سٹیفن ہاکنگ

سٹیفن ہاکنگ اس وقت آئین سٹائن کے بعد دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان ہے، اسے دنیا کا سب سے ذہین شخص بھی کہا جاتا ہے۔ سٹیفن ہاکنگ نے کائنات میں ایک ایسا ’’بلیک ہول‘‘ دریافت کیا جس سے روزانہ نئے نئے سیارے جنم لے رہے ہیں۔ اس نے اس بلیک ہول میں ایسی شعاعیں بھی دریافت کیں جو کائنات میں بڑی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ شعاعیں سٹیفن ہاکنگ کی مناسبت سے ’ہاکنگ ریڈایشن‘ کہلاتی ہیں۔ وہ فزکس اور ریاضی کا ایکسپرٹ ہے اور دنیا کے تمام بڑے سائنسدان اسے اپنا گرو سمجھتے ہیں لیکن یہ اس کی زندگی کا محض ایک پہلو ہے۔ اس کا اصل کمال اس کی بیماری ہے۔ وہ ایم ایس سی تک ایک عام درمیانے درجے کا طالب علم تھا۔ اسے کھیلنے کودنے کا شوق تھا، وہ سائیکل چلاتا تھا، فٹ بال کھیلتا تھا، کشتی رانی کے مقابلوں میں حصہ لیتا تھا اور روزانہ پانچ کلومیٹر دوڑ لگاتا تھا۔ وہ 1963ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا کہ وہ ایک دن سیڑھیوں سے نیچے پھسل گیا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں اس کا طبی معائنہ ہوا تو پتہ چلا وہ دنیا کی پیچیدہ ترین بیماری ’’موٹر نیوران ڈزیز‘‘ میں مبتلا ہے۔ یہ بیماری طبی زبان میں ’’اے ایل ایس‘‘ کہلاتی ہے۔ اس بیماری کا دل سے تعلق ہوتا ہے۔ ہمارے دل پر چھوٹے چھوٹے عضلات ہوتے ہیں۔ یہ عضلات ہمارے جسم کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس بیماری کے انکشاف سے پہلے سائنسداں دماغ کو انسانی جسم کا ڈرائیور سمجھتے تھے لیکن بیسویں صدی کے شروع میں جب ’’اے ایل ایس‘‘ کا پہلا مریض سامنے آیا تو پتہ چلا کہ انسانی زندگی کا مرکز دماغ نہیں بلکہ قلب ہے اوردنیا کے تمام مذہب ٹھیک کہتے تھے کہ انسان کو دماغ کی بجائے دل پر توجہ دینی چاہئے۔

دل کے یہ عضلات ’’موٹرز‘‘ کہلاتے ہیں۔ اگر یہ ’’موٹرز‘‘ مرنا شروع ہو جائیں تو انسان کے تمام اعضاء ایک ایک کر کے ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں اور انسان خود کو آہستہ آہستہ مرتے دیکھتا ہے۔ اے ایل ایس کے مریض کی زندگی دو سے تین سال کی مہمان ہوتی ہے۔ دنیا میں ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ سٹیفن ہاکنگ 21سال کی عمر میں اس بیماری کا شکار ہوا تھا۔ سب سے پہلے اس کے ہاتھ کی انگلیاں مفلوج ہوئیں، پھر اس کے ہاتھ‘ پھر اس کے بازو‘ پھر اس کا بالائی دھڑ، پھر اس کے پاؤں‘ پھر اس کی ٹانگیں اور آخر میں اس کی زبان بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئی۔یوں وہ 1965ء میں ویل چیئر تک محدود ہو گیا‘ پھر اس کی گردن دائیں جانب ڈھلکی اور دوبارہ سیدھی نہ ہو سکی۔ وہ 1974ء تک خوراک اور واش روم کیلئے بھی دوسروں کا محتاج ہو گیا۔ آج اس کے پورے جسم میں صرف پلکوںمیں زندگی موجودہے۔ یہ صرف پلکیں ہلا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے اسے 1974ء میں’’گڈ بائی‘‘ کہہ دیا لیکن ہاکنگ نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے زندہ رہنے‘ آگے بڑھنے اور اس معذوری کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان بننے کا فیصلہ کیاچنانچہ اس نے ویل چیئرپر کائنات کے رموز کھولنا شروع کئے تو سائنس حیران رہ گئی۔ کیمبرج کے کمپیوٹر سائنسدانوں نے ہاکنگ کیلئے ’’ٹاکنگ‘‘ کمپیوٹر بنایا۔

یہ کمپیوٹر اس کی ویل چیئر پر لگا دیا گیا۔ یہ کمپیوٹر اس کی پلکوں کی زبان سمجھتا ہے۔ سٹیفن اپنی سوچ کو پلکوں پر شفٹ کرتا ہے۔ پلکیں ایک خاص زاویے اور ردھم میں ہلتی ہیں۔ یہ ردھم لفظوں کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ لفظ کمپیوٹر کی سکرین پر ٹائپ ہوتے ہیں اور بعدازاں سپیکر کے ذریعے نشر ہونے لگتے ہیں چنانچہ سٹیفن ہاکنگ دنیا کا واحد شخص ہے جو اپنی پلکوں سے بولتا ہے اور پوری دنیا اس کی آواز سنتی ہے۔ سٹیفن ہاکنگ نے پلکوں کے ذریعے اب تک بے شمار کتابیں لکھیں۔ اس نے ’’کوانٹم گریوٹی‘‘ اور کائناتی سائنس (کاسمالوجی) کو بے شمار نئے فلسفے بھی دئیے۔ اس کی کتاب ’’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘‘ نے پوری دنیا میں تہلکا مچا دیاتھا۔ یہ کتاب 237 ہفتے دنیا کی بیسٹ سیلر کتاب رہی اوردنیا بھر میں ناول اور ڈرامے کی طرح خریدی اور پڑھی گئی۔

سٹیفن ہاکنگ نے 1990ء کی دہائی میں ایک نیا کام شروع کیا۔ اس نے مایوس لوگوں کو زندگی کی خوبصورتیوں کے بارے میں لیکچر دینا شروع کئے۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں‘ ادارے اور فرمز ہاکنگ کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔ ہاکنگ کی ویل چیئر کوسینکڑوں ‘ہزاروں لوگوں کے سامنے سٹیج پر رکھ دیا جاتا ہے اور وہ کمپیوٹر کے ذریعے لوگوں کو بتاتا ہے ’’اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں‘اگر میں میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں‘ اگرمیں موت کا راستہ روک سکتا ہوں تو تم لوگ جن کے سارے اعضاء سلامت ہیں، جو چل سکتے ہیں جودونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے‘ جوکھا پی سکتے ہیں، جو قہقہہ لگا سکتے ہیں اورجو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں۔ـlll

شیئر کیجیے
Default image
شفیق عثمان

Leave a Reply