بلیو وہیل کا حملہ

اس جان لیوا گیم کا آغاز ۲۰۱۳ میں روس میں استعمال ہونے والی یورپین سماجی رابطوں کی ویب سائٹ Vkontakte یا VK سے ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے یورپ بالخصوص روس میں مقبول ہوگیا۔

’’کھیل‘‘ ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف انسان چاق چوبند رہتا ہے بلکہ اس کی جسمانی اور ذہنی نشو نما بھی ہوتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ ’’جس ملک میںکھیل کے میدان آباد ہوں، وہاں اسپتال ویران ہوتے ہیں۔‘‘ بدلتے وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے۔ یہ ’’اسمارٹ دور‘‘ بن گیا ہے۔ اسمارٹ گھڑیاں، اسمارٹ ٹی وی، امارٹ سوئچ اور اسمارٹ فونز وغیرہ کا شمار اب لوگوں کی بنیادی ضرورتوں میں ہوتا ہے۔ لیکن ان کا درست استعمال جہاں صارفین کی زندگیوں میں کئی آسانیاں پیدا کر رہا ہے وہیں ان کا غلط استعمال نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ بیشتر پریشانیوں کا سبب بھی بن گیا ہے۔ اب بچے میدانوں میں جاکر کھیلنے کے بجائے ویڈیو اور اسمارٹ فونز پر آن لائن گیمز کھیلتے ہیں، چوں کہ ان کا حصول نہایت آسان اور فوری ہے اسی لیے جہاں نظر دوڑائیں، بچوں اور نوجوانوں کی اکثریت آن لائن گیمز میں مصروف نظر آتی ہے۔ برطانیہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ’’سات سے گیارہ فیصد آن لائن گیمز کھیلنے والے افراد ان کے عادی ہوجاتے ہیں، جن میں اکثر چالیس سے نوے گھنٹے تک کھیلتے ہیں۔‘‘

آن لائن گیمز کے بڑھتے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر بھی اس میدان میں کود پڑے ہیں۔ وہ ان گیمز کو بطور ہتھیار استعمال کر کے اپنا شکار تلاش کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی گیمز متعارف کروائے گئے ہیں جو نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوئے۔ لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ ان گیمز میں چند ایسے بھی ہیں جو پلیئرز کو اس نہج پر پہنچا دیتے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ ممکن نہیں ہوتا۔ گیم کھیلنے والے کی جان یا تو چلی جاتی ہے یا وہ خود اپنی جان دینے یعنی خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان میں ٹچ مائی باڈی چیلنج، ڈیوڈ رنٹ چیلنج، پاس آؤت چیلنج، اسٹاپ چاٹ اسٹریکس اور سالٹ اینڈ آئیس چیلنج جیسے گیمز قابل ذکر ہیں، جن میں کھیلنے والے یعنی پلیئرز کو یکے بعد دیگرے چیلنجز مکمل کرنے ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک گیم ’’بلیو وہیل‘‘ بھی ہے، جس نے اب تک سیکڑوں نوجوانوں کی جان لے لی۔

اس گیم کا پہلا شکار آسٹن سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان تھا، جس نے ۲۰۱۵ میں اپنے کمرے میں پھندے سے لٹک کر خود کشی کی تھی اور اس پوری کارروائی کو لائیو اسٹریم یعنی ویڈیو کے ذریعے لائیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شیئر کیا گیا تھا۔ جب کہ گزشتہ سال کے اختتام پر جارجیا سے تعلق رکھنے والی سترہ سالہ نوجوان لڑکی نے پر اسرار طریقے سے خود کو ختم کرلیا تھا۔ اس کی والدہ کے مطابق ان کی بیٹی اپنا زیادہ تر وقت موبائل فون پر گیم کھیلتے گزارتی اور کسی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی تھی۔ اس کے جسم سے وہیل مچھلی کے نشان بھی ملے ہیں جس کی بنیاد پر اس کی ماں نے لڑکی کی موت کا ذمہ دار بلیو وہیل کو قرار دیا۔

اس خطرناک او رجان لیوا گیم کو روس سے تعلق رکھنے والے ’’فلپ بوڈکن‘‘ نامی شخص نے اس طرح تشکیل دیا ہے کہ کھیلنے والا اپنی جان دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ فلپ بوڈ کن نفسیات کا طالب علم تھا، جس نے اس گیم کو اپنے مقالہ کے طور پر تیار کیا، جس کی بنیاد پر یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے جامعہ سے نکال دیا۔ رواں سال مئی میں فلپ بوڈ کن کو ۱۷ جوانوں کو خود کشی پر اکسانے کے جرم میں روس سے گرفتار کر کے تین سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس گیم کو بنانے کا مقصد خود کشی کے ذریعے معاشرے کے فالتو لوگوں کا صفایا کرنا ہے۔ اس نے اس کھیل کا تصور ان وہیل مچھلیوں سے لیا ہے جو خود کشی کی خاطر ساحل کا رخ کرتی ہیں۔‘‘

اس گیم کا طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ اسے کھیلنے والے کو ہدایت کے مطابق فراہم کردہ پچاس ٹاسک مکمل کرنے ہوتے ہیں، ہر ٹاسک مکمل کرنے کے بعد پلیئر کو ان کا دستاویزی اور تصویری ثبوت بھی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ جنہیں دیکھ کر وہیل یعنی کیرئیٹراس بات کا تعین کرتا ہے کہ آیا پلیئر نے مطلوبہ ٹاسک خود مکمل کیا ہے یا تصاویر فوٹو شاپ کر کے ارسال کی ہیں۔ اگر تصاویر فوٹو شاپ کی گئی ہوں تو کیرئیٹر پلیئر کے خاندان والوں کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیرئیٹر پلیئر کے اہل خانہ کو کیسے جانتا ہے، ان تک رسائی کیسے ممکن ہے؟ اس کے علاوہ ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اس گیم کو کہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ یہ گیم یا ایپ، گوگل یا ایپ اسٹور پر عام دستیاب نہیں ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ گیم جان لیوا ہے اور اسے ایک بار شروع کرنے کے بعد واپسی کو کوئی راستہ نہیں تو نوجوان اس کی جانب اتنی تیزی سے کیوں راغب ہو رہے ہیں!!!

واضح رہے کہ روس کے نوجوانوں میں خود کشی کا رواج عام ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہاں ہر سال تقریباً ساڑھے چار سو نوجوان خود کشی کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یورپین سماجی رابطوں کی ویب سائٹ Vkontakte یا VK پر کئی ایسے گروپ تشکیل دیے گئے ہیں، جہاں ارکان کی جانب سے خود کشی کے نت نئے طریقوں پر نہ صرف بحث کی جاتی ہے بلکہ ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ یہ افراد ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں، جو اپنے ارد گرد کے ماحول سے پریشان اور خود کو کمتر تصور کرتے ہیں۔ ان میں جو نوجوان کمزور ترین اعصاب کے مالک ہوں کیرئیٹر انہیں شکا رکے طو رپر منتخب کرتا ہے۔ پرائیوٹ پیغام کے ذریعے اس گیم کا لنک فراہم کرتا ہے۔ چوں کہ یہ نوجوان پہلے ہی کمزور اعصاب کے مالک، جذباتی اور زندگی سے بے زار ہوتے ہیں، اس لیے بہ آسانی اس کی باتوں میں آکر گیم ڈاؤن لوڈ کرلیتے ہیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ پلیئر ایک بار گیم ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اسے ان انسٹال نہیں کر سکتا۔ یہ اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ کیرئیٹر بہ آسانی موبائل یا کمپیوٹر میں موجود پلیئر کی تمام ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ نیز کیرئیٹر ہر ٹاسک سے قبل اور بعد پلیئر سے چند سوالات کرتا ہے، جو اس کی ذاتی زندگی کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ اس طرح کیرئیٹر پلیئر سے متعلق ہر چھوٹی سے چھوٹی اور ضروری معلومات سے واقف ہو جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کچھ بھی ہو پلیئر کو پچاس ٹاسک مکمل کرنے ہوتے ہیں اور اسی صورت میں وہ فاتح قرار پاتا ہے۔ ابتدا میں یہ ٹاسک عام سے ہوتے ہیں جیسے آدھی رات کو جاگنا یا ڈراؤنی فلم دیکھنا۔ لیکن وقتاً فوقتاً ٹاسک مشکل سے مشکل ترین ہوتے جاتے ہیں، جن میں پلیئر کو خود کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے جیسے کہ وہ اپنے بازو پر چاقو سے کیرئیٹر کا بتایا ہوا نشان بناتے، جیسے جیسے ٹاسک مکمل ہوتے ہیں پلیئر کے بازو پر بلیو وہیل کی شکل بنتی جاتی ہے۔ گیم کے پچاسویں ٹاسک میں پلیئر کو خود کشی کرنے کو کہا جاتا ہے ، جس سے انکار کی صورت میں اس کی ذاتی معلومات شائع کرنے اور اس کے اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے پلیئر کے لیے ایک بار گیم شروع کر کے واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔

اگر ہم یہ کہیں کہ یہ پورا عمل برین واشنگ کے زمرے میں آتا ہے تو بے جانہ ہوگا۔ کیرئیٹر کم سن، نابالغ اور ذہنی تناؤ میں مبتلا بچوں کو ہی اپنا شکار بناتا ہے، کیوں کہ ان کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور وہ بہ آسانی کسی کی بھی باتوں میں آجاتے ہیں۔ جو بچہ پہلے ہی کم زور اعصاب کا مالک ہو، ذہنی تناؤ اور اکیلے پن سے گزر رہا ہو اسے سبز باغ دکھائے جائیں تو وہ اس جانب راغب ہوں گے۔ چوں کہ پلیئر اکیلے پن کا شکار ہوتا ہے، ایسی صورت میں صرف کیرئیٹر ہی وہ شخص ہوتا ہے جو پلیئر سے بات چیت کرتا، اس کے دکھ درد بانٹتا اور اس کی ذہن سازی کرتا ہے۔ وہ پلیئر کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ’’وہ ایک ہارا ہوا انسان ہے، جو کچھ نہیں کر سکتا، جس کی کسی کو پرواہ نہیں۔ یہ دنیا اس کے قابل نہیں ہے، اس دنیا سے باہر ایک اور جہان ہے، جہاں اس کی قدر کی جائے گی، اسے اہمیت دی جائے گی۔ وہ خوش نصیب ہے کہ اسے اس جہان کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس لیے وہ یہ راز کسی کو نہ بتائے اور جو کہا جائے وہی کرے، کیوں کہ کسی کو اس کی پرواہ نہیں، اس لیے بہتر ہے خود کو نقصان پہنچائے، اذیت دے اور بالآخر خود کو مار ڈالے، کیوں کہ اسے موت کے بعد ہی جیت ملے گی، ایک بہتر جہان ملے گا جہاں اس کی قد رکی جائے گی۔‘‘

پلیئر کا اس طرح برین واش کیا جاتا ہے کہ پہلے ہی ٹاسک میں وہ کیرئیٹر کی باتوں میں آکر خود کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اس گیم کے کچھ ٹاسک ایسے ہیں جن میں آدھی رات کو جاگنا ہوتا ہے۔ نیند کی کمی کے باعث انسان کے اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں، اس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور ڈراؤنی ویڈیوز دیکھنا او رگانے سننے سے پلیئر کا ذہن ماؤف ہوکر رہ جاتا ہے، وہ خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس کے اعصاب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ سوچنے سمجھنے سے قاصر ہوکر خود کشی کو آخری حل سمجھتا ہے۔ گو کہ اصل کیرئیٹر ’’فلپ بوڈ کن‘‘ کو روس کی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، لیکن اب بھی یہ لنک پرائیویٹ پیغامات کے ذریعے ایک دوسرے کو بھیجا جا رہا ہے۔ اس لیے یہ کہا جائے کہ موجودہ لنک اصل بلیو وہیل کا ہے تو غلط ہوگا، کیوں کہ یہ لنک اصل کیرئیٹر کے علاوہ اور کوئی آگے نہیں بھیج سکتا۔ آج کل جس گیم کا لنک ’’بلیو وہیل‘‘ کے نام سے ارسال کیا جا رہا ہے وہ اصل گیم نہیں بلکہ اسی طرز پر بنایا گیا دوسرا گیم ہے جسے ’’بلیو وہیل‘‘ کا ہی نام دیا گیا ہے، جب کہ بعض کیرئیٹر اس گیم کو دیگر ناموں سے بھی بھیج رہے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں۔ اگر ان کا بچہ اکیلے پن کا شکار ہے، احساسِ کمتری یا کسی ذہنی دباؤ میں مبتلا ہے تو اس سے باتیں کریں، اس کی پریشانی کو بانٹیں، اس کے مسئلے کا حل کریں۔ یہ دیکھیں کہ کہیں اسے اسکول میں تو کوئی پریشانی نہیں، یا گھر کا ماحول تو ایسا نہیں ہے جس کے باعث وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہا ہو۔ کیوں کہ بچے جب والدین سے دور ہوجاتے ہیں تب ہی وہ دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ہم قارئین کے لیے ان پچاس ٹاسک کے بارے میں بتا رہے ہیں، اگر وہ اپنے بچوں میں ان نشانیوں کو دیکھیں تو سائبر کرائم یا متعلقہ ادارے سے رجوع کرے۔

(ماخوذ مڈویک میگزین)

شیئر کیجیے
Default image
وجیہہ ناز سہروردی

Leave a Reply