عورت کی دعوتی و اصلاحی جدو جہد

عورت اورمرد زندگی کی گاڑی کے دوپہیّے ہیں اگر ایک پہیہ جام ہوجائے تو گاڑی چل نہیں سکتی۔ اگر معاشرہ میں بگاڑ آجائے تو تنہا مرد کی کوششوں سے سدھار نہیں آسکتا۔ عورت نصف انسانیت اور نصف بہتر ہے ۔ نیک اور صالح عورت معاشرہ کی بہترین متاع ہی نہیں بلکہ نیکی اور پپرہیز گاری کے کاموں میں مرد کی معاون اور مددگار ہوتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی مشن میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہر ہر لمحہ اور ہر ہر مرحلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے کر آپ کی دلجوئی اور تسکین کا سامان فراہم کیا۔ مشہور مورخ ابن اسحق کہتے ہیں۔ حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔ اللہ کی طرف سے جو دین آپ لائے اس کی تصدیق کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغی جد وجہد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معا ونت فرمائی ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیمات کو ماننے والوں میں پہلی شخصیت ان ہی کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بوجھ ہلکا کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تردید یا تکذیب یا کوئی بھی تکلیف دہ بات سنتے تو جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس پہنچتے تو اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دور فرماتے ۔وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ثابت قدم رکھتیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا غم ہلکا کرتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی تصدیق کرتیں اور لوگوں کے رویہ کی تحقیر اور مذمت فرماتیں۔ رحمہا اللہ۔ (سیرت ابن ہشام۱؍۲۵۹)

قرآن مجید میں اہل ایمان کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے۔ ’’ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ معروف کا حکم دیتے اور منکر سے روکتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ (التوبہ:۷۱)

اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں معروف کا حکم دیتے ہیں۔ یعنی لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جو دین آپ اللہ کی طرف سے لائے ہیں اس پر ایمان کا حکم دیتے ہیں۔ (تفسیر ابن جریر)

علامہ بغوی فرماتے ہیں :

’’اہل ایمان معروف کا یعنی ایمان، اطاعت اور امور خیر کا حکم دیتے ہیں۔ منکر سے یعنی شرک سے ، معصیت سے اور ان تمام باتوں سے جو شریعت میں جانی پہچانی نہیں ہیں منع کرتے ہیں۔(معالم التنزیل)

مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندے جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں اپنے اندر خدا خوفی اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔ تب ہی تو وہ عبادت و فرماں برداری اور تقویٰ و پرہیز گاری اور نیک اطورا کی تعلیم دیتے ہیں۔ بے حیائی و عریانی اور فحش و منکرات سے روکتے ہیں۔ اللہ کے دین کے مطابق معاشرے کی تعمیر میں مسلمان مرد اور عورت دونوں اپنا رول اداکرتے ہیں۔ اس طرح گویا قرآن نے یہ بات واضح کردی ہے کہ صالح معاشرہ کی تعمیر تنہا مرد سے نہیں ہوسکتی ہے بلکہ اس میں عورت کی سعی وجہد کا بڑا دخل ہے ۔

مسلمان عورت معاشرہ کی اصلاح و تعمیر میں حصہ لے گی لیکن اس کا دائرہ کار مرد سے جدا گانہ حیثیت کا حامل ہوگا۔ مقصد میں اشتراک کے باوجود دونوں کو حدود اللہ کی پاسداری کرنی ہوگی۔

عورت کے دائرہ کار میں دعوتی فرائض کا آغاز اس کے شوہر سے ہوگا۔ اس کے علاوہ بچوں کا حق بھی مقدم ہوگا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہماری خواتین تبلیغ کے شوق میں باہر نکل جاتی ہیں۔ اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں اور غیر مسلم خواتین سے بھی ملاقاتیں کرتی ہیں انہیں قرآن مجید کے نسخے اور تحریکی لٹریچر دیتی ہیں۔ لیکن ان کا گھر سونا پڑا رہتا ہے۔ اور شوہر اور بچوں کے لیے کم ہی وقت نکالتی ہیں۔ یہ طریقہ کار صحیح نہیں ہے۔

خواتین کو چاہیے کہ وہ زیاد وقت اپنے گھر کے لیے نکالیں اور گھریلو ماحول کی اصلاح کریں۔ شوہر اگر دیندار ہے تو دعوت و تبلیغ اور خدمت خلق کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹائیں۔ دعوت و اصلاح کے کام میں مشکلات و مسائل کا آنا یقینی ہے۔ ایسے میں نیک بیوی کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ڈھارس بندھائے اور اگر مالی دشواریوں کا سامنا ہوتو تنگی ترشی کی زندگی کو گوار ا کرلے لیکن کوئی بے جافرمائش نہ کرے۔

اس طرح کی بیوی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کے یہ دنیا کی بہترین دولت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’سب سے بہتر دولت ہے، اللہ کا ذکر کرنے والی زبان اس کا شکر کرنے والا دل اور ایسی صاحب ایمان بیوی جو ایمان کے راستہ میں اس کی مدد کرے۔‘‘lll

(ترمذی ابو اب التفسیر ، تفسیر سورۃ التوبہ)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سید محی الدین علوی

Leave a Reply