہیں بلکہ آپ کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ مختصراً یہ کہا جاتا ہے کہ حصول اور خرچ میں توازن ضروری ہے؟ اگر یہ توازن نہ ہو تو کم خوراک افراد میں بھی عارضہ قلب کا خطرہ بسیار خور افراد کی طرح یکساں ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں یہ عدم توازن بڑھتا جا رہا ہے۔

امراض قلب اور ماحول

امراض قلب کا ماحول سے بھی گہرا تعلق ہے۔ ماحول ہی انسان کی شخصیت تشکیل دیتا ہے۔ وہمی، شکی، چڑچڑے، خوف زدہ اور گھبرائے ہوئے لوگ ماحول کی پیداوار ہوتے ہیں۔ غم و غصہ، جذبات پر عدم قابو اور حسد و رقابت کا جذبہ انسان کے دشمن ہیں۔ یہ ساری کیفیات انسان کے مدافعتی نظام پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان کا تسلسل انسان کو اس تحفظ سے محروم کر دیتا ہے جو اسے قدرتی طور پر حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح در پیش مشکلات اور مصائب بھی منفی اثرات کا سبب بنتے ہیں۔ فطری طور پر ایسی صورت میں انسانی جسم میں مختلف تبدیلیاں ہوتی ہیں، جن کا مقصد خطرے سے نمٹنا ہوتا ہے۔ ماضی کا انسان آج کے انسان کے مقابلے میں ان تبدیلیوں کے منفی اثرات سے اس لیے محفوظ رہتا تھا کہ وہ جن مسائل و مشکلات سے دوچار ہوتا تھا ان سے نمٹنے کے فطری طریقے بروئے کار لاتا تھا۔ اب معاملات کی نوعیت تو یکسر بدل چکی ہے لیکن جسم کا مدافعتی نظام اسی طرح کام کر رہا ہے۔ یہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مخصوص انداز سے اضافی توانائی فراہم کرتا ہے لیکن یہ توانائی خرچ نہیں ہوپاتی ہے بلکہ اندرونی اعضاء اور نظام کو نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتی ہے، خون کے دباؤ میں اضافہ رگوں کی سختی،ذہنی انتشار اس کی چند علامات ہیں۔

برتری کی دوڑ

کچھ یوں بھی ہے کہ آج کے دور میں ہم نے بہت سے مسائل بذاتِ خود اپنے اوپر مسلط کر رکھے ہیں۔ ہر شخص خواہ وہ کتنے ہی بہتر حالات میں کیوں نہ ہو، کسی اور کی حرص میں آگے بڑھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اپنی توانائیوں کے ساتھ اقدار بھی بھلا دیتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی توقعات سے زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس وقت تک وہ جن ذہنی اور جسمانی مسائل میں جکڑ جاتے ہیں۔ عارضہ قلب بھی ان میں سے ایک ہے۔ بلاشبہ معاشرے میں قناعت پسند اور برداشت رکھنے والے افراد بھی ہیں لیکن ان کی بھی کمی نہیں جو اس دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں یا ان کی راہ میں ان دیکھی رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں۔ ان کی یہ محرومی یاسیت میں بدل جاتی ہے جس کے باعث پیدا ہونے والی خرابیاں ایک مرحلے میں امراض قلب کی راہ اختیار کرسکتی ہیں۔ امراض قلب پر تحقیق کرنے والوں نے اب تک جو نتائج اخذ کیے، دنیا بھر کے لوگ ان کی روشنی اور تجویز کردہ راہ عمل پر گامزن ہوکر امراض قلب سے تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر مرزا علی اظہر

Leave a Reply