ایک شمع جلانی ہے! (دسویں قسط)

تمھیں ایک مشکل Phase سے گزرنا ہوگا مگر یہ تمہاری بقیہ زندگی کو آسان بنا دے گا۔‘‘ رحمیٰ نے اسے سمجھایا۔

اور غافرہ کی سمجھ میں کچھ کچھ تو آہی رہا تھا لیکن کچھ الجھنیں تھیں جو اب بھی باقی تھیں۔ اور الجھن کیا تھی بس وہی دکھ تھا جو ہر شادی شدہ لڑکی کو شادی کے بعد ایک عرصہ تک رہتا ہی ہے، ایک خود ساختہ سا دکھ اور الجھن ہوتی ہے۔ اس کے اگلے سوال نے رحمیٰ کو چونکا دیا…

’’رحمیٰ باجی… یہ محبت اتنی Frustating (جذبات کو دکھ پہنچانے والی) کیوں ہوتی ہے؟ ’محبت‘ تو وہ ہوتی ہے نا جو آزاد فضاء میں سانس لینے جیسی ہو… محبت میں تسلط تو نہیں ہوتا! پھر شوہر اپنی بیوی پر کیوں اتنا تسلط جماتا ہے؟ وہ کیوں چاہتا ہے کہ صرف بیوی ہی اس کی خاطر بدلے وہ خود بھی کیوں نہیں بدلتا؟ بہت نہ سہی مگر تھوڑا تو بدلے اور زیادہ کچھ نہ کرے مگر اس کی قدر تو کرے… اس کا مان دھیان تو رکھے؟؟‘‘

’’غافرہ اگر وہ یہ سب کرے تو پھر وہ شوہر ہی نہ ہوا‘‘ رحمیٰ نے ہلکی سی زخمی ہنسی کے ساتھ کہا۔

’’یہ محبتیں کبھی Frustating نہیں ہوتیں۔ یہ ہم ہوتے ہیں جو محبت کو پگھلا کر اِسے دکھوں کا ذریعہ اور جذبات کا قاتل بنا دیتے ہیں۔‘‘ وہ ایک لمحے کے لیے رُکی۔

عورت اور مرد کی محبت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ جس دن بیویاں اس فرق کو سمجھ جائیں گی نا اسی دن سے ان کے لیے آسانیاں پیدا ہونے لگ جائیں گی۔ عورت کی فطرت میں اللہ نے نرمی اور محبت ڈال رکھی ہے۔ وہ محبت کرنا جانتی ہے، نیت اور ضرورت میں فرق سمجھتی ہے، وہ خیال رکھتی ہے، Care کرتی ہے اور اپنی محبت کا اظہار بھی کرتی رہتی ہے۔ لیکن مرد کی محبت عجیب ہوتی ہے۔ بیوی کو اس کی محبت کمانی پڑتی ہے، حاصل کرنی پڑتی ہے، اپنی محبت سے وفا شعاری سے، خدمت گزاری سے۔ بے لوث اور بے غرض بننا پڑتا ہے…‘‘ زندگی نے رحمیٰ کو کیسے سبق سمجھا دیے تھے۔ غافرہ بس دم سادھے بیٹھی تھی۔

’’ویسے تو پاکستانی ڈرامے مجھے خرافات ہی لگتے ہیں مگر عمیرہ احمد کے ایک ڈرامہ ’’در شہوار‘‘ میں انھوں نے ایک بات کہی تھی جو مجھے بالکل درست لگی تھی اور حقیقت سے قریب ترین بھی کہ ’’مرد محبت کرنا، خیال رکھنا عادت کی طرح سیکھتا ہے دھیرے دھیرے اور پھر عادت کی طرح ہی اسے کرتا چلا جاتا ہے اور برتنے کا عادی ہو جاتا ہے…‘‘ تو غافرہ تمہیں بس صبر کرنا ہوگا۔

Every true love comes with a price ہر رشتہ میں ایک موقع آتا ہے جب قربانی دینی ہوتی ہے اس رشتہ کی بقاء کے لیے۔

’’شوہر کا گھر ہی عورت کا اپنا گھر ہوتا ہے، زمانہ کے سرد و گرم سے بچانے والا، اسے عزت، تحفظ، محبت، قدر سب کچھ یہیں سے تو ملتا ہے، مگر انتظار اور صبر شرط ہے۔‘‘

رحمیٰ کی باتوں میں ایک روشنی تھی ایک امید تھی۔ اور اللہ بندوں کے لیے روشنی کا انتظام ضرور کرتا ہے۔ کوئی تو ہوتا ہے جو ہمیں صحیح مشورہ دیتا ہے، حقیقت کی دنیا کی باتیں کرتا ہے، مگر سارا مسئلہ ہم ہوتے ہیں اور ہمارے منفی خیالات جو زنجیر بن کر ہمیں روشنی کی جانب بڑھنے سے روک لیتے ہیں…‘‘

غافرہ پر آگہی کے نئے در کھل چکے تھے۔ اس نے جان لیا تھا کہ اپنے حصے کی شمع جلانے کو اسے خود ہی آگے بڑھنا ہوگا۔

سحر ہونے کو تھی، اندھیرا مٹنے کو تھا، اندھیرا مٹنے ہی کے لیے ہوتا ہے۔ ضرورت تو بس ایک روشنی اور اس روشنی کے پیچھے چلنے والوں کی ہوتی ہے۔

٭٭٭

اپنی مرضی سے بھی دو چار قدم چلنے دے

زندگی ہم ترے کہنے پہ چلے ہیں برسوں

’’یہ سب کیا ہے غافرہ…؟ کہاں جا رہی ہو؟‘‘ فائقہ بیگم نے اسے پیکنگ کرتے دیکھا تو قدرے تعجب سے پوچھا۔ پچھلے دو دن سے جب سے وہ خالہ دادی کے گھر رہ کر آئی تھی اسے چپ سی لگی تھی۔ وہ ایک مشکل فیصلہ کرنے جا رہی تھی اور اسی کے لیے خود کو تیار کر رہی تھی۔

’’اپنے گھر‘‘ اس نے خود کو بے نیاز ظاہر کرتے ہوئے مصروف انداز میں کپڑے بیگ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

’’کیا…؟‘‘ابتسام راضی ہوگیا… وہ لینے آرہا ہے…؟‘‘ فائقہ بیگم کی خوشی و حیرت دیکھنے لائق تھی… آہ! یہ خواہش انسان۔

’’نہیں…!‘‘ اس نے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے اطمینان سے کہا… فائقہ بیگم کے اندر خطرے کی گھنٹی بجی…‘‘

’’میں نے الگ گھر کی فضول ضد چھوڑ دی ہے… میں اس ایک نامعقول خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہتی۔ اور ہاں! وہ مجھے لینے نہیں آرہے ہیں خود ہی جا رہی ہوں… ابا مجھے چھوڑ آئیں گے…‘‘

ایک ہوتا ہے خود فیصلہ کرنا اور ایک ہوتا ہے اس فیصلے کو ساری دنیا کے سامنے لاکر اس پر عمل کرنا اور سچ تو یہ ہوتا ہے کہ دونوں میں بڑا فرق ہے…

’’دماغ خراب ہوگیا غافرہ… یہ جو اتنا وقت ایک بات کو لیے بیٹھے رہے، اور اس کے لیے کوششیں کیں اسے ایک فضول ضد کہہ کر سب پر پانی پھیر دیا۔ ہوش کر ذرا۔ یہ سب اتنا آسان نہیں۔ یوں منہ اٹھا کر سسرال چل دوگی تو کوئی عزت و قدر نہیں رہے گی۔ تم کیا سمجھتی ہو وہاں سب تمہیں آنکھوں پر بٹھائیں گے، اس سب کے بعد ؟ الگ گھر لے دے گا تو کچھ آسانی ہوگی۔ ہم مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں نا پھر یہ کیا نیا بھوت سوار کر لیا خود پر؟‘‘ فائقہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے اٹھا کر کہیں غائب کردیں تاکہ اسے اس فیصلے سے باز رکھ سکیں۔

غافرہ نے خاموشی سے ان کی بات سنی۔ ایک گہری سانس لیتے ہوئے بیگ کی زپ بند کی اور دھیرے دھیرے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے سامنے آکھڑی ہوئی… نہ جانے اس کے چہرے پر ایسا کیا تھا کہ فائقہ بیگم نظریں چرا رہی تھیں۔

’’امی… آپ میری ماں ہیں۔ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں، آپ کی عزت کرتی ہوں، میںنے آپ کی ہر بات مانی ہے۔ اللہ تمہاری جوڑی سلامت رکھے، دعاؤں کے چھاؤں میں رخصت کرنے والی بیٹی کو عمر بھر کے لیے دھوپ کی سزا کیوں دینا چاہ رہی ہیں آپ؟ آپ میری ماں ہیں میں آپ سے بدتمیزی نہیں کر رہی لیکن مجھے بتائیے کہ کیا میں نے اپنی زندگی کے سارے اہم فیصلے آپ لوگوں کے اختیار میں نہیں دے رکھے تھے۔ میری شادی کا فیصلہ آپ نے کیا تھا، ابتسام کو آپ نے میرا ہم سفر بنایا تھا، پھر یہ سب کیوں ہوا امی؟ bloming gameنہیں ہے یہ… مگر جب اولاد، چاہے بیٹا ہو یا بیٹی، شادی شدہ ہو یا نہیں لیکن لڑکھڑاتے قدموں کے وقت یا اس وقت جب ان کے قدم بھٹکنے لگتے ہیں ماں باپ سے ہی یہ امید ہوتی ہے کہ وہ ان کے لیے روشنی کریں۔ شایدیہ حقیقت سے بالا امید ہو۔ مگر یہ توقع ہوتی ہی ہے۔ مانتی ہوں کہ میری غلطی تھی۔۔۔اور ۔۔۔‘‘

نظر نہ لگے غافرہ کے انداز کو … وہ بڑی نرمیسے فائقہ بیگم کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیے بول رہی تھی… اس کی آنکھوں میں نمی تھی…

’’آپ میرے والدین ہیں اور ابتسام میرا شوہر … اور طلاق کو بڑا ناپسندیدہ اور تباہ کن عمل ہے امی… ہاں اگر وہ شرابی، جواری ہوتاّ اس کے کردار میں جھول ہوتا، وہ مجھ پر ظلم و ستم کرتا، میرے حقوق ادا نہ کرتا تب کوئی بات تھی… مگر ایسا تو کچھ نہیں ہے… تو کیا بس میں اپنی انا اور دوسروں کی ضد کے لیے اپنا گھر توڑ دوں؟ …‘‘ فائقہ بیگم بت بنی اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ لمحہ شاید آگہی کا لمحہ تھا جو انہیں احساس ہو رہا تھا کہ ان کی اندھی محبت ان کی بیٹی کی زندگی سے روشنی نگل رہی تھی… دروازہ کے پردہ کو پکڑ کر کھڑے ابا، چائے کا کپ ہاتھ میں لیے دیوار کو ٹیک لگائے عفان اور دوسرے کمرے کی کھڑکی سے کان لگائے بیٹھی سویرا سبھی خاموش اور ساکت تھے اور وہ جو پچھلے لمبے عرصے سے خاموشی لبوں پہ لیے پھر رہی تھی اب بولنے لگی تھی اور جو کچھ وہ بول رہی تھی سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل تھا۔

’’امی میں سوچتی تھی کہ اللہ نے شوہر کو اتنا رتبہ کیوں دیا؟ اسے مجازی خدا بنا دیا… اس کو بیوی پر حاکم بنا دیا… حالاں کہ قربانیاں زیادہ بیوی دیتی ہے، خالص محبتوں بھرے رشتوں اور جان سے عزیز ماں باپ کو چھوڑ کر دوسرے گھر جاتی ہے۔ اس گھر کو بساتی ہے، شوہر کے ماں باپ، اس کے گھر والوں کا خیال رکھتی ہے، دس باتیں سنتی ہے، اپنا آپ تک بھلا دیتی ہے لیکن پھر بھی شوہر کو اتنا مقام دے دیا کہ اگر انسان کو سجدہ کرنے کا حکم ہوتا تو بیوی کو حکم دیا جاتا کہ شوہر کو سجدہ کرے… لیکن اب مجھے سمجھ میں آگئی۔ اس تمام عرصے میں مجھے سمجھ میں آگئی۔‘‘ غافرہ اب بھی اپنے ٹھنڈے ہاتھوں سے فائقہ بیگم کی نم ہوتی ہتھیلیوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ محبت بھرا اس کا یہ انداز اور دھیما دھیما اس کا لہجہ فائقہ بیگم کو پگھلائے جا رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا اب وہ اپنی بیٹی سے دوبارہ نظریں ملا پائے گی!!

’’عورت شوہر کے گھر میں بھلے دس باتیں سنے اور اپنا وجود بھلا دے لیکن جب تک وہ اس چہار دیواری کے اندر ہوتی ہے ساری دنیا کو اس کا وجود یاد رہتا ہے۔ وہ قابل عزت ہوتی ہے اور دنیا والوں کے ہر شر سے محفوظ رہتی ہے… باپ کے بعد اس کے وقار کو برقرار رکھنے والا، اس کا تحفظ کرنے والا اور خیال رکھنے والا اس کا شوہر ہی ہوتا ہے…‘‘ وہ جو آنسووں کا گولااس کے حلق میں اس کے لفظوں کو نم کر رہا تھا اس نے دھیرے سے اسے پیچھے ڈھکیلا…

’’مجھے اس بات کا احساس ہے کہ یہ فیصلہ آسان نہیں… اور سچ ہے کہ انسان کو جو کچھ بھلائی عطا ہوتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جن مشکلوں میں وہ پڑتا ہے اس کا ہی کیا دھرا ہوتا ہے۔ یہ سب میری اپنی غلطی ہے۔ مجھے اس مشکل کا مقابلہ کرنا ہے اور بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور یہ کہ اللہ نہیں ڈالتا کسی انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ۔ تو انشاء اللہ یہ وقت بھی گزر جائے گا …‘‘ سب دم سادھے اسے دیکھ رہے تھے… یہ غافرہ تو نہ تھی … غافرہ تو بہت عام سی لڑکی تھی … یہ کون سا روپ تھا اس کا اور لوگ بھول جاتے ہیں کہ جب عورت مضبوط ارادہ باندھ لیتی ہے اور تبدیلی کے لیے قدم اٹھاتی ہے تو اس کا روپ اور اس کا انداز آفاقی ہو جاتا ہے۔

فائقہ بیگم نے نرمی سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا اور وہی ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا۔ اس کی ہمت بڑھ گئی … ایک محبت بھرا لمس اپنی پشت پر محسوس کر کے پلٹی تو اپنے باپ کو دیکھا۔ وہ اس کا سہارا بنا کھڑا تھا، محبت، تحفظ، احترام کا احساس دلاتا ایک بوسہ جو اس کے بھائی نے اس کی ہاتھ کی پشت پر لیا تھا… وہ سب اس کے ساتھ تھے۔ اس نے اللہ کا شکر ادا کیا ورنہ اگر اس کے فیصلے کی جم کر مخالفت بھی کی جاتی تب بھی اس کو یہی قدم اٹھانا تھا مگر اللہ نے مدد کردی تھی۔

’’میں ابتسام کے دل میں بھی اپنی جگہ بنالوں گی، سب سے معافی بھی مانگ لوں گی اور اپنے عمل سے خود کو ثابت کروں گی اور انشاء اللہ محبت کے رنگوں سے سجائے گھر میں اس تلخ عرصے کی یاد آخر وقت تک ان کے قریب نہ پھٹکے گی۔‘‘ اس نے مطمئن انداز میں سوچا اور یہ سوچتے وقت وہ بھول گئی کہ انسان مشقتوں میں پیدا کیا گیا ہے، وقت نے اس کے لیے کچھ اور پلان کر رکھا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply