اسلام اور خاندان

اسلام خاندان کو معاشرہ کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ اس کی نظر میں تمام اہل مذاہب کے درمیان معروف فطری اور شرعی ازدواجی زندگی ہی خاندان کی اساس اور اس کی تشکیل کا واحد طریقہ ہے۔

اسی لیے اسلام شادی پر زور دیتا ہے، اس کے ذرائع وغیرہ کو آسان بناتا ہے اور بہ یک وقت تعلیم اور قانون سازی کے ذریعے اس کے راستہ کی سماجی اور اقتصادی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔ اسلام شادی کو مشکل بنانے والی اور اسے موخر کرنے والی بے بنیاد روایات کی مذمت کرتا ہے جیسے مہر کی گرانی، تحائف، دعوتوں اور شادی کی تقریبات میں غلو سے کام لینا، فرنیچر، لباس اور زینت میں اسراف اور ایک دوسرے سے مسابقت جسے اللہ اور رسول تمام ہی قسم کے اخراجات میں ناپسند کرتے ہیں۔ اسلام زوجین میں ہر ایک کے انتخاب میں دین اور اخلاق کو ترجیح دیتا ہے: ’’تم دین دار خاتون سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کرو۔ اللہ تمہیں اچھا رکھے۔‘‘

’’جب تمہارے پاس ایسے لوگ رشتہ لے کر آئیں جن کے دین و اخلاق سے تم مطمئن ہو تو ایسا نکاح کرادو۔ اگر تم ایسا نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔

اسلام جہاں ایک طرف حلال کے ذرائع کو آسان بناتا ہے، وہیں دوسری طرف حرام کے دروازے بند کرتا اور اس کے محرکات پر بھی پابندی عائد کرتا ہے جیسے بابت یا تصویر، کہانی یا ڈرامہ وغیرہ کے ذریعے جنسی بے قیدی اور بے حیائی کا فروغ، جو بہ طور خاص ہر گھر میں داخل اور ہر کان و آنکھ تک رسائی حاصل کر چکے میڈیا کے راستے سے جاری ہے۔

اسلام زوجین کے مابین خاندانی تعلقات کو باہمی تسکین ، محبت، ہمدردی، دو طرفہ حقوق و فرائض اور معروف کے مطابق مل جل کر ساتھ رہنے کے اصول پر استوار کرتا ہے:

’’اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کونا پسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو ناپسند ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘ (النساء:۱۹)

’’ان عورتوں کے لیے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمے داریاں ہیں اور مردوں کا ان کے مقابلہ میں ایک درجہ بڑھا ہوا ہے اور اللہ زبردست ہے اور تدبیر والا ہے۔‘‘ (البقرہ:۲۲۸)

اسلام میں طلاق

اسلام رشتہ ازدواج کو ہمیشگی اور تسلسل کی بنیاد پر قائم کرتا ہے مگر تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانی صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ ازدواجی زندگی کبھی کبھی ناقابل برداشت جہنم بن جاتی ہے اور باہمی اختلافات و تنازعات کی وجہ سے یا رشتہ ازدواج کو قائم و باقی رکھنے والے لوازمات کے فقدان کے نتیجے میں اپنی بقاء و تسلسل کا جواز کھو دیتی ہے۔ اسلام نے ازدواجی مسئلہ کے حل کے لیے ایک ایسا بے نظیر طریقہ اختیار کیا ہے، جس میں امکانی حد تک ازدواجی زندگی کی بقاء کے ساتھ ساتھ عورت کے مزاج کی بھی بھرپور رعایت کی گئی ہے۔ اسی طرح اس میں مرد کے فرائض اور بچوں کے مصالح کا بھی پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

۱- زوجین کے درمیان اختلاف چوں کہ ظاہر اور فطری ممکنات میں سے ہے، اس لیے اسلام نے دونوں کو صبر، رواداری اور خوش اسلوبی سے باہم مل جل کر رہنے کی تلقین کی ہے:

’’اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو، اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘ (النساء:۱۹) اور اختلاف کے شدت اختیارکرلینے کے نتیجے میں اس کے حل کے لیے اسلام نے ایک خانگی عدالت کی تشکیل کا حکم دیا ہے:

’’اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک منصف، مرد کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو اور ایک منصف، عورت کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کرا دے گا۔‘‘ (النساء:۳۵)

۲- اگر یہ خانگی عدالت زوجین کے درمیان مصالحت میں کامیاب نہ ہوسکے تو اسلام نے شوہر کے لیے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو پہلی طلاق دے۔ یہ طلاق رجعی کہلاتی ہے، یعنی اس صورت میں مرد کے لیے جائز ہے کہ عدت کے دوران میں جو تین حیض ہیں، اپنی بیوی کو اپنے عقد نکاح میں لوٹالے۔ یہ تین حیض کی مدت مطلقہ عورت اپنے شوہر کے گھر میں گزارے گی مگر زوجین ایک ساتھ نہیں رہیں گے۔ اگر ایک ساتھ رہنے لگیں گے تو طلاق کا اثر ختم ہوجائے گا اور ازدواجی زندگی پھر سے شروع ہوجائے گی۔ اس کے برعکس اگر شوہر نے عدت کے دوران میں اپنی مطلقہ کو اپنے عقد نکاح میں واپس نہ لوٹایا اور عدت گزر گئی تو یہ طلاق بائن ہوگی اور اس صورت میں زوجین پر لازم ہوگا کہ پوری طرح ایک دوسرے سے علاحدگی اختیار کرلیں۔

۳- اسلام نے جس طرح شوہر کو طلاق کا حق عطا کیا ہے، اسی طرح بیوی کو بھی خلع کے مطالبہ کا حق عطا کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو یہ حق بھی دیا ہے کہ وہ یہ شرط لگائے کہ اس کی عصمت اس کے اختیار میں ہوگی (وہ اپنی مرضی سے اپنے اوپر طلاق واقع کرسکے گی) نیز یہ کہ وہ شکایت کے ازالے کے لیے اور طلاق کی درخواست لے کر عدالت میں جاسکتی ہے۔

۴- اگر زوجین عدت کے دوران میں یا عدت کے بعد ازدواجی زندگی میں واپس آجائیں پھر دوبارہ ان کے درمیان اختلاف ہوجائے تو ان دونوں کے لیے سابقہ طریقہ ہی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس صورت میں اگر شوہر اپنی بیوی کو دوسری بار طلاق دے گا تو یہ طلاق رجعی ہی قرار دی جائے گی اور پہلی طلاق کی طرح اس صورت میں بھی عدت کے دوران میں یا عدت کے بعد زوجین کے لیے عقد نکاح میں لوٹ آنے کا امکان برقرار رہے گا۔

۵- اگر زوجین دوبارہ ازدواجی زندگی میں لوٹ آئیں اور ان کے درمیان پھر اختلاف واقع ہوجائے تو دونوں پر سابقہ طریقہ ہی اختیار کرنا واجب ہوگا۔ اب اگر شوہر تیسری بار اپنی بیوی کو طلاق دے تو یہ طلاق آخری ہوگی، اس کے بعد رشتہ ازدواج میں واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ اسے طلاق بائن بینونت کبری کہتے ہیں۔ یعنی اس کے بعد زوجین کے لیے جائز نہیں کہ ازدواجی زندگی میں واپس آئیں۔ اب سابقہ ازدواجی زندگی میں واپسی کی صرف یہی ایک صورت ہو سکتی ہے کہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے اور اس دوسرے شوہر کے ساتھ رہ کر زندگی کا تجربہ کرے پھر اس شوہر کے انتقال کر جانے کی وجہ سے یا اس کی طرف سے طلاق دیے جانے کی صورت میں یہ نکاح ختم ہوجائے اور وہ عورت اپنے سابق شوہر کے عقد نکاح میں آجائے۔ اس صورت میں اس کا سابق شوہر ازسرنو اس کے سلسلے میں تین طلاق کا مالک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’طلاق دو بار ہے، پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے اور تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ تم نے جو کچھ ان عورتوں کو دیا ہے، اس میں سے کچھ لے لو مگر یہ کہ ان دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے، پھر اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر گناہ نہیں اس مال میں جس کو عورت فدیہ میں دے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں تو ان سے باہر نہ نکلو اور جو شخص اللہ کی حدوں سے باہر نکل جائے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ اس کو طلاق دے دے تب گناہ نہیں ان دونوں پر کہ پھر مل جائیں بشرطے کہ انہیں اللہ کی حدوں پر قائم رہنے کی توقع ہو۔‘‘(البقرہ:۳۰-۹۲۲)lll

(یوسف القرضاوی’خاندانی نظام کا منشور‘ سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply