خواب گزیدہ

میرے ارد گرد، اوپر نیچے، اندر باہر، ہر وقت غصیلے خواب بھنبھناتے رہتے ہیں، مجھے ڈستے رہتے ہیں، کیوں کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی تعبیر کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔

میں بار بار جھلا کر انہیں انگلیوں کی آہنی گرفت میں پکڑ پکڑ کر اپنے سے الگ کر کے دور پٹختا ہوں، لیکن وہ انتہائی ڈھیٹ پن سے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر، واپس پلٹ آتے ہیں اور مجھے پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے جکڑ لیتے ہیں۔

میں تنگ آکر ایک دن بازار میں نکل پڑا ور آوازیں لگانے لگا:

’’میں اپنے خواب بیچنا چاہتا ہوں۔ لے لو، میرے خواب لے لو۔‘‘

ہزاروں آتے جاتے افراد میں سے کسی ایک نے بھی مجھ پر ایک اچٹتی نظر ڈالنے کی زحمت نہ کیـ۔

میں نے لالچ کا جال پھینکا۔

’’بالکل مفت،بلا قیمت لے لو، میرے خواب لے لو۔‘‘

میں گونگا تھا یا ہر کوئی بہرہ تھا۔

شاید خوابوں کا دور ختم ہوچکا ہے۔ آدم زاد نے سمجھوتا کرلیا ہے۔ اس نے زمینی حقیقتوں کی دلدل میں رہنا اور جینا سیکھ لیا ہے اور اسی میں خوش ہے۔ اس کو خوابوں کی ضرورت نہیں رہی۔

میرا گھر، ایک تاریک بجھا بجھا کمرہ ہے۔ میں اپنے بیوی بچوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے روز مرتے دیکھتا ہوں اور اپنے آپ سمیت، اپنے خوابوں کو گالیاں دینے لگتا ہوں۔ گھر سے باہر ہر چوراہے پر چمک دار ریپروں میں سجے جھوٹ، خوابوں کے نام پر دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ انہیں خریدنے والوں کا ایک ہجوم ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑ رہے ہیں۔ لیکن تنگ و تاریک گلیوں میں زخمی خواب اوندھے منہ پڑے سسکتے رہتے ہیں۔

میں کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتا ہوں، لیکن …

’’میں بار بار اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میں کہیں وقت کے کسی غلط لمحے میں تو پیدا نہیں ہوگیا؟‘‘

پھر ایک دن مجھے پاگل پن کا دورہ پڑا اور میں نے انتہائی بے رحمی سے ایک ایک خواب کو پکڑا، ایک بوسیدہ ٹوکرے میں بھرا اور اوپر ایک وزنی پتھر رکھ دیا کہ کوئی ایک خواب بھی باہر نہ آسکے۔

میں نے ٹوکرے کو سر پر رکھا اور نکل پڑا۔

میں نے اپنے آپ کو تاریخ کی گھسی ہوئی بوسیدہ اینٹوں پر قدم قدم ماضی کا سفر کرتے پایا۔

وہ اپنے گھر کے باہر ننگی کھردری زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس کے پاؤں جوتوں سے محروم تھے، اس کی کھچڑی داڑھی الجھی ہوئی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں صبح کے سورج کی دھوپ جھلملا رہی تھی۔

وہ ہرگزرنے والے کو اشارے سے اپنی طرف بلاتا اور بے تکلفی سے اس سے گفتگو کرنے لگتا، پھر اپنی جھولی سے مہکتے پھول نکال کر ان کے دامن میں ڈال دیتا۔ نئی نسل پھولوں کی خوش بو سے مسحور نظر آتی۔

میں کچھ دیر کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا، پھر ہچکچاتا ہوا اس کے قریب ہوگیا۔

وہ ایک اجنبی کو دیکھ کر ایک لمحہ چونکا، پھر اس کے چہرے پر اپنائیت کی مسکراہٹ پھیل گئی۔

اس نے بے تکلفی سے ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا۔

میں نے رو رو کر اپنا دکھ سنانا شروع کر دیا۔

وہ حیرت آمیز دلچسپی سے میری داستان سنتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں آہستہ آہستہ شک کا گدلا سمندر اترنے لگا، اسے یقین کرنے میں تامل ہو رہا تھا۔

سب کچھ سن کر وہ عجیب بے رخی سے بولا:

’’عجیب بات ہے، تم خوابوں سے تنگ ہو، تم ان سے نجات چاہتے ہو؟ جانتے ہو، یہ کائنات بھی ایک خواب کا ثمر ہے۔ مجھ سے رہا نہ گیا، اس کے لیے میرے دل میں جو احترام تھا، مر چکا تھا۔

’’تمہیں تمہارے خوابوں نے کیا دیا؟ تمہیں زہر کے پیالے تک لے گئے۔‘‘

وہ بے ساختہ ہنس پڑا۔

’’کیا تم ہمیشہ زندہ رہوگے؟‘‘

میری گردن نفی میں ہل گئی۔

اس کی آنکھیں شفاف برف کی مانند چمکنے لگیں۔

’’جب ہر ذی روح کا انجام موت ٹھہرا تو پھر مدت کو اہمیت کیوں دی جائے؟

زہر پی کر مرنا، بستر پر ایڑیاں رگڑرگڑ کر مرنے سے بہتر نہیں۔‘‘

سوال بڑا مشکل تھا میرے پاس اس کا جواب نہیں تھا لیکن مجھے احساس ہو گیا تھا کہ یہ شخص پرانی دنیا کا ہے، میرے مسائل نہیں سمجھ سکتا۔ میرے کام کا نہیں۔

میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے مجھے روکنا مناسب نہ سمجھا۔

باہر گلی میں زہر میں لتھڑے خواب سسک رہے تھے، ان کا کوئی رونے والا نہ تھا۔

میرے اندر کی بے چینی میں اضافہ ہوگیا تھا۔

اپنے خوابوں سے نجات کی ایک ہی صورت نظر آرہی تھی ’’موت‘‘۔

انسان موت کے معاملے میں ہمیشہ بزدلی کا مظاہرہ کرتا چلا آیا ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ میں بھی بزدل تھا، میں وہ نہیں ہوں۔

میں اپنے سرپر ٹوکری اٹھائے بوجھل قدموں سے چلتا رہا۔

آبادی معدوم ہوگئی۔ میں زندگی سے اور دھڑکتے انسانوں سے بہت دور نکل آیا۔

میرے ارد گرد ایک لامنتہاہی دہکتا صحرا تھا۔ باد سموم کے تھپیڑے۔ مجھے جھلسا رہے تھیـ۔ میری آنکھوں میں دہکتی ریت تھی، خوابوں کا ٹوکرا میرے سر پر تھا۔

صحرا کے عین بیچ میں ہر شے سے بے خبر ایک شخص نما ہیولا زمین اور آسمان کی وسعتوں میں لٹکا ہوا تھا۔

میں ٹھٹک گیا، پھر اسے پہچان لیا۔

یہ وہی تھا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ اس کے سر پر کانٹوں کا تاج تھا اور اس کے جسم کے ایک ایک خلیے سے خون رس رہا تھا۔

میں اپنے آپ کو جھاڑتا پونچھتا، اس کے قریب پہنچ گیا۔ میں منتظر تھا کہ وہ جھکا ہوا سر اٹھائے اور مجھے دیکھ لے۔ کافی دیر کھڑا رہنے کے بعد میں نے انگشت شہادت سے اسے چھوا۔ خون کی ایک تیز دھار پھوٹی اور مجھے سرسے پاؤں تک لہولہان کر گئی۔ اس نے آنکھیں کھول دیں۔ مجھے دیکھا اور مسکرا دیا۔ میں نے زندگی میں اتنی زخمی، اتنی مظلوم مسکراہٹ کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ بول رہا تھا، اس کے ہونٹوں سے خون میں ڈوے الفاظ ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔

’’تم خوش نصیب ہو، تمہیں یہ انمول دولت ملی ہے، اسے سنبھال کر رکھنا، دیر ہے، اندھیر نہیں ہے۔ انہی کی خوش بو سے انقلابات پھوٹتے ہیں۔ انقلاب کے بغیر انسان ایک جگہ منجمد ہو کر رہ جاتا ہے۔

میری مایوسی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ میں بہت سارے سوالات پوچھنا چاہتا تھا۔ میرے سامنے دھندلی ہوا کا ایک ہیولا تھا۔ آسمان اور زمین کی وسعتوں میں معلق۔ میں کافی دیر کھڑا رہا کہ شاید وہ واپس اپنے وجود میں لوٹ آئے۔ وہ تھا بھی یا نہیں! میرا ذہن تانے بانے بننے لگا۔ سر پٹ دوڑتے وقت کی دھول نے ہر چیز کو معدوم کر دیا ہے۔ نئی دنیا کا ایک ذرہ بھی وہ نہیں، جو کبھی تھا۔

میں نے تپتے آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں۔ ایک سرد آہ میرے ہونٹوں سے نکل گئی۔

میں پھر چل پڑا۔ چلتا رہا۔ میرے سر پر سات آسمانوں کا بوجھ تھا اور میرے پیروں میں سات زمینوں کی دلدلیں تھیں۔ صحرا ختم ہونے میں نہ آرہا تھا۔ باد سموم انتہائی بے رحمی سے مجھے چھیل رہی تھی۔

میرے اندر ایک عجیب کھردرا سا اطمیان سرایت کرنے لگا۔

’’اچھا ہے، مجھے موت آجائے گی۔ یہ دہکتا صحرا اور سلگتی بادِ سموم مجھے مجھ سے نجات دلادے گی۔

زندگی میں پہلی بار میرے اندر چھپا ہوا موت کا خوف مرنے لگا تھا۔ میں جاں بلب گر کر مرنے والا تھا کہ اچانک دور، صحرا کے کنارے ایک نخلستان کے آثار دکھائی دینے لگے۔ میں پھر سے گرتا پڑا چلنے لگا۔

شدید تپش کے بعد سایہ میسر آیا تھا تو برداشت جواب دے گئی اور میں بے ہوش ہوکر گر گیا۔ نہ جانے کتنی صدیوں بعد حواس لوٹے اور ہونٹوں اور زبان کی سختی میں کمی محسوس ہوئی۔ میں زندہ تھا، لیکن میرے خوابوں کا ٹوکرا اب بھی میرے سر پر تھا۔

ایک نرم، شفیق ہاتھ ٹھنڈے کپڑے سے میرے ہونٹوں، میری آنکھوں پر زندگی کے پھاہے رکھ رہا تھا۔ میرا سر اس کی آغوش میں تھا۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو اس ہاتھ نے نرمی سے روک دیا۔ ’’لیٹے رہو، تم تھک گئے ہو، میں تمہیں پہچانتا ہوں۔ تمہارا زندہ رہنا بے حد ضروری ہے۔‘‘

میرے لیے چپ رہنا مشکل ہو رہا تھا۔

’’آپ ایک کامیاب انسان ہیں۔ کہاں میں، کہاں آپ۔‘‘

جلالی چہرے پر دم بھر کے لیے سرخی آئی اور غائب ہوگئی۔ کامیابی ایک اضافی شے ہے۔ اپنے ارد گرد لوگوں کے دبیز پردے ہٹا کر دیکھو، ان کے اند رجھانکو، پھر بتانا کہ میں کس حد تک کامیاب ہوں۔‘‘

مجھے اس نور میں لپٹے چہرے پر مایوسی کے آثار نظر آئے۔

میں جسمانی طو رپر راحت محسوس کر رہا تھا۔ میرے ذہن پر پھوار برس رہی تھی۔ میں خنک خوش گوار گھاس پر لیٹا تھا۔ میرے ارد گرد اوراوپر سرسبز درختوں پر پرندے چہچہا رہے تھے۔ دور کہیں سے بہتے پانی کی موسیقی سنائی دے رہی تھی۔ میری قوت لوٹ آئی تھی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اور پھر چلنے لگا۔ میرا ٹوکرا اب بھی میرے سر پر تھا۔

ایک کے بعد ایک، سمندر پر سمندر پار کیے۔ کئی پہاڑوں کی برفیلی چوٹیاں سر کیں۔ اس دوران میرے خواب، کرخت آوازوں میں سوالات کر رہے تھے، انہیں کوئی جواب بھی مطمئن نہیں کر سکا تھا۔ وہ ویسے ہی بے چین اور بے قرار تھے۔

اب میں ایک عجیب و غریب ساحل پر پہنچ گیا تھا۔ سمندر کی لہریں چمکتی چاندی تھیں۔ ہوا میں جھولتے درخت سونے کے تھے۔ پھل، پھول، ہیرے، جواہر۔

ایک وحشی ہجوم، ان درختوں پر ٹوٹا پڑ رہا تھا۔ ہرکوئی اوپر چڑھنے کی کوشش میں دوسروں کو بے رحمی سے نیچے دھکیلنے کی کوشش میں تھا۔ کچھ خوش قسمت، جو بلندی پر پہنچ گئے تھے، انہیں ان سے اوپر والے آگے بڑھنے سے روک رہے تھے۔ ایک عجیب غیر انسانی افراتفری کا عالم تھا۔ سب کی آنکھیں تھیں، کان تھے لیکن سب اندھے اور بہرے تھے۔

ایک شخص ایک بلند چوٹی پر کھڑا اس منظر کر دیکھ دیکھ کر قہقہے لگا رہا تھا۔ اس کا سر اور چہرہ کبھی گدلے بادلوں میں چھپ جاتا تھا، کبھی نظر آنے لگتا تھا۔ وہ زمین کو روندتا ہوا میرے قریب آن کھڑا ہوا۔ کافی دیر تک میری آنکھوں، میرے کانوں، میرے بالوں، میری کھال کا معائنہ کرتا رہا، پھر حقارت اور تکبر سے منہ پھیر کر بولا: ’’تم اس بوجھ کو بے کار اٹھائے پھرتے ہو۔ اس ٹوکرے میں گزرتے وقت کی راکھ کے سوا کچھ نہیں رکھا۔‘‘ ایک ہم خیال ملا تھا۔

میں نے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ ’’تم ٹھیک کہتے ہو، کیا تم مجھے ان سے نجات دلا سکتے ہو؟ میں یہ بوجھ اٹھائے اٹھائے تھک گیا ہوں۔‘‘

اس نے سیاہ بادلوں کی گرج سے بھی زیادہ خوف ناک قہقہہ لگایا۔ آہستہ آہستہ اس کا چہرہ اور سر، گدلے بادلوں میں غائب ہوگا۔

میں بے بس نڈھال اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا۔ میرا گھر زمین بوس ہوچکا تھا۔ ملبے سے گہرا دھواں اٹھ رہا تھا، میں نے فیصلہ کرلیا کہ آج ہر صورت اس ٹوکرے سے نجات حاصل کرلوں گا۔

میرے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک تند و تیز نالہ بہتا ہے۔ نالہ طغیانی پر تھا۔ لہریں ہمیشہ کی طرح کناروں سے اچھل رہی تھی۔

’’اب مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘

میں نے قدم بڑھایا۔ سامنے میرا پہلو ٹھی کا بیٹا کھڑا تھا۔ ’’ابا…!‘‘ وہ مجھے حیرت اور دکھ سے دیکھ رہا تھا، پھر اس نے اپنے ہاتھ میرے سر پر رکھے ٹوکرے کی طرف بڑھا دیے۔ ’’اب آپ سے یہ بوجھ نہیں اٹھے گا۔‘‘

وہ ٹوکرا سر پر اٹھائے چل پڑا… اور تندو تیز نالے کی لہروں کو روندتا ہوا پار چلا گیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد احمد

Leave a Reply