سکھ چین بنو، سکھ چین!

باپو باتیں بہت مزے کی کرتے ہیں، سادہ اور دل نشین۔ باپو پہلے ایک وکیل کے پاس منشی ہوا کرتے تھے، پھر کسی کمپنی میں بھرتی ہوگئے اور پھر ریٹائر مگر اس کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھے۔ کہیں سے ٹائروں کی مرمت کا کام سیکھ لیا اور اب تک یہی کر رہے ہیں۔ بچوں کو پڑھایا لکھایا، ان کی شادیاں کیں لیکن کسی کے دست نگر نہیں رہے۔ آزاد سجا منش اور درویش۔ صبح سویرے اشنان کرتے ہیں پھر پوجا پاٹ اور پھر شہر کی ایک خستہ حال سڑک پر اپنی دکان لگا لیتے ہیں۔ سیدھا سادہ لباس پہنتے ہیں، بہت کم خوراک، کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ باپو بغیر کھائے پئے زندہ ہیں۔

ایک دن میں نے پوچھا،باپو کچھ کھاتے پیتے بھی ہیں آپ…!!

مسکرائے اور کہنے لگے: تو کیا سمجھتا ہے، میں فرشتہ ہوں کیا۔ میں انسان ہوں، انسان، کھاتا پیتا جیتا جاگتا۔

کیا جو کھائے پئے اور جیے وہ انسان ہوتا ہے؟ میں نے پوچھا۔

اب تو دوسری طرف جا رہا ہے، سیدھی طرح کیوں نہیں کہتا کہ آؤ باپو بات کریں۔

ہاں یہی سہی۔ دیکھ کھاتے پیتے تو جانور بھی ہیں، لیکن انسان دوسروں کو اپنے کھانے پینے اور جینے میں شریک کرتا ہے، دوسرے کا دکھ درد اپنا سمجھ کر محسوس کرتا ہے، کوشش کرتا ہے کہ زندگی کے چار دن سب ہنس کھیل کر گزار دیں۔ سب سکھی رہیں۔ دکھ درد ختم ہوں، راحت اور آرام آئے اور سب نہال رہیں۔ انسان کا وجود انسانوں ہی کے لیے نہیں جانوروں کے لیے، پرندوں کے لیے حتی کہ درختوں اور زمین کے کیڑے مکوڑوں کے لیے بھی باعث رحمت ہوتا ہے۔ ارے پگلے، وہ ہوتا ہے انسان، زمین پر اتارا گیا انسان۔ دریا دل اور سخی، بس اس کی گدڑی میں لعل ہی لعل ہوتے ہیں۔ بانٹتا چلا جاتا ہے اور دیکھ جو بانٹتا ہے اس کے پاس کبھی کم نہیں ہوتا۔

کیوں…؟ میں نے پوچھا:

اس لیے کہ کائنات کا خالق بھی یہی کرتا ہے۔ خزانے لٹاتا رہتا ہے۔ ہر ایک کو دیتا ہے۔ ہر ایک کی ضرورت پوری کرتا ہے جب انسان یہ کرنے لگے تو خدا اس کی مدد کرتا ہے۔ وہ اپنے پیسے پر، اپنی لیاقت پر، اپنی ذہانت پر یا اپنی طاقت پر بھروسا نہیں کرتا، وہ تو بس اپنے رب پر بھروسا کرتا ہے، وہ تیرا مکرانی دوست کیا اچھی بات کہتا ہے۔

کون سی بات باپو؟ وہی دانے دار چونچ والی۔

ہاں ہاں یاد آیا مجھے، دادا محمد جسے ہم سب پیار سے داؤد کہتے ہیں، کہتا ہے:

’’جس مالک نے چونچ دیا ہے وہ دانا بھی دے گا، ورنہ اپنا دیا ہوا چونچ بھی واپس لے لیں گانیں، جس دن دانا ختم تو چونچ بھی واپس۔

دیکھ کیسی اچھی بات کہتا ہے وہ۔ اپنے رب پر بھروسا اسے ہی کہتے ہیں۔ مولا پر توکل کہ ملے گا اور ضرور ملے گا، دیر تو ہوگی، پر ملے گا ضرور۔ کیوں نہیں ملے گا وہ تو سارے جہانوں کی ساری مخلوق کو پالتا ہے۔ تجھ سے کیا دشمنی ہے اس کی، اس کی تو سب سے دوستی ہے، سب کو دیتا ہے، دے گا۔ تو انسان اسے کہتے ہیں جو اپنے پالن ہار کی صفات اپنائے، سخی ہو، رحم دل ہو، معاف کر دیتا ہو، سب کے لیے اچھا چاہے، کوئی بھی ہو، کہیں کا بھی ہو، کسی بھی مذہب کا ہو، برائی کے پاس نہ جائے اور برے کو بھی سینے سے لگائے، اسے سمجھائے، دیکھ تو اچھا ہے، تیرا فعل اچھا نہیں ہے۔ چھوڑ دے اسے، نیکی کر اچھائی پھیلا، خوشیاں بانٹ۔

اور باپو اگر کسی کے پاس دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہو تو؟

یہ تجھے کیا ہوگیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان ہو اور اس کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو۔ چڑیاکے پاس چہچہانا ہے، چہچہاتی ہے۔ کوئل کوکتی ہے، کتا انسان کی رکھوالی کرتا ہے، بکری، گائے، بھینس دودھ دیتی ہے تو دنیا جہاں کی نعمتیں بنتی ہیں۔ درخت سایہ دیتا ہے، پھل دیتا ہے اور پھر اس کی لکڑی سے دنیا جہاں کا ساز و سامان تیار ہوتا ہے، اب تو جس جس چیز کے بارے میں سوچتا چلا جائے گا اس کی سخاوت تیرے سامنے آتی چلی جائے گی۔ انسان تو مخلوق میں سب سے اعلیٰ ہے۔ اس کا وجود کائنات کی ساری مخلوق کے لیے رحمت ہے۔ رحمت ہی رحمت، چاہت ہی چاہت وہ سب کو دیتا ہے۔

… لیکن باپو اس کے پاس کچھ ہوگا تو دے گاناں؟

پھر ناسمجھی والی بات۔ ارے نا سمجھ تو کیا سمجھتا ہے۔ دولت، پیسہ، طاقت ہی سب کچھ ہے۔ نہیں۔ ہر چیز تو پیسے سے نہیں خریدی جاسکتی، تجھے یاد ہے وہ ایک ملنگ ہوتا تھا چاکی واڑہ میں، کیا نام تھا اس کا؟

’’ہاں ہاں وہی۔‘‘ باپو، وہ بس ایک ہی بات کرتا تھا ’’سکھ چین بنو، سکھ چین بنو۔‘‘

دیکھ کیسی اچھی بات کرتا تھا وہ کہ سکھ چین بنو لوگوں کے لیے سکھ چین بنو، تمہیں دیکھ کر دوسرے خوش ہوں۔ گڑنہ دو تو گڑ جیسی بات کرو۔ نفرت کے سامنے محبت بن کر کھڑے ہوجاؤ۔ اپنے لوگوں میں جیو، انہیں بے یار و مددگار نہ چھوڑو۔ بس یہ ہوتا ہے انسان۔

اور باپو یہ جوہر جگہ انسان انسان کو مارتا پھرتا ہے، وہ انسان نہیں ہوتا کیا…؟

نہیں، بالکل نہیں۔ وہ کہاں سے انسان ہے بھائی!!؟ کیوں باپو؟ انسان ہی تو ہوتا ہے؟؟

تو بہت نادان ہے، اتنی سی بات تیرے پلے نہیں پڑ رہی۔ جو انسان دوسروں کو دکھ دے، قتل کردے، ان کی خوشیاں چھین لے، مسکراہٹیں چھین کر لوگوں میں رونا بانٹے، لوگوں کے لیے روگ بن جائے وہ انسان نہیں رہتا، انسان کے روپ میں چلتی پھرتی مصیبت بن جاتا ہے اور مصیبت سے چھٹکارے کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ ’’اے میرے مولا اپنی امانت واپس لے لے۔‘‘

مجھے تو باپو کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ کو سمجھ میں آگئی ہے تو مجھے بھی سمجھائیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد اللطیف ابو شامل

Leave a Reply