خود کار مشینیں مذہبی پیشوا بھی!

روبوٹ سازی کے میدان میں ہونے والی ترقی اور خود کار مشینوں کی بڑھتی ہوئی استعداد کار کے پیش نظر یہ پیش گوئی کردی گئی تھی کہ آنے والے وقت میں یہ مشینیں ہر شعبے میں چھا جائیں گی اور جو کام آج انسان کر رہے ہیں مستقبل میں روبوٹ انجام دیں گے۔ یہ پیش گوئی تیزی سے سچائی کا لبادہ اوڑھ رہی ہے۔ آج خود کار مشینوں کی وجہ سے کتنی ہی ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں۔ تاہم چند عشرے قبل روبوٹوں کے غلبے کی پیش گوئیاں کرنے والوں کے ذہن میں دور دور تک یہ بات نہیں ہوگی کہ روبوٹ مذہبی پیشواؤں اور پادریوں کی جگہ بھی لے لیں گے!

روبوٹ سازی کے میدان میں جاپان سب سے آگے ہے اور اسی نے آخری رسومات انجام دینے والا روبوٹ تیار کیا ہے۔ اس روبوٹ کو Pepper کا نام دیا گیا ہے۔ انسان سے مشابہ یہ روبوٹ دراصل چند برس پہلے بنایا گیا تھا۔ انسانی چہرے کے تاثرات پڑھنے والے یہ روبوٹ جاپان میں بینکوں، ریستورانوں اور نرسنگ ہومز میں استقبالیہ کلرک کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہاں یہ آنے والے افراد کو خوش آمدید کہتے ہیں، معلومات فراہم کرتے اور ان سے محدود بات چیت بھی کرتے ہیں۔ اب اس روبوٹ کے سوفٹ ویئر پروگرام میں ترمیم کے ذریعے اسے بودھ بھکشو کا روپ بھی دے دیا گیا ہے۔

’’بھکشو روبوٹ‘‘ مردے کی آخری رسومات کی انجام دہی کے لیے پروگرام کیا گیا ہے۔ آخری رسومات کے لیے بھکشوؤں کو مردے کے لواحقین کی جانب سے باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ بھکشو روبوٹ یہی کام ان سے نصف معاوضے میں کرے گا۔ جاپان میں مردوں کی آخری رسومات کی انجام دہی کی خدمات فراہم کرنے والی متعدد کمپنیاں اور ادارے موجود ہیں، ایسی ہی ایک کمپنی نسائی ایکو ہے۔ مذکورہ کمپنی نے حال ہی میں روبوٹ بھکشو کے ذریعے آخری رسومات کی انجام دہی کی سروس کا آغاز کیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق یہ سروس خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو زیادہ رقم خرچ نہیں کرسکتے اور جنہیں مشین کے ذریعے اس مذہبی فریضے کی انجام دہی پر اعتراض نہیں۔ بھکشو اس مقصد کے لیے ایک لاکھ ین تک معاوضہ لیتے ہیں مگر روبوٹ بھکشو کی خدمات حاصل کرنے پر معاوضہ تقریباً آدھا ہوجائے گا۔

روبوٹ بھکشوؤں کو ’’دوران کار‘‘ عام بھکشووں جیسا روایتی لباس پہنایا جاتا ہے۔ کمپنی کا ایک نمائندہ اسے آپریٹ کرنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ روبوٹ جاپانی زبان میں مخصوص دعائیہ کلمات اور مناجات پڑھتے ہوئے مردے کو سفر آخرت پر روانہ کرنے کے آخری مراحل کی تکمیل کرتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ عامر

Leave a Reply