جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر…

نہ اسیر گنبد شاہ کا، نہ فقیر حسن نگاہ کا

نہ حریص تاج و کلاہ کا، نہ مرید دولت و جاہ کا

نہ سکندری سے کوئی غرض، نہ مریض خوف سپاہ کا

نہ مفکروں میں شمار کر، نہ مناظروں میں تلاش کر

جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر، مجھے ان صفوں میں تلاش کر

ابھی شوق ہے میرا نا رسا، ابھی نیم رس میرا میکدہ

یہ حنین و بدر کے راستے، کہیں تشنگی کہیں کربلا

میرا سر گرے تیری راہ میں، یہی آرزو یہی التجا

وہ جو شب سے برسر جنگ ہیں، انہی جگنوؤں میں تلاش کر

جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر، مجھے ان صفوں میں تلاش کر

میرے راستوں میں قدم قدم جو لہو کے نقش و نگار ہیں

تری چاہ ہیں، ترا شوق ہیں، ترا عشق ہیں، ترا پیار ہیں

مجھے خوف طولِ سفر نہیں، کہاں منزلیں کہاں دار ہیں

کبھی خیبروں میں تلاش کر، کبھی حیدروں مین تلاش کر

جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر مجھے، ان صفوں میں تلاش کر

جو فصیل شہر پہ جگمگاتی سی روشنی کا ظہور ہے

ترے کج کلاہوں کے سامنے، مری کج روی کا ظہور ہے

ترے جگنوؤں کا طفیل ہے، مری بے خودی کا ظہور ہے

وہ جو کٹ مریں ترے نام پر، انہی بے خودوں تلاش کر

جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر، مجھے ان صفوں میں تلاش کر

شیئر کیجیے
Default image
سرفراز بزمی فلاحی

Leave a Reply