پیاس بجھاتے چلو! (قسط-۸)

’’السلام علیکم چچی۔‘‘ صبا نے فائزہ کے کچن کے دروازے میں کھڑے ہوکر آمنہ چچی کو سلام کیا۔ وہ تھوڑا جھک کر لائٹر سے چولھا جلا رہی تھیں۔

’’وعلیکم السلام، صحیح وقت پر آئی ہو۔‘‘

’’میں چائے نہیں پیوں گی۔‘‘ وہ انہیں فریج سے دودھ نکالتا دیکھ کر جلدی سے بولی۔ ’’بلکہ لائیں میں آپ کے لیے بھی بنا دیتی ہوں۔‘‘

’’او ہوں۔‘‘

انھوںنے کھولتے پانی میں شکر ڈالتے ہوئے کہا ’’مہمانوں سے کوئی کام کرواتا ہے؟‘‘

’’میں مہمان ہوں۔‘‘صبا نے انگشتِ شہادت سے خود کی طرف اشارہ کیا۔

ہاں سبھی لڑکیاں اپنے والدین کے گھر مہمان ہوتی ہیں… تم فائزہ کے پاس جاکر بیٹھو۔‘‘

صبا فائزہ کے کمرے میں آئی تو وہ اپنے خوب صورت سلکی بالوں میں شیشی سے تیل انڈیل رہی تھی۔ اسے دیکھ کر فائزہ کے چہرے پر خیر مقدمی مسکراہٹ آگئی۔

’’آؤ بیٹھو۔‘‘

فائزہ اپنے بیڈ پر پیر نیچے لٹکا کر بیٹھی تھی۔ تھوڑا سا سائیڈ پر ہوکر اس نے صبا کو بیٹھنے کو جگہ دی۔

فائزہ انگلیوں کی پوروں سے دھیرے دھیرے سر کا مساج کرنے لگی تھی۔

’’تم غالباً یہ دیکھنے آئی ہو کہ ابو کی بابت جان کر خدانخواستہ اگر میں کچھ اب سیٹ ہوں تو میرے ساتھ اپنا وقت Spend کرو اور میری دل جوئی کرسکو… رائٹ؟؟‘‘

فائزہ کے پرسکون انداز میں کہنے پر صبا نے آنکھوں کی پتلیوں کو سکیڑ کر پھر پھیلاتے ہوئے اسے دیکھا۔ وہ پکڑی گئی تھی پر اس نے جھوٹ نہیں بولا۔

’’رائٹ‘‘ اعتراف کرلیا تھا۔ وہ واقعی یہی سوچ کر آئی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ فائزہ بے حد مضطرب و بے چین ہوگی لیکن اس کے برعکس وہ تو بڑی آرام و سکون کی حالت میں نظر آرہی تھی۔ اور نارمل انداز میں اپنے سر میں مالش کیے جا رہی تھی۔

’’میں خود نہیں جانتی میرا دل کیوں اتنا مطمئن ہے…؟‘‘

فائزہ نے اٹھ کر آئینے کے قریب تیل کی شیشی کا ڈھکن بند کر کے رکھا اور آئینے میں دیکھتے ہوئے بالوں میں برش پھیرنے لگی۔ دو گھنٹے قبل ہی اسے مہران کے ذریعے پتہ چلا تھا کہ ابو کس کرائسس میں مبتلا ہیں۔ وہ جب مہران اور صبا کے پاس سے اٹھ کر آئی تھی تب ہلکا سا اضطراب تو تھا دل و دماغ میں۔ مگر اب بالکل نہیں تھا۔ وہ اسی اطمینان سے بالوں میں برش چلا رہی تھی۔

وہ تراویح پڑھ چکی تھی اور شاید صبا بھی نماز پڑھ کر ہی اس کی خبر گیری کے لیے آئی تھی۔

’’اللہ بہت بڑا ہے صبا۔‘‘ اس نے آئینے میں سے اپنی پشت کی جانب بیٹھی صبا کے عکس کو دیکھا۔ ’’اصل رازق وہ ہے، سعودی کمپنیاں نہیں…‘‘ وہ اب چوٹی گوندھنے لگی تھی۔

’’میں اللہ کے بارے میں جتنا زیادہ جاننے لگی ہوں اتنی ہی زیادہ مجھے اس سے محبت ہوتی جا رہی ہے… سچ مچ کسی سے بھی محبت ہونے کے لیے اس کے بارے میں جاننا بے حد ضروری ہے اور اللہ تو وہ ذات ہے کہ جتنا اس کی صفات کو جانیں گے صرف اس کی اچھائیاں اور خوبیاں ہی سامنے آتی جائیں گی اور جتنی خوبیاں نظر آئیں گی ہم اس سے اتنا ہی متاثر ہوتے جائیں گے۔ اسی لیے شاید اللہ کی محبت کے لیے عشق کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ محبت تو ہمیں کبھی کبھی ایسے شخص سے بھی ہو جاتی ہے جو بہت اچھا ہو… لیکن آگے چل کر اس کے بارے میں کچھ ایسا پتہ چلتا ہے جس سے ہماری محبت میں کمی آجاتی ہے۔ لیکن اللہ سے صرف عشق ہی کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اس کے متعلق پتہ چلنے والی ہر بات اس سے محبت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے خوب صورت ناموں سے، اس کی محبتوں ، اس کی محبتوں کے انداز سے، اس کی بے شمار عنایات کی وجہ سے اور اس کے بے پناہ جود و کرم کی برسات کی وجہ سے… ہاہ۔‘‘ فائزہ کی آنکھوں میں الوہی سی چمک تھی ۔ بے حد مہربان رحمن ٹوٹ کر محبت کرنے والا۔ لاڈ اٹھانے والا اور ہماری پکار کا خود انتظار کرنے والا… وہی ہمارا پروردگار ہے۔ اللہ نے جتنی بھی مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے تو انہیں رزق فراہم کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے… اللہ اپنی تمام مخلوقات کی ضروریات کا ذمہ دار ہے۔ وہ بہت خوبیوں اور حمیدہ صفات والا ’’رب‘‘ ہے۔ بولو صبا اللہ دوسرا دروازہ کھولے بنا پہلا دروازہ بند نہیں کرتا۔ اب یہ انسان پر Depend کرتا ہے کہ وہ اس درکو کیسے ڈھونڈتا ہے اور مجھے ابو پر بھروسہ ہے کہ وہ اس نئے دروازے کو ضرور ڈھونڈ نکالیں گے جو اللہ نے ان کے لیے کھولا ہے۔ آخر ابو ایک جستجو کرنے والے محنتی انسان ہیں۔ یہاں آکر ہاتھ پر ہاتھ دھرے تھوڑے بیٹھیں گے۔‘‘

یوں بھی پچھلے ایک سال سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہو رہی ہے پھر بھی گھر تو چل ہی رہا ہے ناں!! جو اللہ پر توکل کرتا ہے تو پھر اللہ بھی اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور جب ہمارا رب ہی ہمارے لیے کافی ہے تو پھر غم کاہے کا۔‘‘

مجھے نہیں لگتا کہ اللہ کے ہوتے ہوئے کسی بھی انسان کو کسی بھی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ نہ اپنے حال کی نہ اپنے مستقبل کی۔ بس آدمی کا کام اتنا ہی ہے کہ اپنے اعمال درست رکھ کر مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرتا رہے۔

میں بہت پرامید ہوں۔ اور اس امید کہ وجہ میرا اللہ سے کثرت کے ساتھ دعائیں مانگنا ہے۔ دعا کو مومن کا ہتھیار کہا گیا ہے اور جس کے ہاتھوں میں ہتھیار ہو اس کے لیے پریشانیوں اور مصیبتوں سے لڑنا کیا مشکل ہے۔‘‘ اس نے چوٹی کو آخری بل دیتے ہوئے ربر بینڈ لگایا اور موٹی سی چوٹی کو کندھے کے پیچھے پھینک دیا۔ کمر پر لمبی سی چوٹی لہرا گئی تھی۔

’’کہاں سے آئی یہ اسپرٹ۔‘‘ صبا اس کے خیالات سے مرعوب ہوگئی تھی۔

’’دورۂ قرآن سے…‘‘ وہ بے ساختہ بولی۔ ’’اُف کیا ایمان افزا تفسیر کرتی ہیں نصریٰ باجی…‘‘ اس نے آنکھیں بھینچ کر کھولی تھیں۔ رمضان میں نصریٰ باجی اپنے گھر پر دورۂ قرآن لے رہی تھیں۔ روانہ کا ایک پارہ مختصر تفسیر کے ساتھ حالاں کہ تفسیر بہت اختصار کے ساتھ ہوتی تھی لیکن پھر بھی قرآن کی ساری آیات نظروں سے گزر رہی تھیں۔ فائزہ نے ایک دن بھی وہ کلاس مِس نہیں کی تھی بلکہ وقت سے پہلے ہی وہاں جا پہنچتی اور جو اللہ کی محبت سے سرشار ہدایت کی طلب میں قرآن کے پاس جاتا ہو پھر اسے ہدایت ہی ملتی ہے۔ وہ قرآن کے پاس سے خالی ہاتھ کبھی نہیں لوٹتا… قرآن کی باتوں سے پھر اس کا ایمان صرف بڑھ ہی سکتا ہے گھٹ تو نہیں سکتا۔ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا تھا اور فائزہ ابھی ایمان کے اس لیول پر تھی جہاں صرف خوشی، سکون اور اطمینان تھا۔

٭٭٭

اس کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخش دیا گیا تھا۔ حیدر مرتضیٰ چاند رات کو انڈیا پہنچ چکے تھے۔ تایا جان، مہران اور پھپھو کے دونوں بیٹے حید رمرتضیٰ کو ریسیو کرنے ایئر پورٹ گئے ہوئے تھے۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے جب انھوں نے گھر میں قدم رکھا…

فائزہ خوشی سے بے قابو دل کو سنبھالتی اپنے ابو سے تادیر لپٹی رہی۔ انھوں نے بھی دلکش و پدرانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے اس وقت تک بانھوں میں بھرے رکھا، جب تک خود اس کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑ گئی۔

حیدر مرتضیٰ جب بھی انڈیا آتے وہ اسی طرح کافی وقت تک ان سے چپکی رہتی اور ساتھ ساتھ روتی بھی جاتی تھی۔ اس کے جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس وقت تو اسے کوئی کچھ نہیں کہتا تھا لیکن بعد میں سارے کزنز مل کر اس کی خوب کھنچائی کرتے۔ خاص طور پر پھپھو کے بچے۔ ان کی دونوں بیٹیاں اور بیٹے مل کر اس کا خوب ریکارڈ لگاتے۔ اس وقت بھی سب لوگ کھڑے اپنے ابو سے ملتا دیکھ رہے تھے اور غالباً منتظر تھے کہ وہ رونا شروع کرے تو اس کو سنبھالیں۔

لیکن خلاف توقع اور خلافِ معمول آج جب فائزہ حیدر مرتضیٰ سے دھیرے دھیرے الگ ہوئی تو اس کی خوب صورت بادامی آنکھیں بالکل خشک تھیں۔ آج فائزہ رو نہیں رہی تھیں بلکہ بھرپور انداز میں مسکرا رہی تھی۔ کیوں کہ اب رونے کی کوئی وجہ نہیں رہ گئی۔ اس کے ابو اب اسے چھوڑ کر سات سمندر پار تھوڑی جانے والے تھے۔

گھر میں چاند رات کی گہما گہمی تو تھی ہی، ساتھ ہی ساتھ حیدر مرتضیٰ کی آمد کی خوشی نے اس رات کی رونقیں بڑھا دی تھیں۔ سارا خاندان ایک جگہ اکٹھا ہوا تھا۔

حیدر مرتضیٰ کے آنے اور جانے والے دن گھر میں اسی طرح رش ہوتا تھا۔ ’’شکر ہے…‘‘ پھپھو کے چھوٹے بیٹے اریب بھائی نے اطمینان کی سانس لی۔

’’اب کسی اور کو بھی ماموں سے ملنے کا موقع مل سکے گا۔ ورنہ مجھے تو خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ فائزہ کو آج ساری رات پورچ میں ہی گزار دینی ہے۔‘‘

اس کے شرارتی انداز پر فائزہ خجل ہوگئی۔ سب کے لبوں پر دبی دبی ہنسی تھی۔

’’پورے پندرہ منٹ کا دورانیہ تھا۔‘‘

ارحم بھائی نے اس کے اتنی دیر تک حیدر مرتضیٰ سے لپٹے رہنے پر چوٹ کی تو وہ مزید کھسیا گئی۔ ارحم بھائی پھپھو کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ اور جتاتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ ’’آپ تو ایئر پورٹ پر ہی ابو سے اچھی طرح سے مل چکے ہوں گے نا!‘‘

فائزہ نے اپنی خجالت مٹاتے ہوئے دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ جواب دیا۔

’’ہم اپنی بات نہیں کر رہے۔ دوسرے افراد بھی اپنی باری کے منتظر ہیں۔‘‘

ارحم بھائی سادہ انداز میں بولے تھے۔

صبا نے آگے بڑھ کر چاچو کو سلام کیا تو جواب کے بعد انھوںنے اسے کود سے لگاتے ہوئے دست شفقت اس کے سر پر پھیرا۔

’’کیسے ہو بیٹے… اور یہ فضا کہاں ہے؟‘‘ انھوںنے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’یہاں ہوں چاچو۔‘‘ فضا آپو کی شوخ آواز ابھری پھر وہ کچن سے برآمد ہوئیں۔ ان کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا جو انھوںنے حیدر مرتضیٰ کی طرف بڑھا دیا۔

’’میری یہ سلیقہ مند بیٹی خدمت سے کبھی نہیں چوکتی۔‘‘

حیدر مرتضیٰ نے فضا آپو کے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوئے کہا۔

’’جی دعائیں لینے کا موقع جو ملتا ہے…‘‘ فضا آپو نے اسی شوخی سے جواب دیا تھا۔ اپنے چاچو حید رمرتضیٰ سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے۔

’’ہوں… سفر میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اور میں سارا راستہ تم بیٹوں بیٹیوں کے لیے خاص دعائیں کرتا آرہا ہوں۔‘‘ (بیٹیوں کے لیے؟؟؟)

’’ایک میں ہی یہاں زیادہ کا ہوں۔‘‘ مہران منہ ہی منہ میں بڑبڑایا جسے سن کر اس کے قریب کھڑا اریب ہنس پڑا۔

’’دیکھیں ماموں… مہران کیا کہہ رہا ہے…‘‘ وہ ہنستے ہوئے ہی بولا تھا۔ ’’سن چکا ہوں۔‘‘ حید رمرتضیٰ نے سکون سے کہا تو مہران قدرے شرمندہ ہوگیا۔

حیدر مرتضیٰ نے فضا آپو کی گود سے کلکاریاں مارتے ہوئے ننھے یاسر کو لیا اور سب لوگوں کے ساتھ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئے۔

’’اریب بھائی! اللہ آپ کو سمجھے… کبھی کبھی آپ بالکل عورتوں والی بلکہ کٹنی عورتوں والی حرکتیں کرتے ہیں۔‘‘ مہران نے برہمی سے کہا۔ اسے اریب کی یہ چغل خوری بالکل پسند نہیں آئی تھی۔

’’تم بھی تو عورتوں والی بد دعائیں دینے لگے ہو۔ ’’اللہ آپ کو سمجھے۔‘‘ اریب نے اس کی نقل اتاری تھی۔

٭٭٭

چند دنوں کے ابر آلود مطلع کے بعد آج صبح چمکتا دمکتا سورج نکلا تھا۔ عید کا دن اپنے ساتھ بے شمار خوشیاں و مسرتیں لے کر آیا تھا۔ عید کے دن وہ سب لوگ تایا جان کے گھر پر ہوتے تھے۔ عید وہیں سلیبریٹ کرتے اور رات کو سارے خاندان کی دعوت ہوتی تھی جو کہ ظاہر ہے حیدر مرتضیٰ کے اعزاز میں مل بیٹھنے کا بہانہ ہوتا تھا۔

فائزہ آج بہت دل لگا کر تیار ہوئی تھی۔ عید الفطر کا دن اللہ کے انعام اور شکر گزاری کا دن تھا۔ آج روزے داروں کو ان کا اجر ملنا تھا۔ ان کی مغفرت ہونی تھی۔ آج کے دن اللہ نے مسلمانوں کو خوش رہنے اورخوشیاں منانے کا حکم دیا تھا۔

اس عید سے قبل فائزہ کسی عید پر سجنے سنورنے کا اتنا اہتمام نہیں کرتی تھی صرف کپڑے زیب تن کیے اور بس کچھ خاص تیاری نہیں ہوتی تھی۔

کچن کا کام اتنا ہوتا تھا کہ وہ ڈھیر ساری جیولری نہیں پہن سکتی تھی۔ اور جب سارا دن کچن میں ہی گزرنا تھا تو تیاری چہ معنی دارد۔ سارا میک اپ پسینے سے دھل جاتا، جیولری الگ بوجھ محسوس ہوتی اور خوبصورت سا ہیئر اسٹائل برباد ہو جاتا۔ لیکن یہ سب پہلے کی سوچ تھی جب اسے معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو بور ہونے یا یونہی گزارنے کو نہیں بنایا۔ اس دن اللہ کی خاطرسجنا سنورنا چاہیے۔ کیوں کہ اسی پیارے رب نے جس کے عشق میں فائزہ مبتلا ہوچکی تھی اس دن خوش رہنے کا اور خوشی کا اظہار کا حکم دیا تھا۔

یہ دن رونے دھونے یا بیزار رہنے کا قطعی نہیں تھا۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں ہر مومن کو اس دن ہنستا مسکراتا ہی رہنا چاہیے۔ سو وہ بھی اپنے رب کے انعام کے دن کی قدر دانی کر رہی تھی۔اور اس دن کو اس بھرپور انداز میں سلیبریٹ کرنے کا بھی پروگرام بنایا ہوا تھا۔ آج اس نے امی کی تیاری پر بھی خاص توجہ دی تھی۔ انہیں سارا زیور پہنایا تھا۔ ورنہ امی عموماً عید کے دن بھی صرف کپڑے اور طلائی کنگن پہن لیتیں اور بس ان کی تیاری مکمل۔

’’ارے یہ سب کیا کر رہی ہوـ۔‘‘ اس نے انہیں زیور تو چڑھا دیا تھا، اب جب ان کا میک اپ بھی کرنے لگی تو انھوں نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اسے روک دیا۔

’’میں کیا نئی نویلی دلہنوں کی طرح یہ چونچلے کرتی اچھی لگوں گی۔ مانا کہ تمہارے ابو آئے ہوئے ہیں لیکن اب یہ سب اچھا نہیں لگتا۔‘‘

’’میں آپ کو ابو کے لیے تیار کر بھی نہیں رہی ہوں۔‘‘ اس نے اطمینان سے انہیں جواب دیا اور ہتھیلی پر بیوٹی کریم نکالی۔

’’پھر کس کے لیے۔۔۔‘‘ اپنے رب کے لیے بنیں سنوریں آپ۔ کیوں کہ آج عید کا دن ہے۔‘‘ اس نے ان کا میک اپ شروع کر دیا تھا۔ امی اب خاموش ہوگئی تھیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ

Leave a Reply