حجاب ہی کیوں؟؟

یکم جولائی ۲۰۰۹ کو جرمنی کے ایک شہرمیں ایک ۳۱ سالہ مسلمان خاتون، مروہ الشربینی کو بھری عدالت میں اس کے شوہر علی عکاظ اور ڈھائی سالہ بیٹے، مصطفی کے سامنے شہید کر دیا گیا۔ مروہ الشربینی در اصل ایک مصری نژاد جرمن مسلمان خاتون تھیں، جو مغرب کے ننگ دھڑنگ ماحول میں بھی اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لیے حجاب کااستعمال کرتی تھیں، مگر یہ حجاب ہی ان کا گناہ ٹھہرا۔ ان کا ایک متعصب، انتہا پسند پڑوسی، ایگزل ان کے اس عمل پر اکثر طعنہ زنی کرتا، جملے کستا اور کبھی ان کا حجاب کھینچ لیتا۔ تنگ آکر مروہ نے عدالت سے رجوع کیا۔ کیس کی کاروائی شروع ہوئی اور فیصلہ مروہ کے حق میں آگیا۔ ایگزل نے سزا کے خلاف دوسری عدالت میں اپیل کی۔ وہاں مقدمے کی کاروائی کے دوران ایگزل نے مشتعل ہوکر عدالت ہی کے سامنے مروہ الشربینی کو نہ صرف زمین پر پٹخا بلکہ انتہائی جنونیت کے عالم میں چاقو سے ۱۸ شدید وار کیے اور ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ شہید ہوگئیں۔

مروہ قواچی کا نام بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یقینا ہوگا۔ اٹھارہ سال پہلے کا وہ بھی کیا دن تھا کہ جب ایک مشہور انگریزی ہفت روزے کے سر ورق پر مروہ کی تصویر لگی تھی کہ ترک پارلیمنٹ میں ہیڈ اسکارف کے ساتھ اس کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اور وہ پوری پارلیمنٹ میں سوالیہ نشان کے ساتھ کھڑی تھی… سوال یہ تھا کہ ’’کیا یہ ایک، ڈیڑھ گز کا ٹکڑا، اتنا طاقت ور ہوگیا ہے کہ پوری پارلیمنٹ اس سے خوف زدہ ہے۔‘‘ مروہ کی صرف پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس کی ترک شہریت بھی ختم کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔ مروہ قواچی، اٹھارہ برس کی بھرپور جدوجہد کے بعد ترکی کی سفیر بن کر ملائیشیا میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔

یہ حجاب کی طاقت ہی تو ہے کہ ہر دور میں اسے مخالفین نے اپنے لیے خطرہ تصور کیا۔ کبھی اسے مسلم خواتین کی ذہنی پسماندگی کی علامت قرار دیا جاتا رہا ہے کہ ’’بے چاری برقعے والی عورت کو عصر جدید کا شعور ہے اور نہ بدلتے دور کے تقاضوں کی خبر۔ تعلیم ہے نہ سماجی مرتبہ، تو اگر وہ منہ نہ چھپائے تو کیا کرے اور گھر میں بند ہوکر نہ بیٹھے تو کدھر جائے۔‘‘ اگلے مرحلے میں حجاب کو ظلم و جبر کی علامت کے طور پر مشہور کیا گیا کہ ’’مسلمان مرد ظالم، تنگ نظر اور پسماندہ ہیں۔ انہیں عورت کو حجاب میں قید کر کے لطف آتا ہے۔‘‘ یعنی پردے کو مرد کے جبر کا استعارہ سمجھ لیا گیا۔ پھر حجاب کو ایک سیاسی بیانئے کے طور پر لیا گیا کہ ’’حجاب کا مسئلہ در اصل ’’سیاسی اسلام‘‘ کے پیرو کاروں کا ابھارا ہوا ہے، وگرنہ اس کا اسلام کی ’’اصل تعلیمات‘‘ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ چوں کہ سیاسی اسلام کے پیروکار خود انتہا پسندی کی علامت ہیں، اس لیے انہیں حجاب جیسی انتہا پسندی ہی اچھی لگتی ہے۔‘‘ پھر تیزی سے بدلتی دنیا نے اسے تہذیبی بیانیے میں تبدیل کر دیا، لیکن اب یہ حجاب کا ٹکڑا آزادی کی توانا علامت اور مسلمان عورت کے اعتماد سے بھرپور تفاخر اور مسلم شناخت کا احساس بن کر ابھر رہا ہے۔

یورپ اور امریکہ میں اسلامو فوبیا کے اثرات بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں، جس کے سبب مسلمان خواتین اور ان کے حجاب پر ہر سمت سے حملے ہو رہے ہیں۔ ان کے خلاف طرح طرح کے قوانین بنائے جا رہے ہیں، تاکہ وہ مقامی مادر پدر آزاد تہذیب میں رنگ جائیں۔ مسلمانوں اور ان کی تہذیب سے خوف اپنی جگہ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خود مغرب بھی فحاشی اور عریانی سے تنگ آچکا ہے۔ کارپوریٹ دنیا نے جس طرح عورت کو قابل فروخت جنس بنا دیا ہے اور اس کی ہر ادا کی قیمت لگائی جا رہی ہے، اب اس کے خلاف خود مغربی دنیا سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ مارچ ۲۰۰۳ میں یورپی یونین کی پارلیمانی کمیٹی Committee for women rights and Gender Equality نے ایک رپورٹ تیار کی، جو ڈچ خاتون رکن، کارتیکا تمارا نے تحریر کی تھی، برطانوی اخبار ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ نے اس کے بارے میں بتایا کہ ’’رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ عورتوں کی ترقی اور انھیں تشدد اور خوف و ہراس کے ماحول سے بچانے کے لیے میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی اور ہر قسم کی فحاشی پر پابندی عاید کی جائے۔‘‘ برطانوی رکن پارلیمان، فلواپکا بنجمن کا کہنا تھا کہ ’’یہ مرد ہی ہیں، جو خواتین کو اوچھی حرکات پر مجبور کرتے ہیں۔ ہم کس طرح بے حیائی کے اس طوفان سے اپنی نسلوں کو بچائیں، یہ ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔، وائس آف امریکا کے ایک پروگرام میں بتایا گیا تھا کہ ’’۲۰۰۳ میں آئس لینڈ میں عریانیت اور اس کی تشہیر پر مکمل پابندی کا قانون پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا، جب کہ فحش مواد کی اشاعت پر پابندی کا قانون پہلے ہی سے نافذ ہے۔‘‘

مغرب، خاندان اور معاشی لحاظ سے تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور ہم بھی اگر اسی ڈگر پر چلتے رہے، تو اس تباہی سے نہیں بچ پائیں گے۔ بے حجاب اور اخلاق سے عاری معاشرے میں کوئی اخلاقی قدر باقی نہیں رہتی۔ اس طرح کے معاشرے میں طلاق کی کثرت، ناجائز بچوں کی بہتات، ڈپریشن او ردیگر ذہنی امراض عام ہو جاتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے ہماری نئی نسل کو اخلاق، محبت ، وفا، عزت اور تحفظ کا سبق دینے کی بجائے انسانوں کی ایسی کردار کشی کرنے سکھائی جا رہی ہے کہ سر پیٹنے کو دل کرتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ہمیں اخلاق اور تحفظ سے بھرپور معاشرہ دیا تھا اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کس طرح کی زبان اور تہذیب ورثے میں چھوڑ کر جا رہے ہیں…؟ پھر ہمیں اس نکتے پر بھی غور کرنا ہے کہ کیا ’’حجاب‘‘ صرف سر کو لپیٹ لینے کا نام ہے یا یہ ایک پورا نظام عفت و اخلاق ہے۔ عورت، اللہ کے لطف و جمال کی مظہر ہے اور اللہ نے اپنی صفت تخلیق پوری کائنات میں صرف عورت ہی کو عطا کی ہے۔ جب بھی شیطان کسی سماج کو تباہ کرنے کی چال چلتا ہے، تو وہ سب سے پہلا اور کاری وار انسان کی صفت حیا پر کرتا ہے۔ یہی اس کی اولین اور پسندیدہ چال ہے، جو اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا پر آزمائی تھی اور آج تک برابر آزماتا چلا آرہا ہے۔ اس لیے آئیں، اپنی نئی نسل کو ورثے میں ایک ایسا مہذب معاشرہ دے کر جائیں، جس میں عزت، محبت اور حفاظت ہو۔ یہ حجاب صرف عورت کی ضرورت نہیں، بلکہ پورے معاشرے خصوصاً مردوں کی ضرورت ہے۔ اسی لیے اللہ نے بھی حجاب کے احکامات کا آغاز مردوں ہی سے کیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشادِ الٰہی ہے:

ترجمہ: اے نبیؐ مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر ہے۔اور اے نبی مومن عورتوں سے کہو کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگار نہ دکھائیں …‘‘ (النور:۳۰،۳۱)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

Leave a Reply