سعودی عرب میں عورتوں کی ڈرائیونگ

گذشتہ دنوں سعودی عرب کے شہنشاہ نے ایک خصوصی فرمان جاری کر کے ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت ’مرحمت‘ فرما دی۔ فرمان کے مطابق متعلقہ وزارت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس بارے میں ایک ماہ کے اندر اندر تجاویز مرتب کرے اور اس حکم کو ہر حالت میں ۲۴؍ جون ۲۰۱۸ تک نافذ کر دیا جائے۔ اس حکم نامے کے مطابق متعلقہ وزارت ضابطۂ اخلاق اور ضروری قانون سازی میں لگ گئی ہے۔

سعودی فرماں رواؤں کے اس فیصلے کو دنیا بھر میں ستائش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور خود سعودی عرب کے اندر ایک طبقہ اس پر خوشیاں منا رہا ہے۔ عالمی سطح پر خوش ہونے والوں میں سر فہرست امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہیں جنھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔‘‘ اسی طرح اس کے لیے مہم چلانے والی خاتون سحر ناصف نے جدہ میں برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں بہت ہی زیادہ خوش ہوں، اچھل رہی ہوں اور ہنس رہی ہوں۔‘‘ انھوںنے مزید کہا کہ ’’اب میں اپنی پسند کی گاڑی خریدوں گی جس کا رنگ سیاہ اور رزد ہوگا۔‘‘ واضح رہے کہ کالے پیلے رنگ کی گاڑی دنیا بھر میں ٹیکسی استعمال کے لیے جانی جاتی ہے۔

سعودی حکومت میں اب تک خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں تھی اور انہیں ڈرائیونگ لائسنس جاری نہیں کیا جاتا تھا۔ سعودی حکومت کے اس عمل کو سادہ لوگ مسلمان شریعت کا حکم تصور کرتے تھے، چناں چہ اس سے یہ تاثر جاتا تھا کہ اسلام عورتوں پر اس طرح کی پابندی لگاتا ہے چناں چہ وہ اس بات کو مساواتِ مرد و زن کے نظریے سے دیکھتے ہوئے اسلام پر خواتین کے ساتھ صنفی بنیاد پر تفریق کا الزام لگاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے بیان میں بھی اس بات کو نہ چھپا سکے اور اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے انھوں نے اسے خواتین کے حقوق کے فروغ میں ایک ’’مثبت قدم‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف سعودی علماء نے اس اقدام کے سلسلے میں کہا کہ اسلام خواتین کو ڈرائیونگ سے نہیں روکتا اور یہ عمل شرعی اعتبار سے بالکل جائز اور درست ہے اور یقینا ان کا بیان اپنے آپ میں درست تو ہے مگر یہ عجیب حادثہ ہے کہ عالم اسلام کی سیاست کا کہ وہ اپنی مرضی کو عوام پر نافذ کرنے کے لیے اسلام کا سہارا لیتی ہے اور نہ صرف ایسے اعمال کے لیے بھی بلا وجہ دین کو استعمال کرتی ہے، جن کا دین سے کچھ لینا دینا نہیں، اس سے آگے بڑھ کر وہ عوام پر اپنے ظلم و ستم اور ان کی آزادی و انسانی حقوق کو غصب کرنے کے لیے بھی دین کا سہارا ڈھونڈتی ہے اور اپنے سیاسی حریفوں کو ختم کرنے اور ان کے صفائے کے لیے بھی درباری علماء کو تلاش کرتی ہے جو تکفیر کے فتوے صادر کرتے ہیں اور اللہ والوں کو جیلوں میں ٹھونستے اور پھانسی پر چڑھاتے ہیں۔ یہ لوگ ان کے عقیدے پر سوال کھڑے کرتے ہیں تاکہ ان پر ظلم و زیادتی کا جواز پیدا کرلیا جائے۔ حالاں کہ تکفیر کے بعد بھی مصر کا ظلم عدل میں تبدیل نہ ہوگا اور نہ بنگلا دیش کی انتقامی کارروائی جائز ہوسکے گی۔

جو لوگ سعودی عرب میں عورتوں کو ڈرائیونگ پر پابندی کو عورتوں کے حقوق کی پامالی تصور کرتے ہیں اور اب اس کی اجازت ملنے پر خوش ہیں اور اسے مساوات مرد و زن کے نظریہ کے عملی نفاذ کا حصہ تصور کرتے ہیں، اگر وہ اسلام سے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو انہیں اس روایت میں ان کے احترام اور عزت و تکریم کا پہلو بھی یقینا نظر آئے گا جو سعودی عرب میں آج بھی دیگر ’آزادی پسند‘ ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس پر لوگ غور نہیں کرتے کہ وہاں خواتین کو سہولیات فراہم کرنے کو آج بھی مرد کی ہی ذمے داری تصور کیا جاتا ہے۔ وہاں پر اگر گاڑی موجود ہے تو شوہر کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے ڈرائیور فراہم کرے کہ وہ باعزت طریقے سے کہیں بھی آنا جانا کرسکے۔ دنیا بھر میں آج بھی ’’بڑے لوگ‘‘ خود گاڑی نہیں چلاتے بلکہ اس کے لیے ڈرائیور رکھتے ہیں اور یہ ان کے وقار کے خلاف ہے کہ وہ خود گاڑی چلائیں، جب کہ سعودی عرب میں عورتوں کے احترام کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت چلتے ٹریفک میں بھی سڑک پار کرنے لگتی ہے تو سارا ٹریفک رک جاتا ہے اور وہ عورت محفوظ سڑک پار کرلیتی ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ عورتوں کی ڈرائیونگ کو اسلام ناجائز قرار نہیں دیتا مگر اس کے باوجود عرصہ تک وہاں اس پر پابندی رہی اور اس کے لیے دین کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا اور پوری دنیا اس کا ذمہ دار اسلام کے نقطہ نظر کو قرار دیتی رہی ہے اور اب جب کہ اس پر سے پابندی ہٹالی گئی ہے تو اسے بھی شریعت کی جانب سے کلیرنس دیا جا رہا ہے حالاں کہ یہ سعودی کلچر اور وہاں کے مائنڈ سیٹ کا مسئلہ تھا نہ کہ اسلام کی عائد کردہ پابندی۔

اب جب کہ مملکت سعودی عرب میں خواتین پر سے ڈرائیونگ کی پابند ہٹنے والی ہے تو اس کے سعودی معیشت پر پڑنے والے مثبت فائدوں کا ذکر کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت کو اس فیصلے سے لاکھوں خواتین گاڑیاں چلانے کی حق دار ہوجائیں گی اور اس طرح ہر سال اربوں ڈالر کی بچت ہوگی اور سعودی معیشت ان ہزاروں غیر ملکی ڈرائیوروں کی تنخواہوں کے بوجھ سے آزاد ہوجائے گی جو اب تک مملکت میں فیملی ڈرائیور کی حیثیت سے ہزاروں ریال ماہانہ تنخواہ لیتے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل جو سعودی عرب کی معیشت کی شہ رگ تھا، قیمتیں گرنے سے اور سامراجی نظریے کے حامل قوتوں کے معاشی دباؤ کی وجہ سے سعودی عرب جس مالی بحران کا شکار ہو رہا ہے، اس سے چھٹکارا پانے یا اسے کم کرنے کے لیے حکومت اس طرح کے فیصلے کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ اس کے بعد اب ٹیکسی کمپنیاں ہزاروں کی تعداد میں سعودی خواتین کو بھرتی کریں گی تاکہ سعودی نظریے کے مطابق ان خواتین کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے جو اب تک ’غیر محرم‘ کے ساتھ تنہا سفر کرنے کو غیر مناسب سمجھتی ہیں۔ گویا کہ نہ صرف یہ اربوں ڈالر کی بچت کا فارمولہ ہے بلکہ سعودی عرب میں ڈرائیونگ کی اجازت کے بعد خواتین اربوں ڈالر خواتین کما بھی سکیں گی۔

اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کرنے کی پابندی ہٹانے کے پیچھے پہلے بھی تہذیبی قدامت پرستی اور ’روڑھی واد‘ تھا اور اب اس پابندی کے ہٹالیے جانے کے پیچھے بھی اسلام کی خواتین کو عطا کردہ آزادی کا نفاذ نہیں بلکہ معاشی بحران سے نبرد آزمائی اور ان مغربی پالیسیوں کا نفاذ ہے جو وہ غیر محسوس طریقے سے عالم اسلام میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پالیسی کی جھلک ہم امریکہ کے پالیسی ساز ادارے اینڈ کارپوریشن کی اس رپورٹ میں دیکھ سکتے ہیں جو کوئی دس سال پہلے اس نے جاری کی تھی اور اس کا عنوان تھا ’’بلڈنگ موڈیریٹ مسلم نیٹ ورکس۔‘‘

اب ہم صرف اتنا کہنا چاہیں گے کہ اس ڈرائیونگ کی آزادی کے ساتھ ہی کیا مملکت سعودی عرب میں وہ شخصی آزادی بھی فراہم کرائی جاسکتی ہے جو مغرب میں ہر شخص کو حاصل ہے۔ یقینا نہیں کیوں کہ اس آزادی کے سبب تو وہاں کے سیاسی نظام میں انقلاب آجائے گا اور یہ انقلاب نہ سعودی فرما روا پسند کریں گے اور نہ ان کے مگربی آقا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply