ٹی بی

ہندوستان میں ٹی بی کا قہر

گذشتہ دنوں گورکھپور کے ایک اسپتال میں چوبیس گھنٹوں کے اندر ۷۰ بچوں کی اموات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعہ کے بعد بھی مذکورہ اسپتال میں بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری رہا، پھر ملک کے کئی دیگر علاقوں سے اسی انداز میں بچوں کی موت کی خبریں آتی رہیں۔ ملک میں احتجاج بھی ہواور سیاست بھی۔ معاملہ معصوم بچوں کا تھا اس لیے ہرکسی کا دل غم کے جذبات سے بھر گیا۔ لیکن کیا ہمیں یہ معلوم ہے کہ اسی ملک میں جہاں ہم رہتے ہیں ہر سال کتنے بچے ٹی بی سے مر جاتے ہیں۔ جی ہاں دنیا کے معروف ادارے Lancet نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ ۲۰۱۵ میں ہندوستان میں ۶۰۰۰۰ بچے ٹی بی کے سبب موت کے منہ میں چلے گئے۔ بچوں کی اس بڑی تعداد میں اموات پر نہ کہیں احتجاج ہوا اور نہ سیاسی بیان بازی اور نہ ہی اس صورت حال کو بدلنے کے لیے کوئی مطالبہ۔ حد تو یہ ہے کہ حکومتی سطح پر بھی یہ تحریر لکھے جانے تک کسی مضبوط پالیسی سازی کا اعلان نہیں ہوا۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں جذبات کی سیاست ہوتی ہے اور جہاں جذباتی سیاست ہو وہاں تعمیر اور فلاحی کام محض وقتی او رووٹ کے حصول کے لیے کیے جاتے ہیں۔ کیوں کہ سیاست داں جانتے ہیں کہ جذبات کی رو تھمے گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا اور اگر پھر کوئی جذباتی رو اٹھی تو اس کے لیے کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیا جائے گا اور عوام پچھلی بات کو بھول جائیں گے۔

گزشتہ مہینے WHO کی ٹی بی رپورٹ ۲۰۱۶ جاری کی گئی جس میں یہ انکشاف ہوا کہ ۲۰۱۵ میں چار لاکھ اسّی ہزار انسان ہمارے ملک میں ٹی بی کے سبب موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس سے زیادہ حیران کن اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ تعداد گزشتہ برس یعنی ۲۰۱۴ کے مقابلے دو گنی ہے۔ جب۲۲۰۰۰۰افراد اس مرض کے سبب موت کا شکار ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ’ اچھے دنوں‘ میں ’برے دنوں‘ کے مقابلے اموات کی شرح دو گنی ہوگئی۔ اس سے زیادہ تشویش اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹی بی کے نئے مریضوں میں صرف ہندوستان کی حصہ داری ۲۷ فیصد ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ ٹی بی کے مریض صرف ہمارے ملک ہندوستان میں رہتے ہیں اور دنیا میں ہندوستان کی آبادی کے تناسب سے یہ فیصد کافی تشویش ناک ہے۔

ٹی بی کے سبب بچوں کی اموات کے سلسلے میں ہمارا ملک دنیا میں سب سے آگے ہے۔ WHOکی مذکورہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۵ میں۶۰ ہزار سے زیادہ بچوں کی ٹی بی کے سبب موت کے ساتھ ہندوستان دنیا میں سب سے آگے رہا ہے اور اس کے بعد نائیجیریا کا نمبر آتا ہے جہاں اسی سال یعنی ۲۰۱۵ میں ۲۰۰۰۰ بچوں کی ٹی بی کے سبب موت واقع ہوئی۔ ہندوستان اور دوسرے نمبر پر آنے والے ملک کے درمیان فرق کا تناسب بھی حیرت انگیز ہے اور دونوں کے درمیان ایک اور تین کی نسبت ہے اور یہ نسبت ہندوستان جیسے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی طاقت کے لیے شرمناک ہے۔

ہندوستان میں ٹی بی کا مرض خطرناک صورت حال اختیار کر سکتا ہے اگر حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کی جانب سے اس کے تدارک کے لیے سنجیدہ اور منظم جدوجہد نہ کی گئی۔ اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں نہ صرف ٹی بی کے مریضوں کا عالمی سطح پر تناسب بہت زیادہ ہے بلکہ ۲۰۱۴ کے مقابلے میں ۲۰۱۵ میں مریضوں کے درمیان اس مرض کے وائرس ٹی بی کی دواؤں کے خلاف مدافعت میں کامیاب رہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ۱۱ فیصد مریضوں پر دوائیں کارگر ثابت نہ ہوسکیں جسے عام طبی اصطلاح Drug Resistance T.B کہتے ہیں۔ دواؤں کے خلاف مرض کے وائرس کی مدافعت کی صورت میں ٹی بی کے مرض کا علاج تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں مذکورہ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2.5 فیصد ٹی بی کے مریض DRتھے اور یہ یا تو پہلے اور دوسرے مرحلے کی دواؤں کو ہرا چکے تھے یا کسی ایک مرحلے کی دو اپر قابو پاچکے تھے۔

WHO کی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ دنیا کے صرف چھ ممالک انڈیا، چائنا، انڈونیشیا، نائیجیریا، پاکستان اور ساؤتھ افریقہ وہ ممالک ہیں جہاں سے کل ٹی بی کے نئے مریضوں کا ۶۰ فیصد حصہ ہے۔ ان چھ ممالک میں ہندوستان وہ ملک ہے جہاں مریضوں کا اندراج سب سے کم ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ۲۰۱۴ میں ٹی بی مریضوں کا محض ۵۶ فیصد ہی رپورٹ میں آسکا تھا جب کہ ۲۰۱۵ میں رپورٹ شدہ مریضوں کا تناسب ۵۹ فیصد ہوگیا۔ مذکورہ تناسب کے تغیر سے ایک بات تو واضح ہے کہ ہندوستان میں ٹی بی کے کیسز جتنے رپورٹ کے کیے جاتے ہیں اور سرکاری اعداد و شمار میں شامل ہو پاتے ہیں وہ اس سے کافی کم ہیں جو حقیقت میں موجود ہیں۔ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ۲۰۱۲ میں حکومت غیر سرکاری اسپتالوں کو بھی اس بات کا پابند کیا تھا کہ وہ اپنے یہاں آنے والے ٹی بی کے مریضوں کی تعداد کا سرکار کے پاس اندراج کرائیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ انھوں نے کتنے مریضوں کا مکمل اور کامیاب علاج کیا لیکن کوئی بھی ایجنسی یہ پتہ نہ لگا سکی کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں کتنے ٹی بی کے مریض آئے اور نتیجتاً شرح اموات اس سے زیادہ ہے جو رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

WHO کی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں لگ بھک ایک کروڑ ٹی بی کے نئے مریض سامنے آئے ان میں صرف ہندوستان، رشیا اور چائنا سے ۴۵ فیصد مریض تھے۔ اسی طرح دنیا بھر میں اس مرض کے سبب ۱۴ لاکھ افراد لقمہ اجل بنے اور ان میں مزید چار لاکھ افراد وہ تھے جو HIVکا بھی شکار تھے۔ اس طرح یہ تعداد 18 لاکھ تک پہنچ گئی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں چار کروڑ نوّے لاکھ افراد کو علاج کے ذریعے گزشتہ پندرہ سالوں میں موت کے منہ میں جانے سے بچایا جاسکتا لیکن اس تمام جدوجہد کے باوجود جانچ اور دوا علاج کی سہولت اور مریض کے درمیان کافی بڑا فاصلہ ہے، جس کا اندازہ اعداد و شمار دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر مدھکر پائی ڈائرکٹر میک گل گلوبل ہیلتھ پروگرام کینڈا کہتے ہیں:

’’ہندوستان ایک عرصہ سے ٹی بی کے مریضوں کو سرکاری اور غیر سرکاری معالجاتی اداروں میں نظر انداز کرتا رہا ہے چناں چہ دیکھتے ہیں کہ مرض کے پھیلاؤ اور دوا کی کارکردگی سے متعلق سروے نہیں کیے گئے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں:

’’ہندوستان کا ٹی بی کنٹرول پروگرام بھی انتہائی کمزور قسم کے جانچ کے آلات پر انحصار کرتا ہے اور اکثر ان چیزوں کی جانچ کی جاتی ہے جو اکثر اوقات مرض کا پتہ دینے میں ناکام رہتے ہیں۔‘‘

اس سلسلے میں ڈاکٹر پائی کا ہندوستان کو واضح مشورہ ہے کہ:

’’حقیقت کا ادراک کرو، بہتر اور حقیقی اعداد و شمار شرح اموات کے اور دوا کے خلاف مزاحمت کے جمع کیے جائیں اور اس بڑی مصیبت کے مقابلے کے لیے زیادہ فنڈ مہیا کرایا جائے۔‘‘

حقیقت یہی ہے کہ گزشتہ سال یعنی ۲۰۱۵ کی رپورٹ ہندوستان کی ایک بھیانک مگر حقیقی تصویر پیش کرتی ہے اور مستقبل کے سلسلے میں جو اندازہ پیش کرتی ہے اسے دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ کتنی حیرت کی بات ہے اور افسوس کی بھی کہ اسی ملک میں ہمارے آس پاس رہنے اور بسنے والے ۴۸۰۰۰۰ افراد ٹی بی کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے گئے اور ملک کو خبر بھی نہ ہوئی۔ جب کہ آئندہ تیرہ سالوں کے سلسلے میں یہ شرح اموات ۱۵۲ فیصد بڑھنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ اگر ہم نے سماجی اور سرکاری دونوں سطحوں پر اس کے سلسلے میں بیداری کی کوشش نہ کی تو ملک کے کئی لاکھ لوگ ہر سال اس کا شکار ہوکر مر جائیں گے۔ اس لیے ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمے داری ہے کہ ہم ہرسطح پر اس بیماری کے سلسلے میں عوام کو بیدار کریں اور جو بھی اس سے متاثر فرد ہمیں نظر آئے کار خیر سمجھ کراسے ضلع اسپتال اور سرکاری ادارے تک لے جائیں جہاں حکومتی سطح پر اس کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں ہر ضلع میں DOTS کے نام سے ٹی بی کے علاج کے مراکز چل رہے ہیں جہاں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply