اصلاحِ امت کے چھ قرآنی اصول

قرآن کریم میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے انصاف کرنے اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کو دینے کا اور منع کرتا ہے، بے حیائی سے اور نامعقول کام کرنے سے اور سرکشی سے، تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔‘‘ (الحجر)

قرآن کریم میں انسانی ہدایت، اصول دین اور فلاح دارین سے متعلق ضروری امور مکمل امور کا واضح بیان موجود ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم کی ایک صفت ’’تبیانا لکل شیء‘‘ یعنی ہر چیز کو واضح اور کھول کر بیان کرنے والی ہے۔ اس آیت کے سلسلے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک خیر و شر کے بیان کو اس آیت میں جمع کر دیا ہے، یعنی کوئی اچھا یا برا عمل ایسا نہیں ہے جو ان چھ امور سے باہر رہ گیا ہو۔

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی علیہ الرحمہ کے بہ قول اس کا مختصر سا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ اس آیت میں تین چیزوں کا حکم فرمایا:

(۱) عدل (۲) احسان (۳) ایتائے ذی القربی اور منع بھی تین چیزوں سے فرمایا:

(۱) فحشاء (۲) منکر (۳) اور بغی۔

عدل: عدل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے تمام عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات اور جذبات، اعتدال و انصاف کے ترازو میں تلے ہوئے ہوں، افراط و تفریط سے کوئی پلہ جھکنے یا اٹھنے نہ پائے، سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی معاملہ ہو تو انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے، اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو، جو بات اپنے لیے پسند نہ کرتا ہو، اپنے بھائی کے لیے بھی پسند نہ کرے۔

احسان: احسان کی بابت فرماتے ہیں: ’’احسان کے معنی یہ ہیں کہ انسان بذاتِ خود نیکی اور بھلائی کا پیکر بن کر دوسروں کا بھلا چاہے۔ مقام عدل و انصاف سے ذرا بلند ہوکر فضل و عفو اور لطف و کرم کی خوبی اختیار کرے۔ فرض ادا کرنے کے بعد مزید یا نفل کی طرف قدم بڑھائے۔ انصاف کے ساتھ مروت کو جمع کرے اور یقین رکھے کہ جو بھلائی کرے گا، اللہ اسے دیکھ رہا ہے ادھر سے بھلائی کا جواب ضرور بھلائی کی صورت میں ملے گا۔ (سورۃ الرحمن)

بخاری شریف اور دیگر کتب حدیث میں احسان کا مفہوم یہ بیان ہوا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی اس طرح بندگی کریں گویا کہ آپ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے، اگر یہ درجہ حاصل نہ ہوسکے تو یہ اعتقاد و یقین بہرحال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہاہے ہیں۔ (بخاری)

ایتائے ذی القربیٰ: مذکورہ دونوں خصلتوں (عدل و احسان یا انصاف و مروت) کے مفہوم و مصداق میں ایک گونہ وسعت تھی، انسان کی اپنی ذات، اپنے پرائے اور دوست و دشمن سب سے متعلق تھیں، ان خصلتوں کے بعد ذوی القربیٰ کو خاص طور پر ذکر کرکے متنبہ فرما دیا کہ عدل و انصاف تو سب کے لیے یکساں ہے، لیکن مروت و احسان کے وقت بعض مواقع بعض سے زیادہ رعایت و اہتمام کے قابل ہیں۔ ہمدردی او رمروت و احسان میں دور والوں کی بہ نسبت اقارب کا حق کچھ زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرابت داری کے باہمی تعلقات قائم فرمائے ہیں، انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ صلہ رحمی ایک مستقل نیکی ہے جو اقارب و ذوی الارحام کے لیے درجہ بدرجہ بجا لانی چاہیے تاکہ قدرت کے قائم کیے ہوئے قوانین کی رعایت ہو اور فرق مراتب کی ترتیب برقرار رہے۔

احادیث مبارکہ کے مطابق رشتے داروں کی مالی اعانت سب سے افضل صدقے ہے، کیوں کہ اس میں دہرا اجر ہے، ایک تصدق و انفاق (خرچ کرنے) کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ (احیاء علوم الدین )

فحشاء: حیاء کی ضد ہے، احادیث مبارکہ میں ہر قسم کی قولی و عملی بے حیائی کی قباحت و شناعت اور ممانعت موجود ہے۔ (مشکوٰۃ)

عام اصطلاح میں ’’فحشاء‘‘ سے مراد وہ بے حیائی کی باتیں ہیں، جن کا ہونا شہوت و گندگی تصور کیا جاتا ہو اور جن کا ذکر یا اظہا رصالح طبیعت پسند نہیں کرتی۔

منکر: معروف کی ضد ہے، یعنی وہ نامعقول کام جن کو فطرتِ سلیمہ اور عقل صحیح قبول نہ کرے اور جو سماج میں فتنہ وفساد کا سبب ہے۔ ارشادِ نبویؐ کے مطابق ’’منکر‘‘ کا خاتمہ ہر مسلمان پر حسب استطاعت لازم ہے۔ اس استطاعت کے تین درجات ہیں: (۱) منکر کے خاتمہ و انسداد کے لیے قوت و طاقت سے کام لیا جائے۔ (۲)اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اصلاح وتبدیلی کے لیے زبانی ناصحانہ و مصلحانہ کردار ادا کیا جائے (۳) اگر استطاعت کے یہ دونوں درجے میسر نہ ہوں، ماحول و معاشرہ کا جبر و استحصال زوروں پر ہو تو ایمانی حرارت کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس برائی پر قلبی ناپسندیدگی اور لاتعلقی کا اظہار کرے اور دل میں یہ عزم رکھے کہ توفیق میسر آنے پر منکر کے خاتمے کے لیے پہلے دو دَرجات پر عمل کروں گا۔ (مشکوٰۃ)

بغی: یعنی بغاوت و سرکشی جو اطاعت و فرماں برداری کی ضد ہے، یہ برائی حیوانی خصلت کا مظہر ہے۔ جس طرح جانور خود سر اور نافرمان ہوتا ہے یعنی سرکشی کر کے قبضہ سے نکل جاتا ہے، اسی طرح انسان کا ظلم و زیادتی پر کمربستہ ہوکر درندوں کی طرح انسانیت سے ہٹ کر درندگی کا مظاہرہ کرنا اور دوسروں کی جان و مال اور عزت و آبرو پر ناجائز دست درازی کرنا بغی ہے۔

آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تاکید کے ساتھ فرمایا تھا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن (عرفہ) میں، تمہارے اس مہینہ (ذی الحجہ) میں اور تمہارے اس شہر (مکہ) میں حرام ہیں، یعنی جس طرح تم عرفہ کے دن، ذی الحجہ کے مہینے اور مکہ مکرمہ میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کو حرام سمجھتے ہو، اسی طرح ہمیشہ کے لیے اور ہر جگہ ہر ایک مسلمان کی جان و مال دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ لہٰذا تم میں سے کوئی کسی وقت اور کسی جگہ کسی کا خون نہ کرے، کسی کا مال چوری و دغابازی سے نہ کھائے اور کسی کو جانی اور مالی تکلیف میں مبتلا نہ کرے۔

یوم نحر (دسویں ذی الحجہ) کے خطبے میں آپﷺ نے جان و مال کے ساتھ عزت و آبرو کو بھی شامل فرمایا اور مزید تاکید سے احساس دلایا کہ دیکھو! عنقریب تمہارے رب سے تمہاری ملاقات ہوگی اور وہ تمہارے اعمال پر بازپرس کرے گا، خبردار! تم لوگ میرے بعد گمراہی اختیار نہ کرنا۔

اس آیت کے تین احکام اور تین باتوں سے رکنے کا حکم اتنا جامع ہے کہ اگر ہم اپنی ذاتی اور سماجی و معاشرتی زندگی میں شعور کے ساتھ اس پر عمل کریں تو نہ صرف ہماری زندگی تبدیل ہوجائے گی بلکہ سماج اور معاشرے میں ناقابل تصور تبدیلی آئے گی۔

ذرا تصور کیجیے جس سماج و معاشرے میں عدل و انصاف اور مساوات ہو، جہاں لوگ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ ہی دینے پر اتارو ہوں اور جہاں رشتہ داروں اور قرابت داروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں تو اس معاشرے میں فتنہ و فساد کہاں سے آسکتا ہے۔ کتنا پیارا اور خوب صورت معاشرہ ہوگا اور اس میں جینا کتنا حسین ہوگا۔

دوسری طرف آپ موجودہ زمانے کو دیکھئے اور پھر سوچئے کہ اگر اس سماج و معاشرے سے فحاشی و بے حیائی ختم ہوجائے، برائیاں ناپید ہوجائیں اور بغاوت و سرکشی اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں تبدیل ہوجائے تو انسانی زندگی کتنی پرلطف اور پرامن ہوجائے۔

بس ان خوبیوں کو اپنی ذاتی زندگی میں جاری کرلیں اور ان برائیوں سے اپنی ذات کو بچالیں تو زندگی کیا آخرت بھی کامیاب ہوجائے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مفتی رفیق احمد

Leave a Reply