اسے ہانڈی روٹی ہی تو کرنی ہے!

جس طرح ایک کام یاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اسی طرح ایک کامیاب عورت کے پیچھے اس کی فیملی کی سپورٹ ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت نے اپنے عزم و ہمت او رجدوجہد سے اپنی صلاحیتوں کو تو منوالیا ہے مگر بدقسمتی سے ملک کے سیکڑوں گھرانے آج بھی ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور لڑکیاں باوجود خواہش کے علم حاصل نہیں کرپاتیں۔ اگر کبھی کوئی بچیوں کی پڑھائی کی طرف توجہ دلانا بھی چاہے تو ماؤں کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ انہیں آگے جاکر ہانڈی روٹی ہی کرنی ہے، کوئی نوکری تو نہیں کرنی۔ پتا نہیں ان ماؤں کی ایسی سوچ کیوں ہے۔حالاںکہ تعلیم نوکری کرنے کے لیے حاصل نہیں کی جاتی۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں کوئی بے روزگار نہ ہوتا۔

تعلیم لڑکیوں ہی کو کیا تمام انسانوں کو شعور دیتی ہے۔ انہیں اچھائی برائی میں تمیز سکھاتی ہے لیکن ایک لڑکی کی تعلیم صرف اسے ہی فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ اس کی آنے والی نسلوں کو بھی سنوارنے میں مدد دیتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کی تربیت صحیح طرح سے کر سکتی ہے۔ لڑکی اگر پڑھی لکھی نہیں ہے، ناسمجھ ہے تو وہ اولاد کی تربیت میں اپنا کردار کس طرح ادا کرسکتی ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ علوم و فنون کے ارتقاء کا زمانہ نہ تھا لیکن اس کے باوجود حضورؐ اور آپ کے اصحاب نے اپنے گھروں میں خواتین کی ایسی تربیت کی کہ ان کی عورتیں اتنی باشعور ہوگئیں کہ مردوں کے شانہ بہ شانہ میدان زندگی میں اپنے شوہروں کا ساتھ دیا۔ معاملہ دینی فہم کے حصول کا ہو یا دین پر عمل کرنے کا، حدیث و قرآن کا علم حاصل کرنے کا ہو یا جنگ کی تربیت اور فن سپہ گری کا، وہ اتنی پختہ فکر ہو جاتی ہے کہ ہر جگہ نمایاں نظر آنے لگتی ہے۔

جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہؐ کی پھوپھی صفیہ کا ایک دشمن فوجی پر حملہ کرنا اس کا سر قلم کرنا اور پھر اسے دشمنوں کی طرف اچھال دینا کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ اور اس طرح کے دیگر واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ عہد اسلامی میں خواتین جسمانی صحت اور تربیت کے اعتبار سے اتنی اہل ہوتی تھیں کہ وہ میدان جنگ کے حالات سے بھی نبرد آزما ہوسکیں۔

سوچنے کی چیز یہ ہے کہ تعلیم انسان کو مکمل ہی نہیں بناتی بلکہ انسان کو باشعور بنانے کا ایک ذریعہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محض تعلیم یافتہ ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ انسان باشعور بھی ہو۔

آج پوری دنیا میں مردوں اور عورتوں کے درمیان تعلیم پھیل چکی ہے لیکن اس کے باوجود جرائم کا سیلاب ہے۔ خواتین اعلی تعلیم یافتہ ہیں مگر خاندانی نظام تباہ ہو رہا ہے تو بچے مجرم بن رہے ہیں۔

ہم جب عورتوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی بات کرتے ہیں تو اس میں فکر و شعور کی صحیح بنیادوں پر تربیت کو بھی شامل سمجھتے ہیں اور اگر یہ نہ ہو تو تعلیم تباہی کا ذریعہ تو ہوسکتی ہے مگر وہ مقاصد نہیں دے سکے گی جو رسو اللہ ﷺ کی تعلم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کا احساس نیپولین نے بھی کرلیا تھا۔

نپولین نے کہا تھا: ’’آج مجھے تعلیم یافتہ مائیں دیں میں آپ کو تعلیم یافتہ قوم دوں گا۔‘‘ بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا دراصل پوری قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ہے۔ یعنی ایک اچھی قوم کا کریڈٹ تعلیم یافتہ اور فکر و شعور رکھنے والی ماؤں کو جاتا ہے۔ کئی گھرانوں کے مرد لڑکیوں کو علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتے اور نہ ہی وہ ان کے فکر و شعور کی تربیت کرتے ہیں کہ وہ اچھائی اور برائی کا فرق جان سکیں۔ بقول ان کے زمانہ خراب ہے۔‘‘ زمانے کی خرابی کی ذمے دار بھی تو یہی جاہلیت ہے کہ علم و شعور سے عاری مائیں اپنی اولاد کی تربیت نہیں کر پاتیں۔ انہیں اچھائی برائی کا فرق سکھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ بدلے میں وہ معاشرے میں منفی کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت اور فکر نہ ہونے کی وجہ سے ہی معاشرے میں جرائم اور برائی پنپتی ہے۔ ایسی بھی مائیں ہیں جو خود پڑھ نہیں پاتیں مگر اپنی اولاد کی تعلیم و ترتیب کے لیے سخت جدوجہد کرتی ہیں اور ان کا تعلیم یافتہ نہ ہونا اچھی تربیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ لیکن ایسی ماؤں کی تعداد بے حد کم ہے۔ ماؤں کے ساتھ ساتھ باپ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی بچیوں کی تربیت پر کم از کم اتنی توجہ ضرور دیں جتنی وہ ان کے دلوں میں علم کا چراغ جلا سکیں۔ ان کے فکر و شعور کو روشنی دیں۔ ان چراغوں کی روشنی ان بچیوں کی ہی نہیں بلکہ ان کی آنے والی نسلوں کی زندگی کو بھی منور کرے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر یکساں توجہ دی جائے۔ تعلیم لڑکوں کے لیے جتنی ضروری ہے لڑکیوں کو بھی اس کی اتنی ہی ضرورت ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ ان کی گود ہی میں نئی نسل پروان چڑھتی ہے۔ ماں جیسی ہوگی اولاد بھی ویسی ہی ہوگی۔ لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں سب سے اہم کردار ماؤں کا ہوتا ہے۔ انہیں ’’اسے ہانڈی روٹی ہی تو کرنی ہے۔‘‘ والی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے آگے بڑھ کر ہمیں اپنی بچیوں میں عائشہ و فاطمہ اور موجودہ دور کی زینب الغزالی جو بنانا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سدرہ بانو ناگوری

Leave a Reply