بچوں کو راز داری کا عادی بنائیے!

انس بن مالکؓ ابھی کمسن لڑکے تھے کہ ان کی والدہ محترمہ انھیں آں حضرتﷺ کی خدمت میں لائیں اور پھر انھیں آپ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ چناں چہ انھوں نے دس سال تک آں حضورﷺ کی خدمت کی۔ حضرت انسؓ آپ کے رازداں تھے اور کم عمر ہونے کے باوجود انھوں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے گھر والوں کا راز ظاہرنہیں کیا۔ ایک بار ان کی والدہ نے ان کے آقا حضرت محمدﷺ کے کسی معاملے کے بارے میں پوچھا تو حضرت انسؓ نے اپنی والدہ کو جواب دیا: ’’میں رسول اللہﷺ کا راز کیسے فاش کر سکتا ہوں۔ یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔‘‘ یہ سن کر ان کی والدہ نے ان کی اس رازداری کی خوبی کو پسند کیا۔ ان کی حوصلہ افزائی کی اور راز کی حفاظت کرتے رہنے کی تلقین کی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ گھر سے باہر نکلے تو رسول اللہﷺ کے ایک صحابیؓ کو بھی وہی جواب دیا جو پہلے اپنی والدہ کو دے آئے تھے۔ اس صحابی نے حضرت انسؓ کو حکم دیا کہ وہ نبی کریمﷺ کے راز کی حفاظت کریں، پھر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

زیادہ تر بچوں کی خود روی ہی ان کے والدین اور گھر کے افراد کے لیے پریشانیوں اور مشکلوں کا سبب بنتی ہے۔ چناں چہ بچے اپنے گھر کے افراد کے احساسات یا گھر کے کسی نیک فر د کے احساسات، ملاقاتیوں کے سامنے ظاہر کردیتے ہیں۔ بعض اوقات بچے گھر میں ہونے والے واقعات اور رازوں کو باہر والوں کے سامنے بے نقاب کر دیتے ہیں، اور بچوں کو اس بات کا ادراک نہیںہوتا کہ یہ گھر کی خصوصیات ہیں اور ان کے بارے میں کسی اور کو مطلع کرنا صحیح نہیں ہے۔ بسا اوقات بچے اپنے ماں باپ کے اختلافات کو خود ہی گھر سے باہر کے افراد کے سامنے ظاہر کر دیتے ہیں۔ اس کا آخر کار انجام یہ ہوتا ہے کہ پہلے ازدواجی تعلق ختم ہو جاتا ہے اور پھر دو خاندانوں کے مابین تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔

گھریلو راز فاش کرنے کے اسباب

بچوں کی تربیت کے ماہرین اور ماہرین نفسیات کے نزدیک کچھ اسباب ہیں جو بچوں کو غیر ارادی طور پر گھر کے بھید ظاہر کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ نمایاں ترین اسباب یہ ہیں:

٭ بچے میں احساس کمتری ہی بچے کو راز فاش کرکے اپنی کمی کا راز ظاہر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

٭ دوسروں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانا اور یہ خواہش کہ دوسروں کو حیران کرنے کا موقع ملے۔

٭ محبت اور ہم دردی حاصل کرنے کی خواہش۔

٭ راز فاش کرنے کی یہ عادت والدین سے یا ان میں سے کسی ایک سے حاصل ہونا یا کسی ایسے فرد سے جو اس متعدی مرض میں مبتلا ہوا اور جس کا بچے سے قریبی تعلق ہے۔ بچہ جب اپنے ارد گرد کے لوگوں میں سے کسی ایک کو دوسروں کے راز فاش کرتے دیکھتا ہے تو وہ بھی اس فرد کی نقل کرنے لگتا ہے۔

٭ بچے میں بدلہ وانتقام لینے کی خواہش۔ خاص طور پر جب وہ محسوس کرتا ہے کہ خاندان میں ظلم و جبر ہو رہا ہے اور بچہ سمجھتا ہے کہ خاندان کے راز ظاہر کرنے سے اس کے والدین کو اذیت پہنچے گی تو وہ گھر کے راز لوگوں سے بیان کر کے والدین سے انتقام لینے کی کوشش کرتا ہے۔

٭ بچے کو سرزنش کرنے میں حد سے بڑھنا، تشدد کرنا اور دوسروں کے سامنے مسلسل ملامت اور تکلیف دہ تنقید کرنا، نیز بچے کو قائل و مطمئن کیے بغیر اور اس سے بحث و گفتگو کیے بغیر اسے سخت حکم دینا۔

٭ بچے کو اس بات کا احساس ہونا کہ وہ ایک بے قدر و قیمت فرد ہے۔

٭ والدین کی تربیت میں کوتاہی، جس کی وجہ سے بچہ رازوں کو چھپانے اور ان کی حفاظت کرنے کے لیے لازمی مہارتوں اور قدروں سے محروم رہ جاتا ہے۔

عام طور پر بچے راز فاش کرنے کی عادت سے اس وقت چھٹکارا پاتے ہیں۔ جب وہ ’’آزاد خیالی‘‘ کے مرحلے سے گزر جاتے ہیں۔ اس کے لیے ماہرین نفسیات نے عمر کی ایک حد مقرر کی ہے۔ یہ ہے نوسال کی عمر۔ نوسال سے کم عمر کے بچوں کو بھی ہم والدین اپنا تربیتی کردار صحیح طرح ادا کریں۔ یاد رہے کہ سب بچے اپنے گھروں کے راز فاش نہیں کیا کرتے۔ کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو راز چھپاتے ہیں، حتی کہ اگر ان سے ملاقاتی گھر کی خصوصیات سے متعلق چیزوں کے بارے میں بھی پوچھیں تو بھی وہ بھیدوں کو ظاہر نہیں کرتے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بچے ذہین ہوتے ہیں اور ان میں رازوں کی حفاظت کرنے کی اہلیت و صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

راز داری کی تربیت

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم بچوں کو راز داری کی تربیت کیسے دیں؟ خاندانی روازوں کو ظاہر کرنے کی علامت کے علاج کی خاطر درج ذیل ذرائع بروئے کار لائے جائیں:

٭ بچے کو اس بات کی تربیت دی جائے کہ کون سی باتیں ہیں جو ہر کسی کو بتانا درست ہے اور کون سی ایسی باتیں ہیں جن کا عام کرنا اور پھیلانا ٹھیک نہیں۔

٭ بچے کو ایسی متبادل باتیں بتائی جائیں جو وہ اپنے ملاقاتیوں اور ملنے جلنے والوں کے سامنے بیان کرسکے۔

٭ والدین کو اپنے بچوں پر نرمی کے ساتھ یہ واضح کرنا دینا چاہیے کہ ’’خاندانی خصوصیات‘‘ کون سی ہیں، جن کی حفاظت ضروری ہے۔

٭ والدین کو باریک بینی کے ساتھ ان اسباب کا تعین کرنا ضروری ہے جو بچے کو بھید ظاہر کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

(الف): اگر تو بچہ احساس کمتری کی بنا پر ایسا کرتا ہے تو پھر ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی خود اعتمادی بحال کرنے کی کوشش کریں۔

(ب) اگر بچہ گھر کے بھید اس لیے ظاہر کرتا ہے کہ گھر سے باہر والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرسکے، نیز وہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اسے پسند کریں تو ہمیں چاہیے کہ ہم خود خاندانی ملاقاتیوں کے سامنے بچے کو کہیں کہ وہ قرآن مجید کی حفظ کی ہوئی سورتوں میں سے کوئی سورت سنادے، بشرطے کہ وہ اچھی طرح تلاوت کر سکتا ہو؟ اور اگر بچہ خوش الحان ہے تو ہم اس سے کوئی نعت، حمد یا نظم سنانے کے لیے کہیں، یا وہ اپنی پڑھی ہوئی یا سنی ہوئی کوئی کہانی سنادے۔ وغیرہ

(ج) اگر بچہ اس لیے بھیدوں کو ظاہر کرتا ہے تاکہ دوسروں سے تعریف سنے تو پھر والدین کو چاہیے کہ بچے کی اس رغبت کو اس طرح پورا کریں کہ وہ اس کی معتدل تعریف کر دیا کریں۔ اس تعریف میں نہ مبالغہ ہو نہ کمی۔

(د) اگر بچہ راز اس لیے فاش کرتا ہے تاکہ دوسروں سے محبت و شفقت اور ہمدردی پاسکے تو پھر ماں باپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ محبت و شفقت اور ہمدردی کی حاجت بچے اور نوجوان کو نفسیاتی طور پر درکار حاجات و ضروریات میں سے ہے۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ اس ضرورت کو پورا کریں۔

٭ والدین کوشش کریں کہ وہ رازوں کی حفاظت کرنے اور انہیں چھپانے میں بچوں کے لیے نمونہ بنیں تاکہ ان کے بچے ان کے طرزِ عمل کی پیروی کریں اور یوں وہ بچوں کی اس حرکت کو روک سکنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

٭ والدین بچوں پر سختی نہ کریں بلکہ گھر میں محبت و عدل کی فضا پیدا کریں۔ اگر ان کا کوئی بچہ یہ انکشاف کرتا ہے کہ وہ مظلوم ہے یا اس پر زیادتی ہوتی ہے تو والدین اس کو اپنی آغوش شفقت میں لینے کے لیے تیزی سے آگے بڑھیں۔

اس کے ساتھ ایک ایسی فضا میں مکالمہ و گفتگو کریں جو محبت و شفقت سے بھرپور ہو۔ والدین نرمی و شفقت سے اور دلائل سے بچے کو قائل کریں کہ وہ انہیں بہت پیارا ہے، نیز اس کے بہن بھائی اور وہ سب اس محبت میں یکساں و برابر ہیں اور ماں باپ اپنے کسی بچے سے کبھی نفرت نہیں کرتے۔

٭ والدین اس بات سے اجتناب کریں کہ وہ اپنے بچے کو مسلسل ڈانٹ ڈپٹ کریں یا دوسروں کے سامنے اسے تکلیف وہ تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔

٭ بحث و تمحیص کیے بغیر اور بچے کو قائل کیے بغیر بچے کو سخت اور حتمی احکام نہ دیے جائیں۔ متعلقہ کام کے بارے میں پہلے ماں باپ بچے کو مطمئن او رقائل کریں۔ کیوں کہ قائل ہوجانے کے بعد بچہ سونپے گئے کام کو جوش و جذبے کے ساتھ کرے گا اور اس کام کو اللہ سے اجر و ثواب پانے کی نیت سے سر انجام دے گا۔ اس طرح ہم اپنے بچوں کو خلوص کے ساتھ کام کرنے کی تربیت دے سکیں گے۔

٭ والدین ہمیشہ کوشش کریں کہ بچے کی ذات کی تحسین و ستائش کریں، اسے سراہیں اور خاندان میں اس کی اہمیت سے اسے آگاہ کریں۔ اسے باور کرائیں کہ وہ خاندان کا ایک قابل قدر فرد ہے اور والدین اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ پھر اسے خاندان کی خصوصیات اور خاندان کے رازوں سے آشنا کریں کہ ان کی حفاظت کرنا اس کا فرض ہے۔

٭ اخلاقی قدروں کو نشو و نما دینے کی خاطر کہانیوں اور دیگر ذرائع کو بروئے کار لائیں اور ’’رازوں کی حفاظت‘‘ کا مفہوم اور اس کی اہمیت خاندان و معاشرے میں اس کے قلب و ذہن میں راسخ کریں۔ نیز رازوں کی حفاظت سے مربوط دیگر اقدار جیسے امانت داری، دیانت داری، دوسروں سے محبت، ان کی حفاظت و تحفظ بھی بچے پر واضح کریں۔

٭ درست و پرمغز نصیحت اور اعلیٰ دانائی کی باتیں بروئے کار لائیں: جیسے بیٹے اگر تم لوگوں میں باوقار بننا چاہتے ہو تو پھر اس وقت تک کسی چیز کے بارے میں بات نہ کرو، جب تک کہ تمہارے لیے اس خبر کا ذریعہ یقینی اور سچا ہونا واضح نہ ہوجائے۔ بات کرنے سے پہلے سوچ لیا کرو کہ جو کچھ تم لوگوں کے سامنے بیان کرنے لگے ہو یہ کہیں کسی کے راز تو نہیں اور تم کسی کے راز پھیلا کر اسے نقصان تو نہیں پہنچا رہے ہو۔ بیٹا، جب تمہارے پاس کوئی خبر یا اطلاع لے کر آئے تو پہلے چھان بین کرلیا کرو۔ بجائے اس کے کہ بعد میں تمہیں ندامت و افسوس ہو۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔‘‘

*بیٹا، اگر کوئی تم پر اعتماد کرے تو خبر دار اس کے ساتھ غداری و بے وفائی نہ کرنا۔

*لوگوں کے عیب ظاہر نہ کرنا وہ گرنہ اللہ تمہیں تمہارے گھر میں رسوا کردے گا۔ تیرا پروردگار، پردہ دار ہے وہ پروہ دار کو پسند کرتا ہے۔

* اپنی رائے پر ڈٹ جانے والے نہ بنو، دوسروں کو متاثر کرو اور ان سے اثر قبول کیا کرو۔

میرے لخت جگر، تم لوگوں کی خواہشات اور دلچسپی کو تبدیل کر سکتے ہو، تم لوگوں کے دلوں پر قبضہ کرسکتے ہو۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ تم ان کے بھید نہ کھولو۔ تم لوگوں کے دلوں کو اپنی مٹھی میں لے سکتے ہو۔ اپنی مسکراہٹ سے اپنی ذہانت سے، اپنے لفظوں کی مٹھاس سے تم ان لوگوں کو مسحور کرسکتے ہو۔ بیٹا، مسکراتے رہا کرو۔ پاک ہے وہ ذا ت جس نے مسکراہٹ کوبھی ہمارے دین میں عبادت بنا دیا ہے۔ تبسم پر ہمیں اجر و ثوات ملتا ہے۔ اگر تمہیں کوئی ایسا نہ ملے جو تمہاری خاطر مسکرانے والا ہو تو بیٹا، ، تم اس کے لیے مسکراؤ۔ دیکھو بیٹا اگر تمہارا چہرہ مسکرا رہا ہے تو پھر یقین مانو کہ جلد ہی لوگوں کے دل تمہارے سامنے کھل جائیں گے اور ان کے اندر داخل ہوسکوگے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: ڈاکٹر سمیر یونس ترجمہ: محمد ظہیر الدین بھٹی

Leave a Reply