چارہ گروں کا معجزہ

مغربی پہاڑی کے جنگل سے شیر کے دھاڑنے کی آوازیں سنائی دیں تو بستی والوں کو پہلی بار فکر لاحق ہوئی۔ وہ اپنے سوالیہ چہرے اٹھائے سنگترے کی پھانکوں کی طرح سرجوڑ کر بیٹھ گئے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ ننھے منے رنگ برنگے پرندوں والے لش لش کرتے سبزہ زا رجنگل میں درندے کہاں سے گھس آئے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں باتوں، سوچوں اور اندیشوں کے تانے بن رہے تھے اور ٹوٹ رہے تھے۔ انہیں اپنی زندگیوں سے بھی زیادہ بھیڑوں کی فکر کھائے جا رہی تھی، جو ان کی زندگیوں کا وہی سرمایہ تھیں او روہی اثاثہ تھیں۔

جب ان کے ہونٹوں پر خاموشی کے پتھر بھاری ہونے لگے تو اس چوکڑی میں بیٹھا ایک نوجوان جھنجلا کر بولا ’’صاحبو! کچھ تو بولو۔ ہماری زہر آلود چپ سے شیر تو دھاڑنا بند نہیں کردے گا، ہم یونہی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو نہ ہماری بھیڑیں محفوظ رہیں گی اور نہ ہم۔‘‘

پہلے تو بوڑھوں نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا، پھر اپنے ہونٹوں پر مصلحت کا دنداسہ جما کر بڑبڑانے لگے۔ ’’تمہاری طرح ہمیں بھی تشویش ہے۔ ہماری رگوں میں بھی خوف کا اندھیرا رینگنے لگا ہے، مگر سب سے پہلے ہمیں جنگل میں جاکر دیکھنا ہوگا کہ شیر کس علاقے میں گھومتا پھرتا ہے اور اس کی گپھا کہاں ہے۔‘‘

اس پر فوراْ ایک او رنوجوان بولا: ’’بابا کمال کرتے ہو؟ ہم وہاں نہتے کیسے جاسکتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی ہتھیار بھی نہیں۔ ہم نے تو کبھی کوئی ہتھیار نہیں رکھا۔‘‘

’’ہتھیار؟‘‘ سب کے سب یک زبان ہوکر بولے مگر پھر خاموشی کے بوجھ تلے دب گئے، جیسے ان کی سوچوں کی کشتی کسی تیز گرداب میں آگئی ہو۔ ایک اور نوجوان کھڑا ہوکر کہنے لگا‘‘ اس میں کیا شک ہے کہ ہمارے پاس ہتھیار نہیں ہیں اور جو ہیں وہ اتنے پرانے ہوچکے ہیں کہ اب ان سے ہم صرف کھیتوں کی نالیاں ہی ٹھیک کر سکتے ہیں۔اب یہ تو ہمارے لیے ممکن نہیں کہ خالی ہاتھوں سے شیر کا گلا گھونٹ دیں۔‘‘

ایک شخص جو بار بار آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نوجوان سے مخاطب ہوا۔ ’’کیا تم معجزوں پر یقین نہیں رکھتے۔‘‘

’’رکھتا ہوں‘‘ نوجوان نے تنک کر جواب دیا ’’مگر چاچا! معجزے آسمان سے نہیں برسا کرتے، ہمارے اندر سے پھوٹا کرتے ہیں، مگر ہم کون سی برگزیدہ بستی کے باسی ہیں کہ معجزے ہمیں بچالیں گے۔‘‘ اس شخص نے غصے سے کھولتے ہوئے کہا۔ ’’بکو مت! منہ پھٹ کہیں کا تجھے کیا خبر کہ ہم ایک برگزیدہ بستی کے لوگ ہیں، کبھی ہم پر من و سلویٰ اترتا تھا۔‘‘

ایک اور شخص نے دونوں کو ٹوکتے ہوئے کہا: ’’کچھ عقل کے ناخن لو۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں، اگر ہم یونہی آپس میں الجھے رہے تو شیر کو قابو نہیں کرسکیں گے، وہ ہماری بھیڑوں کو کھا جائے گا۔‘‘

ایک بوڑھا جو کافی دیر سے چپ کا روزہ رکھے ہوئے تھا۔ پہلی بار گویاہوا۔ ’’یہ شخص ٹھیک کہتا ہے، ہمیں آپس میں نہیں الجھنا چاہیے۔آپس میں الجھنے کا نتیجہ تم نے دیکھ نہیں لیا۔ جب ہمارا قبیلہ بہت بڑا تھا، پھر ہم معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑ پڑے۔ مرنے مارنے سے گریز نہ کیا، جس پر ہمارے قبیلے کا ایک حصہ ہم سے روٹھ کر دوسری بستی میں جاکر آباد ہوگیا۔ آخر اس جدائی سے ہمیں کون سا ثواب ملا۔ میر اسینہ چاک کر کے تو دیکھو اپنوں کے بچھڑنے کا ناسور ابھی تک رس رہا ہے۔‘‘

’’اب کیا مردہ دنوں کی قبریں کھودنے بیٹھ گئے ہو بابا۔‘‘ دوسرا نوجوان پھر بولا۔ ’’اس وقت کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے بچاؤ کے لیے شیر کا خاتمہ کیسے کیا جائے۔‘‘

اس پر کسی نے تجویز پیش کی کہ پہاڑی پر آگ روشن کردی جائے۔ یوں شیر بستی کی طرف رخ ہی نہیں کرے گا۔ بعض کو تو یہ تجویز پسند آئی مگر ایک اور بولا۔ ’’بات تو اپنی جگہ دل کو لگتی ہے، مگر کیا یہ بھی سوچا ہے کہ ہمہ وقت آگ روشن رکھنے کے لیے ہم میں سے ایک نہ ایک کو پہاڑ کی چوٹی پر رہنا پڑے گا۔ کیا اس کام کے لیے ہم میں سے کوئی تیا رہے؟‘‘

سوالیہ چہرے پھر ایک دوسرے کو گھورنے لگے، ایک نوجوان نے بولنے میں پھر پہل کی۔ ’’چاچا! میں اس کے لیے تیار ہوں، مگر اندیشہ یہ ہے کہ شمال سے چلنے والی تیز ہوا کے ساتھ آگ جنگل میں پھیل گئی تو ننھے منے پرندے اور خوب صورت درخت جل کر راکھ ہوجائیں گے، اگر ایسا ہوا تو بہت بڑا عذاب آجائے گا اور اس میں ہم بھی تنکے کی طرح بہہ جائیں گے۔‘‘

’’ہاں ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ سب یک زبان ہوکر بولے، مگر پھر سب چپ ہوگئے، جیسے تمام سوالیہ چہروں نے اپنے ہونٹوں پر مصلحت کے بھاری قفل لٹکا دیے ہوں۔ اتنے میں پہاڑی سے شیر کے دھاڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔ یوں محسوس ہوا، جیسے وہ آوازیں پہاڑ پر سے پھسل کر قریب آرہی ہوں۔ سب ہڑبڑاکر اٹھ کھڑے ہوئے۔ سوالیہ چہروں پر تشویش کی سیاہ لکیریں گہری ہوگئیں۔ اپنے گھروں کی جانب تیز تیز ڈگ بھرتے ہوئے سب ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ بھیڑوں کو باڑوں میں بند کر کے کواڑوں کی کنڈیاں چڑھادو۔ چھتوں پر چڑھ کر دیکھو کہ شیر کس طرف سے آرہا ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے کواڑوں کی آنکھیں بند ہوگئیں اور بستی کی گلیوں میں ویرانی کا خوف رینگنے لگا۔ سورج کی آخری ہچکی کے ساتھ ہی اندھیرے کے سیاہ سانپ پھنکارنے لگے، جس سے بھیڑیں بھی سہم گئیں۔ بند کواڑوں کے پیچھے دبکے ہوئے لوگوں نے سانس روک رکھے تھے، مگر ان کے کان شیر کی دھاڑ پر لگے ہوئے تھے۔

جاں گسل رات کا ایک ایک لمحہ سسک سسک کر گزرا۔ فجر کی اذان ہوتے ہی شیر کی آواز خاموش ہوگئی، جیسے کہیں دور نکل گیا ہو یا اسے نیند آگئی ہو۔ سورج کے آنکھ کھولتے ہی بستی والوں کے سوالیہ چہرے ایک بار پھر سنگترے کی پھانکوں کی طرح سرجوڑ کر بیٹھ گئے اور اپنی اپنی زبانوں پر تجویزوں کے صحیفے کھول کر رکھ دیے۔ ایک نوجوان نے بے قرار ہوکر پوچھا:

’’آخر ہمارے پاس ہتھیار کیوں نہیں کہ ہم خود کو درندوں سے محفوظ رکھ سکیں۔‘‘

ایک بوڑھے نے اس کی طرف پر معنی نظروں سے دیکھتے ہوئے آہ بھر کر کہا:

’’اس لیے برخوردار کہ ہم نے ہتھیاروں سے غلط فائدے اور جائز نقصان اٹھائے ہیں۔‘‘

ایک اور شخص نے اس نوجوان کو سمجھاتے ہوئے کہا: ’’عزیز! ہم بھیڑیں پالنے والے امن پسند لوگ ہیں۔ تم نہیں جانتے کہ اگر ہم اپنے گھر میں ہوں اور ان کی طرف سے لاپروائی برتی جائے تو ان ہتھیاروں کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور وہ اپنے مالک کا ہی گریبان پکڑ لیتے ہیں۔‘‘

’’تو پھر شیر کا خاتمہ کیسے کیا جائے۔‘‘ ایک اور نوجوان جھنجلا کر بولا۔

’’یہی تو ہم سوچ رہے ہیں۔‘‘ وہ شخص پھر بولااور سوچ کے عمیق کنوئیں میں اتر گیا۔ ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ انہیں پہاڑی کے دامن میں دھول اڑتی ہوئی نظر آئی۔ وہ سب کے سب چوکنے ہوگئے۔ پھر انہیں دھول کے پیچھے سے گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دینے لگیں، جسے سن کر وہ لرز گئے۔ چراگاہ میں چرتی ہوئی، بھیڑیں ایک دوسرے پر گرتی پڑتی اپنے اپنے بازوں میں گھس گئیں۔ دھول کے پردوں میں سے نکلتے ہوئے بہت سے گھڑ سواروں کو دیکھ کر بستی والے شش و پنج میں پڑ گئے اور آنکھوں پر ہاتھوں سے چھاؤں کر کے انہیں اپنی طرف آتا دیکھنے لگے۔ پہلے انھوں نے سمجھا کہ شاید کسی دوسرے قبیلے نے ان پر حملہ کر دیا ہے، مگر پھر ایک تجربہ کار آواز نے یہ کہہ کر انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا کہ مسافر ہیں، غالباْ راستہ بھول گئے ہیں۔

قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ تمام گھڑ سوار ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان سے لیس ہیں۔ گھوڑوں سے اتر کر انھوں نے بڑے مشفقانہ لہجے میں بستی والوں کو سلام کیا اور کہا: ’’ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہم تمہارے خیر خواہ ہیں۔ اصل میں ہم شکاری ہیں اور اس وادی میں شکار کھیلنے آئے ہیں۔‘‘

شکاریوں کا نام سن کر سوالیہ چہروں پر پھیلی ہوئی زردی میں سرخی تحلیل ہونے لگی۔ ان کے خشک حلقوم میں تشفی کا شہد ٹپکنے لگا۔ انھوں نے آگے بڑھ کر گھوڑوں کو تھپتھپایا اور گھڑ سواروں کو خوش آمدید کہا۔ اس پر پکی عمر کے اس شخص نے جو بار بار آسمان کی طرف دیکھتا تھا، اپنے نوجوان بھتیجے کے کان میں کہا: ’’کیا تم اب بھی معجزوں پر یقین نہیں رکھتے۔‘‘

اس نے پر انا جواب دہرایا۔ ’’رکھتا ہوں، مگر چاچا! معجزے آسمان سے نہیں برسا کرتے، ہمارے اندر سے پھوٹا کرتے ہیں۔‘‘ بستی والوں کے مشورے سے شکاریوں نے بستی سے باہر سب سے اچھی چراگاہ میں اپنے خیمے نصب کر دیے۔ ان کے اعزاز میں بڑی پرتکلف دعوت کا اہتمام کیاگیا، جس کے بعد رقص اور موسیقی کی محفل بھی ہوئی۔ کچھ بستی والے گھوڑوں کے لیے چارہ بھی کاٹ لائے۔ شکاری اپنی اس مہمان نوازی سے بے حد خوش ہوئے۔ انھوں نے بستی والوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا:

’’وہ آج کے بعد شیر کے معاملے میں بالکل بے فکر ہوجائیں، وہ خود شیر کے شکار کے لیے آئے ہیں اور جب تک شیر کا خاتمہ نہیں کردیتے وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ یہ شیر بڑی غیر معمولی نسل کا ہے۔ بہت ہی چوکنا رہتا ہے۔ سامنے سے آکر حملہ نہیں کرتا اور اگر گھر جائے تو جھاڑیوں میں ایسے چھپ جاتا ہے کہ قریب سے گزرنے والوں کو گمان تک نہیں ہوتا۔

چار روز بعد وہ پہلی رات تھی، جو بستی والوں نے سکون اور بے فکری کے بستر پر گزاری اور تو اور بھیڑیں بھی باڑوں میں سانس روکے بے سدھ پڑی رہیں۔ دن چڑھے بستی والے اس وقت بیدار ہوئے، جب شکاریوں نے ان کے کواڑوں پر دستک دے کر انہیں بتایا کہ وہ شیر کی تلاش میں پہاڑی کے دوسری طرف جا رہے ہیں تو بستی والوں کی آنکھوں میں تشکر کے سورج چمکنے لگے۔ بعض نے آگے بڑھ کر فرط مسرت میں گھوڑوں کو تھپتھپایا، بعض نے اپنے آپ کو ان کے خیموں کی حفاظت کے لیے پیش کیا، اس پر ایک شکاری نے بڑے میٹھے لفظوں میں کہا۔

’’ہم آپ کے بے حد ممنون ہیں، آپ سے صرف اتنی گزارش ہے کہ ہمارے لیے دوپہر کا کھانا تیار رکھیں۔‘‘

شکاریوں کے جانے کے بعد بستی والوں نے اپنے اپنے گھروں سے خرد و نوش کا سامان جمع کیا۔ بہت سی مرغیاں ذبح کیں اور کھانا تیار کر کے مہمانوں کے لیے چشم براہ ہوئے۔ کھانا کھاتے وقت تمام مہمان بہت ہی ممنون ہو رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ وہ شیر کے ممکنہ اڈوں پر نشان لگا آئے ہیں اور کھانا کھاکر وہ اس کی تلاش میں پھر نکلیں گے۔

رات کو بستی والوں نے پھر ایک پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا، جس کے لیے کچھ بھیڑیں بھی ذبح کیں۔ کھانے کے بعد وہ رات گئے تک اپنے مہمانوں کے ساتھ اپنے بچھڑے ہوئے قبیلے کی باتیں کرتے رہے اور شیر کے بارے میں اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے رہے اور شکاریوں نے ان کی جھولیوں کو یقین دہانی کے پھولوں سے بھر کر رخصت کیا۔ اس رات بھی شیر بہت دھاڑا، مگر بستی والوں نے کوئی کان نہ دھرے کہ انہیں اس امر کا یقین تھا کہ دھاڑ سن کر شکاریوں نے اپنے ہتھیاروں کے رخ پہاڑی کی طرف کر لیے ہوں گے۔

شکاری ہر روز شیر کی تلاش میں پہاڑی کی پرلی جانب جاتے اور خالی ہاتھ لوٹتے۔ انہیں خالی ہاتھ دیکھ کر بستی والوں کے چہروں پر مایوسی کی گرد جم جاتی، جسے وہ شکاری امید کے پلو سے پونچھ ڈالتے۔ بستی والوں نے اپنے محسنوں کی خدمت گزاری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ وہ صبح شام ان کی ضیافت کے لیے بھیڑیں ذبح کرتے۔ ان کے گھوڑوں کے لیے چارہ کاٹتے، دیگر چھوٹی موٹی مطلوبہ چیزیں فراہم کرتے اور اس گھڑی کا انتظار کرتے، جب وہ اپنے سامنے پڑی گٹھڑی بنی شیر کی لاش کو چھو سکیں گے۔ اس انتظار میں انہیں نئی فصل کی بوائی، جوان بچوں کی شادی اور بھیڑوں کی نسل کشی کا بھی ہوش نہ رہا۔ وہ سارا دن یا تو شکاریوں کی ضیافت کا اہتمام کرتے یا پھر پہاڑی کے دامن سے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اڑتی ہوئی دھول کو دیکھتے رہتے، مگر شیر کے دھاڑنے میں کوئی فرق نہ آیا۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا جیسے اس کی خونخوار آوازیں پہاڑی کو پھلانگ کر بستی کی گلیوں میں بکھر گئی ہیں، کبھی کبھی وہ مایوس بھی ہوجاتے، مگر ہمہ وقت آسمان کی طرف دیکھنے والا پکی عمر کا شخص انہیں تسلی دے کر کہتا: ’’فکر مت کرو۔ معجزہ ضرور ہوگا۔‘‘

آخر ایک روز جب بستی والے ضیافت کا اہتمام مکمل کرنے کے بعد شکاریوں کی آمد اور ان سے کسی خوش خبری سننے کے منتظر بیٹھے تھے کہ معجزے کے انتظار کرنے والے پکی عمر کے شخص کا بھتیجا سیاہ بوجھل بادل کی طرح پھٹ پڑا اور شیر کی طرح بپھر کر بولا: ’’ہمیں کچھ اپنی بھی ہوش کرنی چاہیے۔ کاہے کو ہم شیر کے پیچھے دیوانے ہو رہے ہیں۔‘‘

تمام سوالیہ چہروں پر ناگواری کی گرم گرم شکنیں ابھر آئیں، ایک بوڑھا بولا: ’’کیا بکتے ہو؟‘‘

’’ٹھیک بکتا ہوں۔‘‘ نوجوان کی نیلی رگیں پھول کر سرخ ہوگئیں۔ ’’آخر ہم خوامخواہ بے وقوفی کی دلدل میں کیوں دھنستے جا رہے ہیں۔ کیا ہم میں سے کسی کو بشارت ہوئی ہے کہ اجنبی لوگ ہمیں شیر کے حملے سے بچالیں گے؟ آپ یقین مانیں، جنہیں ہم اپنا دوست سمجھتے رہے، حقیقت میں وہ ہمارے دشمن ہیں۔‘‘

’’بکو مت‘‘ ایک اور بوڑھا بولا۔ ’’جن کے منہ سے ابھی دودھ کی بو نہیں گئی وہ ہمیں دانش سکھانے آئے ہیں۔ ہم نے زندگی کے تپتے ہوئے صحراؤں سے تجربات کے سنہری ذرات چنے ہیں۔ ہمارے بالوں کو وقت کے کھردرے ہاتھوں نے سفید کیا ہے، دھوپ نے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے مہمان واقعی شکاری ہیں اور وہ شیر کا شکار کھیلنا خوب جانتے ہیں۔‘‘

اس پر پہلا نوجوان پھر تنک کر بولا ’’مگر بابا! شاید آپ لوگوں کی تجربہ کار بصارتوں کی روشنی مدھم پڑ گئی ہے۔ آپ کو یہ کیوں نظر نہیں آتا کہ جن بھیڑوں کے بچاؤ کے لیے آپ شیر کا خاتمہ چاہتے ہیں، وہ بھیڑیں پہلے ہی دسترخوانوں کی زینت بن چکی ہیں۔ اب خالی باڑوں میں صرف شیر کی صدائے بازگشت ہی سنائی دیتی ہے۔‘‘

نوجوان کی یہ تیکھی بات سب پر بجلی بن کر گری۔ ان کی زبانیں تالوؤں سے چپک گئیں اور وہ ندامت کے کیچڑ میں گر گئے۔ ان کی سوچوں کے پپوٹوں پر احساس کی نیم گرم چیونٹیاں رینگنے لگیں۔ وہ اندر ہی اندر سے اس بات کا اعتراف کرنے لگے کہ ان کے کان اپنی بھیڑوں کی معصوم آوازیں سننے کے لیے ترس گئے ہیں۔ ان کی چراگاہیں ویران ہوگئیں اور ان کے کھیتوں میں بنجر پن اُگ آیا ہے۔ مگر وہ ایک دوسرے کے سامنے حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہ تھے بلکہ ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہے تھے۔ آخر ایک بوڑھا بولا، لیکن جب تک شیر ہلاک نہیں ہوجاتا شکاری بھی تو ہماری بستی سے نہیں جائیں گے۔ آخر دونوں نے ایک دوسرے کو قول دے رکھا ہے۔

’’تو کیا آپ اپنے قول کو نبھانے کے لیے مہمانوں کے دسترخوانوں کو ہمارے جسموں سے سجائیں گے؟ اب تو ہمارے پاس اپنے لیے بھی اناج نہیں رہا۔‘‘ ایک نوجوان اٹھ کر بولا۔ ’’تو تم چاہتے کیا ہو؟‘‘ ایک اور تجربہ کار آواز نے استفسار کیا۔’’اپنا کھویا ہوا سکون۔ شیر کی دھاڑ کے دوش پر بیٹھ کر آنے والی نیند۔‘‘ نوجوان نے جواب دیا۔

’’یہ نوجوان باؤلے ہوگئے ہیں۔‘‘ ایک بوڑھے نے بستی والوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

’’چلو آؤ اپنے اپنے گھروں کو چلیں ان پتھروں سے خوشبو کی کشید عبث ہے۔‘‘

سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ لیکن ایک نوجوان وہیں کھڑا رہا۔ ابھی شکاری واپس نہیں آئے تھے۔ وہ ایک خیمے میں گھسا، وہاں مٹی کا تیل کا ایک لیمپ رکھا تھا۔ اس نے وہ لیمپ اٹھا کر سارا تیل خیموں پر چھڑک دیا اور پھر آگ لگا دی۔ اتنے میں گھڑ سوار نمودار ہوئے، مگر ان کے گھوڑے آگ کو دیکھ کر بدکنے لگے۔ یہ غیر متوقع منظر دیکھ کر خود شکاری بھی حواس باختہ ہوگئے۔ وہ نوجوان اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلا، بلکہ اپنی آنکھوں سے نفرت کا زہر اگلنے لگا۔ ایک شکاری کی اس پر نظر پڑی۔

تو وہ چیخ کر بولا: ’’یہ سب کیا ہے؟ ’’جس شیر کی تلاش تم کر رہے تھے، وہ پہاڑی سے اتر کر ان خیموں میں گھس آیا تھا۔ میں نے اسے بھسم کرنے کے لیے آگ لگادی ہے۔‘‘

’’بکواس بند کرو۔‘‘ ایک شکاری بدکتے ہوئے گھوڑے پر گیند کی طرح اچھلا اور پھر اس کے منہ سے اچانک نکل گیا۔ ’’کوئی شیر نہیں ہے، تمہیں کس نے کہا ہے کہ پہاڑی کے ادھر شیر ہے، کم بخت نے ہمارا کتنا قیمتی سامان جلا دیاـ۔‘‘

’’یہی تو میں کہتا ہوں کہ تم آج تک ہمیں دھوکا دیتے رہے ہو۔ تم اجنبی لوگ ہمارے ہمدرد کیسے ہوسکتے ہو۔‘‘ اس کی یہ بات سن کر تمام شکاری گھوڑوں سمیت اس کی طرف بڑھے، لیکن نوجوان نے جھٹ جلتے ہوئے خیمے میں سے بانس نکال کر انہیں للکارا اور خبردار کیا کہ ’’اگر تم اپنی زندگی چاہتے ہو تو اس بستی کو فوراْ چھوڑ دو، ورنہ سارے بستی والے ہتھیاروں سے لیس ہوکر ادھر آرہے ہیں۔‘‘

ایک نامعلوم خوف نے گھوڑوں کی باگیں پیچھے کھینچ لیں۔ خیموں سے شعلوں کی زبانیں لپکتی دیکھ کر بستی والے بھی ادھر دوڑے۔ انہیں دیکھ کر شکاریوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ انھوں نے فائرنگ بھی کی، لیکن کوئی نشانہ ٹھکانے پر نہ بیٹھا۔ بستی والوں کے پہنچنے سے پہلے ہی شکاریوں کو اپنی حواس باختگی میں یوں محسوس ہونے لگا، جیسے ان کے ہتھیار کانچ کے بن گئے ہوں۔ گھوڑے سمٹے نقطوں میں تبدیل ہوگئے ہوں، وہ خود اپنے آپ میں تحلیل ہوگئے ہوں، اس نوجوان کی آنکھوں سے بھسم کردینے والی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔

جب بستی والے قریب پہنچے تو شکاری وہاں سے جاچکے تھے۔ ایک بوڑھے نے ہانپتے ہوئے پوچھا: ’’کیا شیر ہلاک ہوگیا؟‘‘ نوجوان نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر ہمہ وقت آسمان کی طرف دیکھنے والے پکی عمر کے شخص نے کہا: ’’کیا تم اب بھی معجزوں پر یقین نہیں رکھتے؟‘‘

نوجوان بولا: ’’رکھتا ہوں! مگر معجزے آسمان سے نہیں برستے، اندر سے پھوٹتے ہیں۔‘‘ پھر وہ سب کے سب دھوئیں کے بادل، جلتے ہوئے خیموں کو دیکھنے لگے۔ اس کے بعد پہاڑی کے اس اطراف واقع سرسبز ریشمیں جنگل سے پھر کسی سیر کی آواز سنائی نہ دی۔ بستی کے بوڑھے لوگ اسے آج تک شکاریوں کا معجزہ ہی سمجھتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منصور قیصر

Leave a Reply