سیپ بند موتی

انگلیاں مروڑتے ہوئے اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ ٹانگوں کی کپکپاہٹ کو اس نے پاؤں پر دباؤ ڈال کر قابو کیا ہوا تھا۔ ایڈوکیٹ خلیل احمد کی بیگم مسلسل اسے گھورے جا رہی تھیں۔ گرچہ انھوں نے تو وکیل صاحب سے کہا بھی تھا کہ ’’رہنے دیں، دو چار دن کا شوق ہے، اتر جائے گا‘‘ لیکن وہ تو اس بالشت بھر کی لڑکی پر سخت برہم تھے اور اس سے دو بدو بات کرنا چاہتے تھے، تب ہی آج اسے پیغام بھیج کر گھر بلوایا گیا تھا۔ سو تمکین اپنی ماں کے ساتھ چلی آئی۔ خلیل احمد کے سامنے اس کی رہی سہی سانس بھی اٹکنے لگی تھی۔ اس نے ’حسبی اللہ‘‘ کا ورد تیز دیا۔ بات گو کچھ ایسی بھی نہ تھی کہ تمکین سامنا نہ کرسکے، لیکن ایڈوکیٹ خلیل صاحب کی شخصیت ہی اتنی رعب دار تھی کہ سامنے کھڑے ہونا بھی کسی معرکے سے کم نہ تھا۔

کھنکھارنے کی آواز کے ساتھ ہی ایڈوکیٹ خلیل کمرے میں داخل ہوئے اور عین سامنے کھانے کی میز کی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئے۔ تمکین نے کھڑے ہوکر سلام کرنا چاہا لیکن انھوں نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بیٹھنے کو کہا۔ ’’اچھا! تو اب مجھ سے بھی پردہ۔‘‘ وہ تمسخر اڑاتی ہنسی سے اپنی بیگم کو دیکھتے ہوئے بولے۔‘‘ دیکھ کا کی! تیرا باپ بھلا مانس آدمی تھا، محلے کا بزرگ ہونے کے ناطے میرا فرض ہے کہ تجھے عقل کی بات سمجھاؤں۔ میں نے دنیا دیکھی ہے، بیس سال سے سپریم کورٹ میں بیٹھا ہوا ہوں، جہاں ملک کے کونے کونے سے ہر قماش کے لوگ آتے ہیں، اور یہ ٹاکی جو تم نے منہ پر لپیٹی ہے، تمہیں پتا ہے، کون عورتیں لیتی ہیں۔‘‘ تمکین کا گلا خشک ہونے لگا۔ ’’غلط قسم کی عورتیں، جو اپنی شناخت چھپاتی ہیں۔‘‘ یہ سن کر تمکین کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔‘‘ ایسی لڑکیاں سرِ شام سڑکوں پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ او رجو ایسی نہیںہوتیں، لوگ انہیں بھی گھورتے ہیں اور ان کا پیچھا بھی کرتے ہیں۔ اب تم نے اچانک ہی حجاب کرنا شروع کر دیا ہے تو لڑکے تمہیں بھی تنگ کریں گے۔‘‘ انھوںنے گویا اپنی بات مکمل کی۔ ’’انکل ان کے گھورنے سے بچانے ہی کے لیے اللہ نے پردے کا حکم دیا ہے۔‘‘ مسز خلیل جو بڑے طمطراق سے بیٹھی فاتحانہ انداز میں شوہر کو دیکھ رہی تھیں۔ تمکین کے جواب پر سٹپٹا کر اسے ناگواری سے دیکھنے لگیں۔ ’’مجھے یہ پتا ہے کہ پردہ اللہ کا حکم ہے اور ہماری امہات المومنین، صحابیاتؓ نے کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ وہ پہنچانی جائیں اور ان پر کسی کی بری نظر نہ پڑے، وہ ستائی نہ جائیں، یہ صرف اللہ جانتا ہے کہ میں اچھی لڑکی ہوں یا بری ، یہ لیبل کسی کے ماتھے پر نہیں لگا ہوتا۔ اگر برے لوگ پردے میں گھوریں گے، تو ان کو نظر تو کچھ نہیں آئے گا ناں۔‘‘ تمکین کی آواز کی لغزش سے اس کے جذبات عیاں تھے۔ دل کی دھڑکن معمول پر آچکی تھی، البتہ ٹانگوں میں کپکپاہٹ ہنوز جاری تھی۔ خلیل صاحب ایک دم کھڑے ہوئے اور بیگم سے بولے ’’اسے کہو، یہاں سے چلی جائے۔‘‘ اور تمکین نے وہاں سے نکلنے میں ایک لمحہ نہ لگایا۔

میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہوکر وہ ایک دن یوں ہی باتوں باتوں میں قرآن اسٹڈی پروجیکٹ کا لیکچر سننے قریبی کوچنگ سینٹر چلی گئی تھی۔ اور اس دن وہاں سورۃ الاحزاب او رسورۃ النور پر لیکچر دینے والی باجی نے جب یہ کہا: ’’آپ خاص لڑکی ہیں، عام نہیں۔ آپ اللہ کی بندی، اس کے آخری نبیﷺ کی امت کی بیٹی ہیں، ہر کوئی آپ کو نہیں دیکھ سکتا۔ ہر کوئی آپ کو چھُو نہیں سکتا۔ کچھ رشتوں کو اجازت ہے، ان رشتوں کے علاوہ اگر کسی نے آپ کو دیکھنا اور چھونا ہے تو اسے آپ کے بزرگوں سے اجازت لینا ہوگی۔ ایک پرمٹ پر، کچھ شرائط پر دستخط کرنا ہوں گے۔ تبھی وہ آپ تک پہنچ سکتا ہے۔ یو آر اسپیشل گرل، یو آر ناٹ ایویل ابل فار ایوری ون۔ اپنی قدر پہچانیں، ملکہ برطانیہ سے کوئی عا شہرہی بغیر اجازت، بغیر اپائنٹمنٹ ہاتھ نہیں ملا سکتا۔ ہاتھ ملانے سے پہلے ان کا شاہی عملہ اپائنٹمنٹ لے کر آنے والے کو آداب سکھاتا ہے۔ تو میری پیاری بہنو! اللہ نے اپنی ہر مسلمان بندی کو ملکہ برطانیہ سے کہیں زیادہ عزت دی ہے۔ زیادہ اکرام دیا ہے۔ آپ مسلم پرنسز ہو، اپنے نبیﷺ کی پرنسز ہو۔ اپنے مقام کو پہچانو اور حجاب اوڑھ کر اپنے موتی کو سیپ پہناؤ۔‘‘ اور … بس، تمکین کے دل میں یہ بات گھر کر گئی۔ تب ہی سے وہ خوب اچھی طرح سے حجاب کرنے لگی تھی۔ اسے حجاب کرنا اس لیے بھی اچھا لگتا ہے کہ وہ خود کو اس کے ساتھ بہت محفوظ تصور کرتی تھی۔

ایک روز وہ کالج سے بس اسٹاپ کی طرف جا رہی تھی، تو ایڈوکیٹ خلیل کی بیٹی نازیہ کی لرزیدہ آواز نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔ پلٹ کر دیکھا تو نازیہ تقریباً بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے آرہی تھی۔ نازیہ نے تمکین کو اپنی جانب متوجہ پایا تو التجائیہ انداز میں بولی: ’’تمکین! کچھ لڑکے میرا پیچھا کر رہے ہیں، آج میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی۔‘‘ یہ سن کر تمکین نے بیگ سے اسکارف نکال کر اسے دیا اور کہا: ’’نازیہ! بے حجاب لڑکیاں جب گھروں سے باہر نکلتی ہیں، تو لاکھ باکردار ہوں، مگر انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ لو، یہ اوڑھ لو۔‘‘ لیکن نازیہ نے اسکارف لینے سے سختی سے منع کر دیا، جس پر تمکین نے کچھ نہ کہا اور اسے اپنے ساتھ اسٹاپ تک لے آئی۔ ابھی بس کے آنے میں کچھ وقت تھا، تو وہ دونوں بینچ پر بیٹھ گئیں۔ ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے اچانک ہی تمکین نے پوچھا: ’’نازیہ! تمہاری نظر میں حجاب کیا ہے؟‘‘ نازیہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا: ’’حجاب، پردہ ہوتا ہے اور کیا…؟ اور سنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں حجاب کرنے والی لڑکیوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔‘‘ جواباً تمکین دھیرے سے مسکرائی اور بولی ’’اگر حجاب کرنے والی لڑکیوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، تو آج تم میرے پیچھے پیچھے کیوں چلی آئیں۔‘‘ یہ سن کر نازیہ کی نظریں جھک گئیں۔ مگر تمکین نے بڑے پیار سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ’’دیکھو، حجاب بذاتِ خود ایک ڈھال ہے۔ اگر غیر جانب داری سے جائزہ لیا جائے تو بے حجابی کے باعث ہی معاشرے میں برائیاں بڑھتی ہیں۔ حجاب کا مقصد محض خود کو ڈھانپ کر محفوظ کرلینا نہیں ہے بلکہ حجاب ایک مکمل معاشرتی نظام ہے۔ غور کرو کہ جس تہذیب کو اپنا کر مغرب خود بانجھ ہوا اس نے اسے ہمارے مضبوط اقدار اور روایات والے معاشرے میں انجیکٹ کر دیا ہے۔ نتیجتاً ہمیں جدت نے وضع دار کی بجائے عامی بنا کر رکھ دیا۔ عورت کو اسلام نے جتنی قدر و منزلت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے رشتوں میں دی، آج ’’گرل فرینڈ‘‘ کی اصطلاح نے گویا پاتال میں پھینک دی۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ عورت کو اسلام، اعلیٰ تعلیم، اپنی صلاحیتوں کے استعمال سے ہرگز نہیں روکتا، بس وہ پورے پروٹو کول کے ساتھ ان کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ ستر و حجاب کے دائرے میں رہ کر بھی مسلمان عورت تعلیم روزگار اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرسکتی ہے۔‘‘ مسلم معاشرے کا فرض ہے کہ وہ مسلم خواتین اور بچیوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔ کیسا پیارا منظر تھا مداری تماشا دکھا رہا تھا۔ سب محظوظ ہو رہے تھے اور نبی کریمﷺ حضرت عائشہؓ کا شوق دیکھتے ہوئے، اپنے بازو پر چادر کی اوٹ کر کے ان کو اپنے حصار کے تحفظ میں تماشے سے لطف اندوز ہونے کا موقع دے رہے تھے۔ تو پیاری سہیلی، حجاب میرا انتخاب بھی ہے، میرا فخر بھی۔ اور میرے رب کا حکم بھی ہے کہ میں ایسے رہوں، جیسے سیپ میں بند موتی۔‘‘ اور پھر تمکین کی نرم لب و لہجے میں کی گئی باتیں نازیہ کے دل پر کچھ یوں اثر کرگئیں کہ اس نے سارے اہل خانہ کی سخت مخالفت کے باوجود دو ٹوک لہجے میں کہہ دیا کہ ’’اگر کالج جاؤں گی، تو حجاب کر کے، ورنہ نہیں جاؤں گی، کیوں کہ میں دکان میں سجا کوئی ڈیکوریشن پیس نہیں، سیپ میں بند موتی بننا چاہتی ہوں۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
شازیہ عبد القادر

Leave a Reply