خواہش

میری تو خوشی کی انتہا ہی نہیں رہی تھی جب مجھے شہلا باجی کے کپڑے پہننے کو ملے… کہاں شہلا باجی کا لامبا قد اور متناسب ڈیل ڈول اور کہاں میں؟

اکثر گھر میں لوگ مجھے ناٹی (یعنی شرارتی ناٹی نہیں بلکہ قد کی ناٹی کہتے تھے) امی نے کھلا پلا کر صحت بھی خوب کر رکھی تھی… گول مٹول نے جب شہلا باجی کے کپڑے پہنے تو وہ صرف لمبے ہونے کی وجہ سے ہی پتا دیتے تھے کہ مجھ سے کئی سال بڑے کسی انسان کے ہیں… مجھے اس بات کی کیا پروا ہے میں نے دل میں اسی وقت سوچا۔

’’کاش کہ میں ہر وقت یوں ہی کیچڑ میں گر جایا کروں اور شہلا باجی مجھ پر عنایت کرتی رہیں۔‘‘

ہوا کچھ یوں تھا کہ ہمارا اور شہلا باجی کا گھرانہ جو کہ ہمارے بڑے دل عزیز پڑوسی تھے پکنک منانے گاندھی گارڈن آئے ہوئے تھے اس زمانے میں گاندھی گارڈن ایک بہت ہی عمدہ تفریحی مقام تھا اور لوگ جوق در جوق یہاں اپنے پورے خاندان کے ساتھ دن گزارنے آتے تھے… سو ہم بھی آئے ہوئے تھے مگر میں ہڑ بونگ بھاگتے بھاگتے کیچڑ سے بھرے گڑھے میں گر پڑی… سب نے مجھے دیکھ کر پہلے تو ہنسنا شروع کردیا، پھر میرے چیخ چیخ کر رونے اور امی کے آنکھیں اکھاڑنے پر سب نظریں چرانے لگے اور مجھے اپنی ہی بدبو برداشت سے باہر ہونے لگی۔ اسی دوران ایک سیمنٹ کی بھی پانی کی ٹنکی نظر آئی اور شہلا باجی امی کے حرکت کرنے سے پہلے مجھے گھسیٹ کر نلکے کے نیچے کھڑا کر چکی تھی۔ انھوں نے اچھے طریقے سے میری دھلائی کی… میں بڑی خاموش اور بڑی شرمائی شرمائی رہی۔ شہلا باجی جو اپنے گھر میں سب کی لاڈلی اکلوتی اولاد تھیں کہ ایک نظر ان میں جھانک لو تو ڈوبتے چلے جاؤ… وہ مجھے یعنی کہ مجھے اتنی توجہ … کہاں تو میں امی اور ان کے درمیان ہونے والی گھنٹوں لمبی لمبی باتوں میں گھسنے کی کوشش کرتی تھی مگر کبھی کامیاب نہ ہوتی اور آج شہلا باجی خود ہی مجھے دلاسے دیتی مجھ سے باتیں کرتی چلی جا رہی ہیں۔ اچھی طرح دھوئے جانے کے بعد شہلا باجی نے اپنے تھیلے میں سے ایک سلیقے سے استری اور تہہ کیا ہوا جوڑا نکالا اور اس سے پہلے کہ امی کچھ کہتیں انھوں نے میرے کپڑے بدل دیے تھے۔

میں پورا وقت ان کے کپڑوں میں پھنسی سب سے شرمائی خوشی سے سرشار گھومتی رہی۔ دوسرے دن امی نے شہلا باجی کے کپڑوں کو اچھے سے دھوکر ان سے بھی زیادہ سلیقے سے تہہ کر کے مجھے تھمایا کہ جاکر شہلا باجی کو دے آؤں اور تاکید کی کہ شکریہ کہنا نہ بھولوں … میں کپڑوں کو کچھ ایسی عزت و احترام سے لے کر شہلا باجی تک پہنچی کہ ان کو ہنسی آگئی۔

وہ ہنستی ہوئی بھی اچھی لگتی ہیں مگر جب سوچ میں ڈوب کر ان کی آنکھیں کہیں دور کسی ان دیکھی شے کو ڈھونڈتی ہیں تو زیادہ بھلی لگتی ہیں۔

اس وقت میرے دل میں ایک خواہش ابھری تھی ’’میرے مالک جب میں بڑی ہوں تو پلیز مجھے بالکل شہلا باجی جیسا بنا دینا… میں بس دوسری شہلا لگوں…‘‘

یہ خواہش میرے دل میں کچھ ایسے جڑ پکڑ گئی کہ میں بچپن سے لے کر نوجوانی تک یہی دعا مانگتی رہی۔ جیسے یہ میری عادت میں شامل ہوگیا تھا، خود کو شہلا باجی جیسا دکھنا، ان کی طرح لگنا… مگر صرف کسی کے کپڑے چند گھنٹوں کے لیے پہن کر تو آپ وہ نہیں بن سکتے۔ ہم اپنے کتنے ہی پرانے چھوٹے بڑے ٹیلر کی نافرمانی کی نذر ہوئے کپڑوں کو دوسروں میں بانٹ دیتے ہیں … پہننے والا بدل تو نہیں جاتا… وہی رہتا ہے … سو میں بھی وہی رہی اور جب مجھے اپنی اس دعا کی تہ تک پہنچنے کے لیے خود کو ٹٹولنا پڑا تو میں نے خود کو سنبھال لیا… ایسا نہیں ہوسکتا… خداوند نے ایک ہی شہلا بنائی ہے اور پھر ہماری زندگی کی راہیں الگ ہوگئیں … ایک دوسرے سے بے خبر ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ گو کہ وہ کمبھ کا میلہ نہیں تھا مگر ہم اس میلے میں گم ہو گئے۔

شہلا باجی ابھی بھی ویسی ہی خوب صورت ہیں … ویسی ہی سوچتی آنکھیں، مگر اب ان آنکھوں کی گہرائی کچھ زیادہ لگ رہی تھی یا پھر میں نے ان کو کئی سال بعد اتنا قریب پایا تھا… سلام دعا اور بہت سی باتوں کے بعد ہم میلے میں لگے کھانوں کے اسٹال کے پاس پہنچ چکے تھے۔ ہم دونوں کے شوہر ساتھ تھے جو کہ ہم دونوں کی پرانی باتوں پر کبھی دھیان دیتے کبھی آپس میں باتوں میں لگ جاتے… شہلا باجی کو پاکر میری خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی میں نے خوشی سے سرشار ہوکر پوچھا: ’’کیا کھائیں گے آپ لوگ؟‘‘

جس پر شہلا باجی چونک گئیں ان کو شاید اب تک کھانوں کے اسٹال کے اتنا قریب آجانے کا خیال نہیں آیا تھا… وہ مسکرا کر بولیں ’’جو بھی کھانا ہے تم بتاؤ… مجھ سے چھوٹی ہو اس لیے میں کھلاؤں گی۔‘‘

اب ہم دونوں میں بحث ہونے لگی… آخر کار میں جیت گئی۔ میں نے شہلا باجی اور ان کے شوہر کو ایک میز گھیر کر کرسیوں پر براجمان رہنے کے لیے کہا اور اپنے شوہر کے ساتھ مختلف اسٹال دیکھنے لگی… میں مسلسل شوہر صاحب سے شہلا باجی کے نفیس اور اعلیٰ ذوق کی تعریف کرتی چلی جا رہی تھی۔‘‘ شہلا باجی کو میں کچھ بہت اچھا سا کھلانا چاہتی ہوں، وہ ہیں بھی تو کتنی باذوق سی خاتون بھلا چھولے، گول گپے، گولا گنڈا جیسی کوئی چیز وہ کہاں کھاتی ہوں گی۔‘‘

میں نے شوہر صاحب سے کہا۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگے پھر ان کو ایک مہنگی والی بریانی کے اسٹال پر لائن پر لگایا اور خود دوسرے اسٹال سے باربی کیوں کی کچھ اقسام لینے دوڑ گئی۔ میں نے پلٹ کر شہلا باجی کی میز کی طرف دیکھا۔ ان کے شوہر کچھ ان کو کہہ رہے تھے اور وہ گردن کو ہلکا سا خم دیے ان کی باتوں کو غور سے سن رہی تھیں … ان کی آنکھیں ہمیشہ کی طرح دور کہیں کچھ تلاش کر رہی تھیں۔ میں مسکرا اٹھی خداوند نے کیا جوڑی بنائی ہے اور وہ ایک دعا جو میں کئی سالوں تک مانگتی رہی تھی یاد آگئی۔ ایک کسک سی دل میں لہر کھا کر اٹھی اور میں نے خود کو جھڑک دیا۔ غلط بات ہے، شہلا باجی کو پتا لگا کہ میں کیسی فضول سوچ رکھتی ہوں تو وہ کیا کہیں گی۔ توبہ کی اور کھانے کی ٹرے لے کر دبے قدموں ان کے پیچھے ان کی میز تک پہنچ گئی کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ شہلا باجی کی یہ گہری سوچ مجھے دیکھ کر ٹوٹ جائے۔

’’کیا ضرورت ان دونوں کو یہ کہنے کی کہ کھانا ہم کھلائیں گے؟ تم کماتی ہو کیا؟ تمہارے ابا جان تمہیں کچھ دے کر گئے ہیں یا؟ اوقات دیکھی ہے خود کی؟ اکلوتی بیٹی، اکلوتی بیٹی… بس پر چار ہی کرتے رہے وہ۔ جو بے کار سا جہیز تم کو دیا ہے دو ٹکے کا دیکھا ہے کبھی اسے غور سے؟؟ ہونہہ… میں بھی کہاں پھنس گیا… اکلوتی!؟ سمجھا تھا کہ کچھ پیچھے رکھ چھوڑا ہوگا بیٹی کے نام… لو جی وہ تو مر گئے اور تم کو میرے پلے باندھ گئے … ایک ٹکے کی بھی امید نہیں کبھی مجھے!! اوروں کو دیکھتا ہوں ساری زندگی لوگ اپنے دامادوں کو بھرتے رہتے ہیں۔ اوپر سے محترمہ کے مزاج ہیں کہ جو ایرا غیرا مل رہا ہے اس کو کھانا بھی یہی کھلائیں گی … جیسے باپ کے پیسے تو پرس میں لیے پھر رہی ہیں یا پھر خود کی کوئی لاٹری نکلی ہوئی ہے۔ شوہر ہے تو لوٹ لو… اپنا نام پیدا کرلو… خود کو امیر دکھانے کا اتنا شوق ہے تو لاؤ نا اپنا پیسہ۔‘‘

شہلا باجی کے شوہر کی زبان ایسے زہر اگل رہی تھی کہ میں باوجود کوشش کے بھی ان کے قریب نہیں ہو پا رہی تھی آخر شوہر صاحب ہی تھوڑی دیر میں خوش مزاجی سے بریانی کے ٹرے لے کر آگئے جس سے مجھے بھی ہمت ہوئی اور میں نے آگے بڑھ کر کھانا میز پر سجا دیا۔ شہلا باجی نے ہلکے سے مسکرا کر مجھے دیکھا اور پھر مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی آنکھوں کی گہرائی میں اضافہ کیوں ہوگیا ہے… ہم نے کھانا شروع کر دیا… مگر میری بھوک مر چکی تھی اور شہلا باجی کے ہاتھ بھی بہت سست روی سے چل رہے تھے… اچانک میرے دل میں کوئی دھیرے سے بولا ’’خداوند کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں شہلا باجی کی طرح نہیں ہوں۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
ہاجرہ ریحان

Leave a Reply