ریاضی

حساب سیکھنا مشکل تو ہے مگر۔۔۔

عام طورپر بچوں کی ایک دل لبھانے والی سرگرمی اپنے کھلونے، کپڑے، جوتے، ڈرائنگ میٹریل اور دیگر اشیاء کو گننا ہوتا ہے۔ یہاں تک خیریت ہوتی ہے، اس کے بعد بھی سادہ سی جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم بھی آسانی سے سمجھ میں آنے والی چیزیں ہیں، لیکن اس کے بعد جہاں حساب پیچیدہ اور طویل ہوتا ہے، بچے اپنا اعتماد کھونے لگتے ہیں۔ اب پرائمری اسکول میں حساب ان کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔ جب وہ بنیادی رموز پر عبور حاصل نہیں کرپاتے تو انھیں حساب کا پیریڈ اور ٹیچر دونوں اچھے نہیں لگتے اور وہ چاہتے ہیں کہ کلاس میں ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ والدین ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھتے ہوئے ان کی حتی الامکان مدد کرتے ہیں۔

جنہیں خود حساب پر عبور ہوتا ہے وہ عملی طور پر اس مضمون کو سمجھنے اور مشکلات حل کرنے میں اخلاقی و تدریسی تعاون کرتے ہیں، اور کچھ انھیں ٹیوشن دلواتے ہیں تاکہ کارکردگی بہتر ہوسکے۔ ٹیوٹر ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے ان پر انفرادی توجہ دیتا ہے جسے وہ کلاس روم میں پوچھ نہیں پاتے۔

چھوٹے بچوں کو حساب کتاب کی ذہنی مشق کے لیے زیل میں چند فٹ نوٹس دیے جا رہے ہیں، ان کی مدد سے آپ بچوں کو حساب سیکھنے کی رغبت دلاسکیں گے۔

فرضی امتحان لیا کیجیے

اپنے بچے میں حساب سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ایک فہرست ایسی بنائیں جس میں اس کے پسندیدہ گروسری آئٹمز یا چاکلیٹس موجود ہوں، اور اسے علیحدہ پرائس لسٹ (قیمتوں کی فہرست) بھی دیجیے۔ اسے کہیے کہ ممکنہ قیمت کا تعین خود کرے اور لکھے کہ فلاں چاکلیٹ کا پیکٹ کم از کم یا زیادہ سے زیادہ کتنے روپیوں کا ہو سکتا ہے؟ اسے کیلکیولیٹر اور پین کاغذ دونوں چیزیں دیں تاکہ وہ چاہے تو ٹیکنا لوجی کا استعمال کر کے اس مشق کو آسان بنالے۔

ایک فرضی سا جنرل اسٹور بنالیں

اس اسٹور میں آپ ہوں گی کیشیر اور بچہ ہوگا آپ کا کلائنٹ۔ وہ اپنی کھلونا باسکٹ میں ضرورت کی اشیاء نکالے، جمع کرے اور پیسے لے کر آپ کے پاس آئے، اسے چند اشیاء ہی کے پیسے دیجئے گا ورنہ وہ غیر ضروری اشیاء بھی خرید لے گا۔ اسے اچھی طرح باور کرا دیجئے کہ بیٹا تمہیں اس جنرل اسٹور میں صرف 100 یا 200 روپے ہی خرچ کرنے ہیں۔ اب وہ محتاط ہوکر اس حد میں رہ کر اشیاء کا انتخاب کرے گا تاکہ اس کا بجٹ آؤٹ نہ ہو۔ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا تو ایسا محاورہ ہے جو انسان کو ایسا ہی چیلنج دیتا ہے، یعنی بچے کو شاپنگ بھی کرنی ہے اور بجٹ کے اندر بھی رہنا ہے۔ ایک پرکشش آفر بھی اس کے ساتھ منسلک کردیں کہ اگر آپ نے چند سکے بچا لیے تو ایک کوپن بھر کر سر پرائز گفٹ ہمپر جیتنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم خیال رہے کہ یہ گفٹ ہمپر فرضی نہ ہو، آپ کو بچے کی توجہ حاصل کرنی ہے اسے بور نہیں کرنا ہے۔

آج آدھے گھنٹے کے لیے آپ کا بچہ جونیئر سیف ہوجائے گا۔ کچن کے آلات سے آپ اس کو اوزان اور تقسیم کی جزئیات سکھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کو ساڑھے تین کپ کے برابر چاول تیا رکرنے ہیں تو تین کپ کے بعد آدھے کپ کی پیمائش کیسے ہوگی؟ اور آپ کے پاس ایسا کوئی ہندسوں والا جگ موجود ہے تو اس کی مدد سے پیمائش کیجیے۔ آدھے کی پیمائش قدرے سہل ہے لیکن چوتھائی اور آٹھواں کی پیمائش کیسے ہوگی؟ ان نمبروں کی پہچان اور شناخت کا عمل اسی طرح پیمائش والے جگ کی مدد سے آسان ہوجائے گا۔

گھڑی دیکھنا اور وقت بتانا

کیا آپ کا بچہ ڈیڑھ اور ساڑھے کے مابین امتیاز کرنا جان گیا ہے؟ کئی بچے ڈیڑھ بجے دن کو ساڑھے ایک کہتے ہیں اور اسی طرح ڈھائی بجنے کو ساڑھے دو پکارتے ہیں۔ اپنے بچے کو کھلونا گھڑی سب دلا دیتے ہیں لیکن وقت بھی تو سکھانا چاہیے۔ گھڑی آپ کو ہندسوں کے درمیان موجود فرق، جمع، تقسیم اور تفریق تینوں بنیادی حسابی نکتے سمجھا سکتی ہے۔ بچے کی گھڑی کی سوئیاں علیحدہ علیحدہ کر کے وقت کی شناخت کرنا تربیت کا دلچسپ ترین مشغلہ ہے۔ ایسا بچہ کھیل ہی کھیل میں سیکنڈوں، منٹوںاور گھنٹوں کے اعداد کو شمار کرنا سیکھ لیتا ہے۔ ان کے چوبیس گھنٹے، رات کے اوقات دن کے اوقات، سونے جاگنے، کھانے پینے اور ہوم ورک کے اوقات اور ان سب پر اپنی ترجیحات … ان سب کا علم رکھنا اسی طرح سہل ہوتا چلا جاتا ہے۔

گاڑی کی رفتار پر نظر

جنرل اسٹور پر جاکر اشیا کو گننا، گاڑی چلتے ہوئے رفتار کا میٹر دیکھتے رہنا اور گاڑی جو بھی چلا رہا ہے اس سے یہ سوال پوچھا جانا دلچسپ مشغلہ ہوتا ہے۔ آپ بچے کے تجسس کو روکیے مت، اسے اپنی شخصیت کو پروان چڑھانے کے لیے نت نئی سرگرمیوں میں محو ہونا چاہیے۔ اسی طرح زندگی کی کشش و جاذبیت برقرار رہتی ہے۔

ریسٹورنٹ میں جاکر مختلف اشیاء کی گنتی اور ان کے رنگوں کا تعین کر کے فوری طور پر جواب دینا ذہانت کی دلیل ہوتی ہے۔ چار پانچ برس کا بچہ اس سرگرمی کو بہت پرلطف سمجھتا ہے۔ آپ اسے اس ماحول سے متعلق جو کچھ انوکھا پن محسوس کر رہی ہوں اس کی بابت علم دے سکتی ہیں۔ بچہ انٹیریئر (اندرون آرائش خانہ) میں سے منفرد چیزوں کا تذکر کر سکتا ہے، کوئی جغرافیائی شکل، وال پیپر پر کوئی اچھوتا سا ڈیزائن یا ٹائلوں میں کوئی انفرادیت وغیرہ سے اسے انجوائے کرنے دیں۔ بچے اسی طرح ماحول سے تربیت حاصل کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ بیرونی دنیا میں اپنی شخصیت کو شامل کرتے ہیں۔ سوشل ہوتے ہیں اور اعتماد سے مکالمہ کرنا سیکھتے ہیں۔

حساب سے نہ دشمنی نہ نفرت

بچہ تو بچہ ہوتا ہے، اس کے کہنے پر نہ جائیں کہ حساب اسے اچھا نہیں لگتا۔ در اصل حساب نہ آنے پر اس کے نمبر کم آتے ہیں یا کاپی پر سرخ پین کے نشانات زیادہ لگتے ہیں اور "Good” نہیں ملتا۔ اسے پہاڑے یاد نہیں ہوتے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اسے اس کوفت سے نجات کے لیے باقاعدہ حساب سکھانے کی مہم شروع کی جائے۔

کس طرح ضرب کر کر کے پہاڑے مکمل کیے جاسکتے ہیں؟ کس طرح اعداد جمع کر کر کے کرکٹ کا اسکور بتایا جاسکتا ہے؟ بچے کی پسندیدہ کوکیز کی تعداد کتنی ہے؟ اسے گن کر بتایاجائے۔ ایسے ویڈیو گیمز دیکھے جائیں جن سے حساب کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے۔ حساب کے ایسے فارمولے جو عام فہم ہوتے ہیں، انہیں رغبت سے سکھایا جائے تو یہ ہرگز مشکل نہیں۔ مگر کسی بھی مضمون کا علم حاصل کرنے کے لیے Mind set کرنا ضروری ہے۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب آپ کا بچہ پکار اٹھے گا کہ "I love math”۔

شیئر کیجیے
Default image
جویریہ ایوب

Leave a Reply