4

درد کا رشتہ

دیکھنے میں وہ عام عورتوں جیسی تھی۔ دبلی پتلی، پھرتیلی، بدن پر چربی کا نام نہیں، جذبات سے عاری۔ اُس کے چہرے کو دیکھ کرلگتا تھا کہ اپنے چھوٹے سے خاندان کے شب و روز کے تقاضے اور ضرورتیں پوری کرنے کے علاوہ اورکوئی خیال اُس کے ذہن میں آہی نہیں سکتا۔وہ بِلاناغہ ہر روزصبح سویرے اُٹھ کرایک روبوٹ کی طرح کام میں جٹ جاتی ۔۔۔۔۔۔شوہر اور بچوں کے لئے ناشتہ اور ٹفن کے ڈبے تیار کرنے کے بعد دونوں بچوں کو نہلا نا، یونیفارم، جوتے وغیرہ پہناکر اسکول کے لئے تیار کرنا، شوہر کو ضرورت کی چیزیں فراہم کرانا اس کے روز مرہ کے کام تھے۔ وہ بچوں کے یونیفارم ایک دن پہلے ہی دھو دیتی۔ رات گئے سوکھے ہوئے کپڑوں پر استری پھیر کراگلی صبح کے لئے تیارکرکے رکھ دیتی تھی۔

گھریلو اُمور کا سلسلہ تھا کہ کبھی ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ شوہر اور بچوں کے چلے جانے کے بعد گھر بھر میں بکھری پڑی چیزوں کو سمیٹنے اور بقیہ کام نپٹانے میںکافی وقت گزر جاتا۔جیسے تیسے شام چار بجے سے پہلے سارا کام نپٹا کر باہری دروازے پرجا کھڑی ہوتی۔۔۔۔۔۔ کالج یا دفترسے واپس آتی ہوئی نوعمر لڑکیوں اور عورتوں کو دیکھنااُسے بہت اچھا لگتا تھا،یہ اُس کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ اُن میں اپنی شبیہ تلاش کرتے اکثر یادِ ماضی میں کھو جاتی۔تصور میںبیتے دنوں کی یادیں تازہ ہو جاتیں۔ اسکول میں شروع سے ہی اُس کی کار کر د گی بہت اچھی رہی تھی۔ مستقبل کو لے کراپنے ننھے سے ذہن میںجانے کتنے منصوبے بنا رکھے تھے کہ چشمِ زدن میں اُس کی زندگی کے راستے تبدیل ہوگئے ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی دسویں جماعت میں قدم رکھا تھاکہ اس کے لئے ایک رشتہ آگیا اور اچانک اُس کی شادی کر دی گئی تھی ۔وہی گھسا پٹا قول اس کے معصوم منصوبوں کی راہوں میں آڑے آگیا تھا کہ ’’اچھے رشتے بار بار نہیں ملتے۔‘‘ بہرحال سولہ سال کی عمر میں اس کی گود میں ایک بچی آگئی۔ اگلے دو سال کے اندر اندرایک اور بچے کی ماں بن گئی، زندگی شوہر اور بچوں میں سمٹ کر رہ گئی۔

اُس کا شوہر آدیش عمر میں اُس سے دس سال بڑا تھا۔ شادی بڑوں کی مرضی سے ہوئی تھی۔ تاہم اُسے اپنی بیوی اوشاسے ہمدرددی تھی۔وہ اُس کا دکھ سمجھتا تھا۔ اوشاکے جنونِ شوق کو دیکھتے ہوئے آدیش نے شادی کے فوراََ بعد اُسے اسکول میں داخلہ دلانا چاہا لیکن ماں کی سخت مخالفت کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے ۔

پرانی عادت کے مطابق وہ اخبار اور دیگر کتابوں کا مطالعہ تو خیر کیا کرتی، ساس کے رعب و دبدبے کے مارے اِس قدر سہمی رہتی کہ گھڑی دو گھڑی کے لئے اپنے کمرے میں جاکرآرام کر نے میں بھی خوف آتا تھا۔نصاب کی کتابیں، رسالے ،ناول اور دیگر کتب سے ناطہ کب کا ٹوٹ چکا تھا۔کبھی میکے جانا ہوتا تو ان کتابوں کو حسرت سے تکاکرتی جنہیں وہ کسی آنجہانی عزیز کی ان مٹ یادوں کی طرح اپنے ہاتھوں سے بڑے جتن کے ساتھ الماری میں سجا آئی تھی ۔

دو مہینے قبل ماںکے گزر جانے کے بعد آدیش نے اُس کے آرام کی خاطر ایک نوکرانی کا انتظام کرنا چاہالیکن اوشا گھریلو کام کاج کی اِس قدر عادی ہو چکی تھی کہ صاف منع کر دیا۔در اصل آدیش چاہتا تھا کہ وہ پرائیویٹ طور پرپہلے دسویں کا امتحان پاس کرلے،بعد ازاں کالج میں داخلہ لے لے۔ اُس نے کہیں ٹیوشن کی بات بھی چلا رکھی تھی۔ لیکن اوشا اتنی پچھڑ گئی تھی اور اُس کی خوداعتمادی اِس قدر متزلزل ہوچکی تھی کہ اس کے اندراِس نہج پرآگے قدم بڑھانے کی ہمت مفقود ہو گئی تھی۔ تاہم اپنے ذہن میں کچھ منصوبے با ند ھ رکھے تھے کہ جب بھی کسی نابالغ لڑکی پر کوئی زیادتی ہوتے ہوئے دیکھے گی فوراََ اُس کی مخالفت میںاپنی آواز بلند کرے گی اور تب تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک لڑکی کی گلو خلاصی نہ ہوجائے ۔

اس کے بے لوث ارادوں کی ستائش کرتے ہوئے آدیش نے اسے خندہ پیشانی سے سمجھایا تھا کہ اس نوعیت کی مُہمّات کے لئے بہت ساراحوصلہ اور ہمت درکار ہے جو صرف اعلیٰ تعلیم کے ذریعے ہی دستیاب ہوسکتا ہے۔اس کا کہناتھا کہ اپنے نیک اِرادوں کی تکمیل کے لئے باقاعدہ تعلیم حاصل کرکے وکالت کا پیشہ اختیار کرنا سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اُن پر خلوص مشوروں کے جواب میں وہ زور سے ہنس پڑتی کیونکہ یہ ساری باتیں اُسے خواب جیسی لگتی تھیںلیکن شوہر کی آنکھوں میںجھلکتے ہوئے عزم اور حوصلے کو دیکھ کر اُس کی باتوں پر یقین کرلینے کو جی چاہتا۔

٭٭٭

اُسے اپنے میکے گئے ایک لمبا عرصہ ہوگیا تھا۔ آخرکارماں کے پیہم اِصرار پرموسم گرما کی تعطیل میں بچوں کو ساتھ لے کرمیکے جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ دیکھ کر اوشا کوبہت افسوس ہوا کہ گاؤںکے ماحول میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔رات کو کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر ماں نے بڑے شوق سے صندوق کے اندررکھی ہوئی ایک لڑکی کی تصویر نکال کر دکھائی۔ ماں کا پرجوش چہرا دیکھتے ہی اوشا کواندازہ ہو گیا تھاکہ اُس کے بیٹے کے رشتے کی کہیں بات چلی ہے۔ اُس کا ایک ہی تو بھائی تھا۔ تصویر پر نظر پڑتے ہی اوشاکے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ ایسا لگا جیسے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہو۔ تصویر میںصاف نظر آرہا تھاکہ لڑکی بمشکل پندرہ سولہ برس کی ہوگی ۔

ماں اور بیٹے کو لڑکی بہت پسند آئی تھی ۔اگلے مہینے شادی کی تاریخ پکی کرنے والے تھے۔ پہلے تو اوشا نے دبی زبان سے احتجاج کیا۔ اُن کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ با آوازِبلند مخالفت پر اُترآئی تو ماں ایک دم بپھر کر بولی۔’’ یہ مت بھول کہ تیری شادی بھی پندرہ برس کی عمر میں ہوئی تھی اورتیرا شوہر تجھ سے دس سال بڑا تھا۔ شکر منا کہ آج تیری زندگی مکمل اور کامیاب ہے ۔بھگوان کی کرپا سے اتنی چھوٹی عمر میں دو بچوں کی ماں بن گئی ۔ایک عورت کو زندگی میںاور کیا چاہئے !‘‘

بھلااوشاکیسے بھول سکتی تھی کہ کمسنی میںبچے پیدا کرنے اوراپنے ناتجربے کار ہاتھوں سے اُنہیں پال پوس کر بڑا کرنے میں اُسے کس قدر جسمانی تکلیف و ذہنی اذیت سے دوچارہونا پڑا تھا۔ فوراََ بولی۔’’ماں!اب زمانہ بدل گیا ہے۔ایک عورت کی زندگی میں صرف شادی شوہر اور بچے ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ ویسے ان مرحلوں سے ہو گزرنے کی بھی ایک مناسب عمر ہوتی ہے۔ ہنسنے کھیلنے کے دورمیں ایک لڑکی پر اتنی بھاری ذمہ داری کا بوجھ لاد دینا سراسر ظلم ہے۔‘‘

ماں نے اپنا ماتھا پیٹتے ہوئے کہا۔ ’’ مچھلی کے بچے کو تیرنا سکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی!جب عورت کے روپ میں جنم لیا ہے توبچے جننا، پالناپوسنااورگھریلو ذمہ داری اُٹھانے کا سلیقہ رفتہ رفتہ آہی جاتا ہے۔‘‘

اوشابے حد رنجور آوازمیں بولی جیسے عمرِ رفتہ کو آواز دے رہی ہو۔’’کہنا بہت آسان ہے ۔اپنی ہی مثال لے لیںلیکن آپ شاید بھول گئی ہیں کہ یہ سب کچھ جھیلتے ہوئے اُسے کہاں کہاں سے گزرنا پڑتا ہے !!‘‘

اب کے بھائی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔’’ دیدی!زمانہ چاہے جو بھی ہو، عورت تو عورت ہی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب اُس لڑکی کے سرپرست تیار ہیں توبھلا آپ کوکیوں اعتراض ہے؟ میں تو سوچتا ہوں کہ بڑے بھاگ ہیں میرے جومجھے سولہ سال کی ایک نازک کلی مل گئی ہے۔‘‘

بھائی کی آنکھوں میں اُس کمسن لڑکی کے لئے مچلتے ہوئے جذبات کوملاحظہ کرکے اُسے بہت برا محسوس ہوا۔ ایسا لگا جیسے سرِبازارکسی دوشیزہ کے تقدس کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہو۔بہرحال ایک مدلل بحث کے ذریعے ماں اور بھائی دونوں کو باور کرانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ اُن پر کوئی اثر نہ ہوتے دیکھ بالآخر دھمکی دینے پر اترآئی کہ اُسے کچھ کر گزرنے کے لئے مجبور نہ کریں ۔۔۔۔۔ بے جاظلم سے باز رہیں ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔

اوشا کے عجیب و غریب رویہ پر ماں بیٹے دونوں ششدر رہ گئے تھے۔اُنہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخرو ہ لڑکی اُس کی کیا لگتی ہے اور اُسے ہو کیا گیا ہے جو سگے بھائی کے مقابلے میں کسی غیر کے ساتھ ہمدردی جتانے چلی ہے ۔اب اوشا اُنہیں کیونکر بتاتی کہ یہ نہ تو خونی رشتے داری کا معاملہ ہے نہ کچھ اور بلکہ یہ تو درد کا رشتہ ہے جس سے وہ خود ایک عرصہ پہلے ہو گزری تھی اوراُس حادثے کی تلخ یادیں ذہن میں ہنوزتازہ تھیں۔

لاکھ سمجھانے کے باوجود ماں اور بھائی کو اپنے موقف پر ڈٹے دیکھ کروہ بے دلی کے ساتھ واپس چلی آئی۔لیکن واضح کر آئی تھی کہ چاہے جو ہو جائے وہ یہ رشتہ کبھی نہیں ہونے دے گی۔ ماں بیٹے دونوںکو اوشا کی باتوں سے یقین ہوگیاکہ وہ اپنی دھمکی کو عملی جامہ ضرور پہنائے گی۔

میکے سے واپس آنے کے بعداو شا بہت دل گرفتہ رہنے لگی تھی۔ معاشرے میں کتنا کچھ بدل گیا ہے لیکن افسوس، کچھ لوگوں کی سوچ آج بھی وہی دقیانوسی اصولوں میں اٹکی ہوئی ہے۔ ماں کے مطابق یہ کوئی زیادتی یا ظلم بالکل نہیںتھا۔وہ تواِسے نوشتہء تقدیر گردانتی تھی۔ دراصل خوداپنی زندگی میں اُس نے کچھ اِسی نوعیت کے حالات کاسامنا کیا تھا۔ شاید پرکھوں کی اسی گھسی پٹی رسم کو نبھانے کی خاطربیٹی کو بھی وہی سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور کیاتھا۔

آنے والی پیڑھی کی بہبود کی خاطر اپنے گاؤں میں صدیوں سے چلے آرہے ان فرسودہ حالات کواوشا یکسر بدل ڈالنا چاہتی تھی۔ایک موہوم سی اُمید بندھی تھی کہ وہ باز آجائیں گے ۔دنیا میں لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے! ڈھونڈنے پر ایک معقول اور اچھی سی لڑکی مل ہی جائے گی، اوراُس نے تو اپنے بھائی کے لئے باقاعدہ ایک اچھے خاندان کی، سگھڑ اور پڑھی لکھی دلہن کی تلاش شروع کر دی تھی۔

شام کو اچانک آدیش نے ایک رنگین لفافہ لا کراُس کے ہاتھ تھما دیاجس کے مطابق کل اُس کے بھائی کی شادی اُسی لڑکی کے ساتھ ہونے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اور اُسے مطلع نہیں کیا گیاتھا۔ صاف ظاہر تھا کہ کڑے اعتراض کے نتیجے میں اُسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا تھا۔اسے اپنی ماں اور بھائی سے یہ اُمید قطعی نہیں تھی۔ مارے غم، افسوس اور بے بسی کے اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

آدیش نے اُس کاہاتھ تھام کر مضبوط لہجے میں کہا۔ ’’ اگر ظلم کو نیست و نابود کردینا تمہارا مقصدِحیات ہے تو تمہیںظالم یا مظلوم کی شخصیت سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے ورنہ عین موقعے پر میری طرح کمزور پڑ جاؤگی ۔۔۔۔۔ ۔دانشور کہہ گئے ہیں کہ اچھے کام کی شروعات اپنے گھر سے کرنی چاہئے۔‘‘

ہاتھوں میںلفافہ اور ذہن میں ایک عجیب سی کشمکش لئے ہوئے با دِلِ نخواستہ وہ گھر سے نکلی اور سیدھے مہیلا پولیس تھانہ پہنچ گئی ۔سارا معاملہ با تفصیل تھانہ انچارج کے گوش گزار کر دینے کے بعد اُس کے دل ودماغ پر سے جیسے ایک بھاری بوجھ ہٹ گیا۔ پھر اُس نے سنا کہ پولیس نے قانون کی حفاظت کرتے ہوئے فوری طور پراُن لوگوں کے خلاف ضروری ایکشن لیا ہے۔

حالاںکہ یہ جان کربہت برا لگا کہ اُس کے ذریعے فراہم کردہ شادی کے دعوت نامے کی بِنا پر اِس شاخسانہ سے متعلق سبھی افراد کو پولیس وین میں بٹھا کر تھانے لے جایا گیا۔ چوںکہ جرم ابھی سرزد نہیں ہوا تھااِس لئے سب کوایک سخت وارننگ دے کر رہا کردیا گیا تھا۔لڑکی کے ماں باپ کو خصوصی طور پرتنبیہ کی گئی کہ وہ اس کارروائی سے باز رہیں اور لڑکی کی تعلیم کا سلسلہ بحال کیا جائے ورنہ نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہونگے۔ بہرحال اُس کی بے لوث اور بر وقت مداخلت کے نتیجے میںغیر قانونی شادی کے زیر اثرایک معصوم زندگی برباد ہونے سے بچ گئی۔

دوسرے دن شہربھر کے اخباروں میں اِسی خبر کے چرچے تھے۔۔۔۔۔۔۔امن اور انصاف کی بحالی کے لئے دستور بنانامجلس آئین ساز کا کام ہوتاہے لیکن کوئی بھی قانون اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہوسکتاجب تک کہ سرکار کو عام رعایا کا تعاون نہیں ملتا ۔ نا انصافی ،ظلم و حق تلفی کے انسداد کے لئے خوداپنے سگے بھائی اور ماں کے خلاف قدم اُٹھانے کی جرات پر اُس کی پزیرائی کرتے ہوئے اس غیر معمولی اقدام اور نادر حوصلے کی کھلے عام سراہنا کی گئی تھی۔

اوشا کو ملال تھا کہ اُس کی وجہ سے ماں اور بھائی کو پولیس تھانے کی صورت دیکھنی پڑی ۔لیکن کیا کرتی مجبور تھی۔ مگراس بات کی تسلی تھی کہ اپنی ماں اوربھائی کے ہاتھوں پاپ ہونے سے بچ گیا۔تاہم اِس وقوعہ کے بعدوہ اپنے اندر ایک زبردست تبدیلی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔ ایک ناقابلِ بیان سرور و طمانیت کے ساتھ ساتھ ایک انوکھا ولولہ اور جوش اُس کے رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا۔

علاوہ ازیںاُسے ادراک تھا کہ آدیش نے جان بوجھ کر اُسے اکیلے پولیس تھانہ جانے دیا تھا تاکہ اُس کا اعتماد بحال ہو اور سارا کریڈٹ صرف اُسی کو ملے لیکن اوشا کی نظروں میں ساراکریڈٹ تو وہ ۔۔۔۔۔۔۔صرف وہ لے گیا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شاہدہ شاہین

تبصرہ کیجیے