رسول اللہؐ کی محبت کے سب سے زیادہ مستحق کون؟

اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِی الْمُتَّقُوْنَ مَنْ کَانُوْا وَ حَیْثُ کَانُوْا(مسند احمد )

’’مجھ کو سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو تقوی کی روش پر گام زن ہوں،وہ چاہے جو ہوں اور چاہے جہاں کے ہوں ۔‘‘

یہ الفاظ آپؐ نے اس وقت فرمائے جب سن ۹ھ میں انہیں یمن کا گورنر بنا کر رخصت کر رہے تھے۔

حضرت معاذ سواری پر ہیں اور رسول اللہؐ ان کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے ہیں۔ حضرت معاذ بے قرار ہوکر عرض کرتے ہیں :’’اے اللہ کے رسول! میں اتر جاؤں؟‘‘ مگر آپؐ فرماتے ہیں : ’’نہیں، بیٹھے رہو۔‘‘ آپؐ برابر انھیں مختلف ہدایات دے رہے ہیں۔جب فارغ ہوئے تو کچھ دیر خاموش رہے ، پھر فرمایا : ’’اے معاذ ! شاید اگلے سال تم سے ملاقات نہ ہو۔ تم واپس آؤ تو تمھارا گزر میری مسجد اور میری قبر کے درمیان سے ہو۔‘‘ یہ سننا تھا کہ حضرت معاذ دہاڑیں مار مار کر رونے لگے۔اللہ کے رسول ؐ نے اپنا چہرہ مبارک ان کی طرف سے پھیرا اور مدینہ کی طرف کرکے یہ الفاظ ادا فرمائے جن میں اللہ کے رسولؐنے اپنی محبت اور قربت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے۔

تقویٰ کیا ہے ؟ تقوی کسی ظاہری ہیئت کا نام نہیں، بلکہ دل کی کیفیت کا نام ہے۔تقوی یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ اور اس کے رسول کی رضا کو اپنے پیش نظر رکھے۔ وہ کام انجام دینے کی کوشش کرے جن کا انھوں نے حکم دیا ہے۔ ان کی ناراضی اور غضب سے بچے اور ان کاموں کے ارتکاب سے حتی الامکان خود کو بچائے جن سے انھوں نے روکا ہے۔

اس حدیث میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس فضیلت کو کوئی بھی انسان حاصل کرسکتا ہے۔ وہ کسی بھی سماجی حیثیت کا مالک ہو ، کسی بھی خطے اور علاقے کا رہنے والا ہو ، کسی رنگ و نسل کا ہو۔ وہ اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرلے ، اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و کی قربت اور محبت حاصل ہو جائے گی اور جسے اللہ کے رسول کی محبت حاصل ہوجائے اسے اللہ تعالی بھی اپنا محبوب بنالے گا ۔

پھر ہے کوئی جو اس راہ میں سبقت کرے اور خود کو اللہ اور رسول کا محبوب بنا لے !!!

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

Leave a Reply