حضرت انسان اور حیوانی خصلتیں

یہ بھلے وقتوں کی بات ہے جبکہ خونخوار بھیڑیے بھی حاکم وقت کے رعب سے جانوروں پہ حملہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ فی زمانہ حضرت انسان خود بھیڑیے کی کھال پہنے سیر سپاٹے کرتا ہمہ وقت کسی ’’کمزور شکار‘‘ کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ ویسے شکار کی بات کی جائے تو یہ خصلت انسان نے شاید جانوروں سے ہی سیکھی ہے۔ پر آج کل تو برملا کہا جاسکتا ہے کہ اولاد آدم نے جانوروں سے مذکورہ عادت چھین کے جملہ حقوق اپنے لیے محفوظ کروا لیے ہیں کہ اب جنگل کا بادشاہ اور بھیڑیے وغیرہ صرف ’’بد اچھا بدنام برا‘‘ کی زندہ مثال بنے پھر رہے ہیں۔ و گرنہ شکار کو دیکھ کر جھپٹنے اور اس کی ہڈیاں تک نوچ ڈالنے میں ’’اشرف المخلوقات‘‘ نے کئی ریکارڈ نامہ اعمال میں جمع کروا دیے ہیں۔

اعمال نامہ تو روز محشر جانوروں کا بھی کھولا جائے گا اور ’’اقوام‘‘ کی کئی زیادتیوں کا حساب چکتا کر کے انہیں مٹی کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔ ڈرنا تو انسان کو چاہیے کہ اس کے لیے آخرت میں ایسے کسی پیکج کی نوید نہیں سنائی گئی۔ یہ جانتے ہوئے بھی دانستہ و نادانستہ انسان جانور سے مقابلے بازی میں جیت گیا ہے، بلکہ دو قدم آگے ہی چل رہا ہے اور ناچیز کی ’’ماہرانہ رائے‘‘ میں یہ سراسر سائنسی و جنیاتی مسئلہ ہے، چوںکہ سائنسی نظریہ ارتقا کے مطابق انسان کے آبا و اجداد محفوظ تاریخ سے پیشتر بندر کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، لہٰذا اپنے بڑوں کے رسم و رواج کو بڑھا دینا اپنے ماضی سے محبت کا ثبوت بھی ہے اور رواداری کا اظہار بھی کہ دورِ حاضر میں ’’روشن خیال‘‘ طبقے کی پسندیدہ سوغات ہے۔ اس حساب سے دنیا کے وسائل پر قابض حکمرانوں کے دربارِ عالیہ میں ’’شرف قبولیت‘‘ کی اعلیٰ ترین سند بھی۔ سب سے بڑھ کر سینہ ٹھونک کر جینے کا تیر بہدف نسخہ بھی۔ گویا ’’ایک تیر سے تین شکار‘‘ ہو رہے ہیں۔

شنید ہے کہ بندروں نے جب شعور کی سیڑھی پر قدم رکھا تو کپڑے پہننے شروع کیے اور آگے چل کر انسان کہلائے۔ اب وہی انسان دوبارہ ’’بندر‘‘ کہلائے جانے کے درپے ہے کہ ’’چھوٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی‘‘ مشہور زمانہ کہاوت ’’چور چوری سے جائے، ہیرا بھیری سے نہ جائے‘‘ بھی انسان کے اسی ’’بندرانہ‘‘ رویے سے متاثر ہوکر وجود میں لائی گئی ہوگی۔ وجود سے یاد آیا کہ مختلف النسل جنگلی جانوروں کی (جس میں جناب بندر سر فہرست ہیں) دن بہ دن معدوم ہوتی آبادی پہ ’’انجمن تحفظ جنگلی حیات‘‘ کے کارندوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس پر راقم کی طرف سے ماہرانہ تبصرہ بھی نشر ہوتے ہوتے رہ گیا جو کچھ یوں تھا کہ ’’بھئی جب حضرت انسان نے الٹی گنتی شروع کر کے بندر سازی کی طرف تیزی سے دوڑ لگادی ہے تو اول الذکر حیات نے مارے شرمندگی کے اپنی نسلی افزائش روک کر ’’وزارت بہبود آبادی‘‘ قائم کرلی اور سخت ترین قوانین بھی نافذ کرلیے تاکہ انسان فراخ دلی سے اپنا ’’ارتقائی سفر‘‘ طے کرسکے۔ ویسے ایک عدد وزارت بہبود آبادی انسانوں کی بستی مین بھی پوری آب و تاب سے ’’بستی‘‘ ہے، مگر نظر صرف اپنی ہم عصر وزارتوں کی طرح اشتہارات تک ہی آتی ہے۔ و گرنہ زمین پہ تو ہم نے وزارت ہذا کی وہ دھجیاں اڑائی ہیں کہ کئی ’’اقسام‘‘ کے جانور بھی ہمارے اس بے رحمانہ طور پہ بڑھتی آبادی کو دیکھ کر کھسیانی ہنسی ہنستے اور خود کو ’’اشرف الجانورات‘‘ میں شمار کرتے ہوں گے۔

بندر اور ’’دوسرے‘‘ بہت سے حیوانات سے مماثلت کے علاوہ انسان میں گدھے کی بھی کئی خصلتیں پائی جاتی ہیں، جیسا کہ دوران ملازمت کم تنخواہ پہ بلا چوں و چرا ’’گدھے‘‘ کی طرح کام کرتے جانا، حالاں کہ گدھا بیچارہ تو روکھی سوکھی گھاس پہ بھی گزارہ کر لیتا ہے، مگر انسان کم اجرت کا رونا اپنے سے بڑے ’’گدھے‘‘ کے سامنے تو نہیں رو سکتا، البتہ تنہائی پاکر گدھے کی طرح ’’ڈھینچوں ڈھینچوں‘‘ کر کے اپنا غم ہلکا کرلیتا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو انسان اور گدھے کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ اسی رومانوی تعلق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسان نے گدھے سے اجازت لیے بنا کئی محاورے اس کے نام پہ بنا ڈالے۔ اور وقتاً فوقتاً استعمال میں لا کے ’’جملہ حقوق‘‘ کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وطن عزیز میں لوگوں نے گدھے سے اپنے لافانی تعلق کا ذہن پہ اتنا اثر لے لیا ہے کہ اب تو طرزِ حکومت میں بھی موخر الذکر صنف کی جھلک صاف دکھائی دینے لگی ہے۔ روایت ہے کہ ’’ایک جنگل میں شیر کی بیماری کی وجہ سے قائم مقام بادشاہ چننے کے لیے اجلاس جاری تھا۔ کافی گفت و شنید کے بعد بھی جب کوئی فیصلہ نہ ہو پایا تو کسی شرارتی جانور نے گدھے کو منصب سونپے جانے کی سفارش کردی۔ تمام جانور یک زباں ہوکر بول پڑے کہ یہ جنگل کے حکومتی امور کا معاملہ ہے کسی ملک کے چلانے یا سپر پاور ثابت کرنے کا نہیں۔ اور بات ختم ہوگئی۔

گدھے کے بعد بھینس کا نمبر آتا ہے، جس کی ایک ’’خوبی‘‘ حضرت انسان خصوصاً ہم وطنوں میں کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہے۔ مثلاً ہم میں سے بیشتر لوگ اپنے خود ساختہ نظریے سے گوند کی طرح چپکے رہتے اور ہزارہا دلائل کے باوجود بھینس کی طرح ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ مشہور زمانہ محاورہ ’’بھینس کے آگے بین بجانا‘‘ اسی طرز عمل کو دیکھ کر نافذ العمل کیا گیا ہے۔ ویسے بین بجانے میں سیاست دانوں سا ماہر ملنا محال ہے کہ سالوں سے ایک ہی دھن بجائے جا رہے ہیں اور عوام بے چاری لکیرکی فقیر بنی ان کے پیچھے چلی جا رہی ہے، چوں کہ افرادی قوت کا بیشتر حصہ غم روز گار سے آزاد ہے تو زیادہ تر لوگ بھینس ہی کا ایک اور اعلیٰ تر مشغلہ ’’جگالی‘‘ کرتے نظر آتے ہیں او روقت گزاری کی خاطر نعرے بازی کر رہے ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ بلاشبہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی کی طرح ہوتے ہیں، جو ذبح نہ کیے جانے تک ’’مالک‘‘ کی معاشی حالت اور توند کا سائز ضرور بڑھاتے ملیں گے، البتہ ملکی معاشی حالت کو دیکھا جائے تو معاملہ بالکل الٹ ہے، یہاں جوں جوں ’’ذمے داران‘‘ اپنا وجود بڑھائیں گے۔ ملک کا وجود اور قد سکڑتا جائے گا۔

اختتامی نوٹ: جانوروں کی عالمی تنظیم (اگر کوئی ہے تو) کسی قسم کی توہین حیوانیت پہ ہر فورم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ریحانہ جبار یوسفی

Leave a Reply