لفافہ

حجاب کے نام

ہماری قومی شان

اکتوبر کے شمارے میں خصوصی نمبر کی خبر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ آپ نے جو خاکہ بھیجا ہے اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خصوصی اشاعت اپنے موضوع پر ایک دستاویز ہوگی۔

اس شمارے کے موضوعات دیکھ کر ایسا لگا جیسے آپ نے تمام اہم موضوعات کو اس میں سمونے کی کوشش کی ہے اور یقینا کی ہے۔

طلاق ایسا موضوع ہے جس پر مسلم سماج میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ اس لیے بھی کہ طلاق کو بہانا بنا کر سیاست کرنے والوں کو ملک میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کا بہانہ مل جاتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا امتیاز یہ نہ ہوگا کہ ہم یہاں بسنے والے لوگوں کے پرسنل لاء کو ختم کر دیں بلکہ ہماری قومی شان اس بات میں ہے کہ یہاں بسنے والے تمام لوگ آزادی کے ساتھ اپنے اپنے پرسنل لاء پر عمل کریں۔ اس طرح ہم Unity in diversity کے تصور کو دنیا کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ خلیق الزماں خان

(ناگپور)بذریعہ واٹسپ

سماجی بیداری کی ضرورت

اکتوبر کے رسالے میں چھپے مضامین اچھے لگے۔ طلاق کی سیاست اور ہندوستان میں ٹی بی کا قہر بہت پسند آئے۔ اسی شمارے میں ایک چھوٹا سا مضمون تھا ’’اپنی اصلاح سے سماج کی اصلاح‘‘ یہ مضمون پڑھ کر دل میں خیال آیا کہ سری لنکا جیسے چھوٹے سے غریب ملک کی ایک عورت کتنی حساس ہے کہ اسے یہ بات بری لگی کہ اس کے ملک میں گندگی پھیلائی جائے۔ اس واقعے کے بعد اپنے سماج کی تصویر نگاہوں میں گھومنے لگی جہاں ہم خود اپنے آس پاس گندگی پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنے گھر کا کوڑا سڑک پر ڈالنے میں ہم کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے، ہمارے محلوں میں جگہ جگہ راستوں میں گاڑیاں ایسے انداز میں کھڑی نظر آئیں گی کہ راستہ سے آنے جانے والوں کو تکلیف ہوتی ہو۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم اپنے گھر کے سامنے کے راستے کو اپنی ملکیت تصور کرتے ہوئے گاڑیاں کھڑی کر دیتے ہیں اور یہ خیال تک نہیں آتا کہ راستے گاڑیوں کے لیے پارکنگ نہیں بلکہ آنے جانے والوں کا حق ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب بڑے شہروں میں لوگ اپنے گھر کے باہر پائپ کھڑے کر کے زنجیریںلگانے لگے ہیں تاکہ ان کے گھر کے پاس صرف اپنی ہی گاڑیاں کھڑی ہوں۔

یہ صورتِ حال تکلیف دہ ہے پورے سماج کے لیے۔ حد تو یہ ہے کہ اس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی کوئی ایکشن نہیں لیتے۔ ایسا کر کے ہم خود اپنے لیے زندگی دشوار کر رہے ہیں۔ سماج میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے سلسلے میں بیداری لانے اور لوگوں کو ذمہ دار اور حساس بنانے کی ضرورت ہے۔ خصوصی شمارے کا اعلان پڑھ کر خوشی ہوئی، ہمیں اس شمارے کا انتظار ہے۔

سعدیہ ملک

جوہا پورا، احمد آباد گجرات

(بذریعہ ای-میل)

پسندیدہ رسالہ

حجابِ اسلامی ہمارے گھر کئی سالوں سے آرہا ہے۔ اس کے تمام ہی مضامین ہم سب لوگ شوق سے پڑھتے ہیں۔ اس سے ہمیںدین کی معلومات بھی ملتی ہیں اور حالات کا بھی علم ہوتا ہے۔ اس شمارے (ستمبر) میں ہمیں وہ مضمون بہت اچھا لگا جس کا عنوان تھا ’’سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی‘‘ گھر کے کاموں کے بارے میں لکھا ہوا محی الدین غازی انکل کا مضمون اچھا لگا۔ اس میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

بشریٰ رحمن

لاجپت نگر (مراد آباد)

حجاب کے نام

موجودہ حالات میں ’’حجابِ اسلامی‘‘ ہر ایک گھر کی ضرورت ہے۔ یہ زندگی کے مختلف مسائل میں رہ نمائی کا کام بہ حسن و خوبی انجام دے رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین کے شعبہ میں۔ سماج میں بہت سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک مسئلہ سٹہ بازار کو فروغ دینا ہے، جس کو مختلف کمپنیاں اپنے پروڈکٹس کو پیش کرکے پھیلا رہی ہیں اور ہمارے نوجوان اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں کیوں کہ ایک گراہک بنانے پر بھی ان کو کمیشن کے طور پر اس کی خرید پر حصہ ملتا ہے۔ اس پر بھی مضمون شائع کیا جائے۔ اس کے علاوہ یوم عاشورہ اور دیگر مواقع کی مناسبت سے بھی مضامین حجاب کے اندر شائع کیے جائیں تاکہ عوام اور خواتین کو بر وقت رہ نمائی مل سکے۔

(نام درج نہیں)

صدر مدرسہ، موڈرن پلے وے اسلامک اسکول

گھونڈہ، دہلی

اسپتالوں کی لوٹ کھسوٹ

ستمبر کا حجاب اسلامی تاخیر سے ملا۔ کافی انتظار کرنا پڑا۔ انتظار کے بعد جب ملا تو طبیعت خوش ہوگئی۔ ہمارے گھر کے سبھی لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں حجاب اسلامی کا۔

اس شمارے میں آپ نے بچوں کی پیدائش اور سیزرین ڈیوریز پر لوٹ کھسوٹ سے متعلق جو رپورٹ پیش کی ہے اگرچہ وہ قارئین حجاب اسلامی لیے نئی ہوسکتی ہے مگر ملک کے باشعور لوگوں کے لیے نئی نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اب سے کوئی پندرہ سال پہلے ایک انگریزی رسالے The Week نے اس پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں حیرت انگیز صورتِ حال پیش کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں بھی اگرچہ حقائق اس سے ملتے جلتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو تبدیلی آئی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں میں صورتِ حال اور زیادہ پیچیدہ ہوئی ہے۔

اس پوری صورتِ حال میں جہاں پرائیویٹ اسپتالوں کی لوٹ کھسوٹ کی سوچ کو بڑا دخل ہے وہیں صحت کے میدان میں انشورنس کمپنیوں کی بڑے پیمانے پر آمد بھی ہے۔ اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس میں صحت سے متعلق نجی اداروں کے لیے قانونی فریم ورک کا نہ ہونا اور اعلیٰ سطحی کرپشن بھی ہے۔ یوروپی ممالک میں سیزرین ڈلیوری قانونی طور پر مشکل ہے اور اگر نوبت آتی ہے تو ڈاکٹروں کا ایک پینل صورتِ حال کو جانچ کر اسے گرین سگنل دیتا ہے۔ اس کی وجہ ماں کی صحت پر پڑنے والے دور رَس اثرات ہیں۔

افسوس کہ ہمارے یہاں ایسی کوئی پابندی نہیں اور ہو بھی کیسے سکتی ہے جب حکومت خود عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہے۔

اس شمارے میں محی الدین غازی صاحب کا مضمون پسند آیا۔ صحت کے لیے سیلف کیریئر کے اصول بھی اچھا لگا۔ میری دعا ہے کہ حجاب اسلامی زیادہ سے زیادہ گھروں تک پہنچے۔

ابو عبد اللہ شیخ

مہار، ضلع رائے گڑھ

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply