حضرت رقیہؓ بنت رسول اللہؐ

سید المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی حضرت رقیہ بعثت سے سات برس قبل پیدا ہوئیں۔ اس وقت حضور اکرمؐ کی عمر مبارک تینتیس برس تھی، جب کہ حضرت خدیجہ الکبریؓ کی عمر ۴۸ برس۔ آپؓ اپنی بڑی بہن، حضرت زینبؓ سے تین سال چھوٹی تھیں۔ حضرت رقیہؓ نے اسلام کے ابتدائی دنوں ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ بیعت اس وقت کی جب رسول اللہؐنے عام عورتوں کو بیعت کی اجازت دی۔ حضرت رقیہؓ خوب رو اور نہایت حسین و جمیل تھیں۔ حضرت خدیجہؓ نے حضرت زینبؓ کی طرح انہیں بھی دین اور دنیاوی علوم سے مکمل آگاہی اور بہترین تربیت دی۔ سیدہ عقل و دانائی، فہم و فراست، شرم و حیا کی دولت سے مالا مال تھیں۔

ابو لہب بن عبد المطلب آپؐ کا سگا چچا بھی تھا اور پڑوسی بھی۔ وہ بھتیجے سے اپنی رشتے داری اور ہمسائیگی پر فخر کرتا تھا۔ اپنے ان رشتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اس نے اپنے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کا رشتہ آپ کی دو صاحبزادیوں سے طے کر دیا۔ لیکن جب ان کی قوم کے اس انمول ہیرے اور مایہ ناز فرزند نے منصب نبوت پر بیٹھ کر انھیں کلمہ حق کی دعوت دی تو زمین و آسمان بھی زمانے کی آنکھوں کے بدلتے رنگوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ غیر تو غیر اپنے بھی جان کے دشمن اور خون کے پیاسے ہوگئے۔ وہی ابولہب، جو کل تک آپؐ سے رشتے داری پر فخر کرتا تھا، آپ کے خون کا پیاسا ہوگیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ خانوادۂ رسولؐ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں پر سب سے زیادہ ذہنی اور جسمانی تشدد ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل نے نہ صرف خود کیا، بلکہ اپنی نگرانی میں دوسروں سے بھی کروایا۔ یہ وہ واحد شخص ہے کہ جس کا نام لے کر رب ذو الجلال نے ’’سورۂ لہب‘‘ نازل فرمائی۔ جس میں ابو لہب اور اس کی بیوی کے لیے سخت ترین سزا کی وعید ہے۔ وحی کے ان الفاظ نے ابولہب کی دشمنی کی آگ کے شعلوں کو مزید بھڑکا دیا۔ اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو حکم دیا کہ ’’محمدؐ کی بیٹیوں کو طلاق دے دو، اگر ایسا نہ کروگے، تو میرا تمہارے ساتھ اٹھنا بیٹھنا حرام ہے۔‘‘ بیٹوں نے باپ کے حکم کی تعمیل کی۔ طبرانی نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت رقیہؓ کا نکاح عتبہ سے اور حضرت ام کلثومؓ کا نکاح عتیبہ سے ہوا، لیکن ابھی دونوں کی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ جب حضرت رقیہؓ کو طلاق ہوگئی، تو آپؐ نے ان کا نکاح حضرت عثمانؓ سے کر دیا۔ حضرت عثمان بن عفانؓ ظاہری و باطنی خوب صورتی کا مرقع تھے۔ وہ نہایت حسین اور خوب رو ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی شرافت، پاکیزگی، نازک مزاجی، نفاست پسندی، صلہ رحمی اور شرمیلے پن کی وجہ سے قبیلے کے سب سے محبوب نوجوان تھے۔ ان کے اندر فیاضی و سخاوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ حضور اکرمؓ انہیں بہت پسند فرمایا کرتے تھے۔ آپؐ فرماتے تھے کہ ’’عثمانؓ سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔‘‘ (مسلم)

مورخین نے حضرت عثمانؓ کے قبول اسلام اور حضرت رقیہؓ سے نکاح کا واقعہ ان ہی کی زبانی کچھ یوں تحریر کیا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن خانہ کعبہ کے صحن میں چند دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ دفعتاً کسی شخص نے مجھے اطلاع دی کہ رسول اللہﷺ نے اپنی صاحب زادی رقیہؓ کا عقد عتبہ بن ابی لہب سے کر دیا ہے، چوں کہ رقیہؓ حسن و جمال اور اپنے قابل رشک اوصاف کے لحاظ سے امتیازی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس لیے میرا رجحان ان کی جانب تھا، اس خبر سے میرا دل اداس ہوگیا۔ میری خالہ نے جب یہ اداس اور اترا ہوا چہرہ دیکھا تو مجھ سے سوال کیا کہ ’’اے عثمان! کیا بات ہے؟‘‘ میںنے ان سے اس بات کا تذکرہ کیا۔ خالہ نے اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے مجھ سے فرمایا کہ ’’محمدﷺ نبیِ برحق اور اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے ان پر قرآن نازل کیا ہے، ان کی اتباع کرو اور ہر گز بتوں کے قریب بھی نہ جاؤ۔‘‘ خالہ کی باتوں نے میرے دل پر بہت اثر کیا، میں ان کی باتوں پر غور و فکر کرتا رہا۔ حضرت ابو بکرؓ میرے دوستوں میں سے تھے، اکثر ان کے پاس جایا کرتا تھا، دو روز بعد میں حضرت ابو بکرؓ کے پاس گیا اور ان سے خالہ کی باتوں کا تذکرہ کیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ ’’عثمانؓ! تمہاری خالہ جو کہتی ہیں وہ سچ ہے، میں خود تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، تم تو سمجھ دار اور ہوشیار انسان ہو، حق و باطل کو پہچان سکتے ہو، یہ پتھروں کے گونگے اور بہرے بت جن کی تمہاری قوم پوجا کرتی ہے، نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔‘‘ یہ سن کر میں نے کہا کہ ’’بے شک تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ حضور اکرمؐ حضرت علیؓ کے ساتھ تشریف لے آئے اور میں نے آپؐ کے ہاتھوںپر اسلام قبول کرلیا۔ ان ہی دنوں میں ابو لہب کے بیٹوں نے نبیِ برحق کی صاحب زادیوں کو طلاق دے دی تھی۔ لہٰذا آں حضرتﷺ نے حضرت رقیہؓ کا نکاح مجھ سے کر دیا۔‘‘ (الاصابہ)

نبوت کے پانچویں سال، گیارہ صحابہ کرامؓ اور چار صحابیاتؓ پر مشتمل پندرہ افراد کا یہ قافلہ حضرت عثمانؓ بن عفان کی قیادت میں رات کی تاریکی میں بحری جہاز سے حبشہ روانہ ہوا۔ حضرت عثمانؓ کے ساتھ ان کی اہلیہ حضرت رقیہؓ بھی اس اولین ہجرت میں ان کے ساتھ تھیں۔ داعیِ برحقﷺ نے اس مبارک جوڑے کی ہجرت سے متعلق فرمایا کہ حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یہ پہلا جوڑا ہے، جس نے خدا کی راہ میں اپنا وطن چھوڑا۔ (سیرت ابن ہشام) یہ افراد رجب سے شوال تک حبشہ میں ٹھہرے۔ پھر اس اطلاع پر کہ اہل قریش مسلمان ہوگئے ہیں، یہ لوگ واپس آگئے، لیکن یہاں آکر معلوم ہوا کہ مکے کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہوچکی ہے، چناں چہ حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ نے دیگر صحابہؓ کی جماعت کے ساتھ دوبارہ ملک حبشہ ہجرت کرلی۔ دوسری ہجرت کو کافی عرصہ گزر چکا تھا۔ حضورﷺ کو اپنی صاحب زادی بہت یاد آتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تقاضائے بشری تھا۔ آپﷺ اس فکر میں مکے سے باہر حبشہ جانے والے راستے پر کھڑے ہوجایا کرتے تھے اور آنے والے مسافروں سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا کرتے تھے۔ آخر کار ایک عورت نے کہا کہ ’’یا رسول اللہؐ! میں نے ان کو حبشہ میں دیکھا ہے، وہ خیریت سے ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضور اکرمﷺ نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا ’’اللہ ان پر اپنا رحم فرمائے۔‘‘ حبشہ میں ایک عرصہ قیام کے بعد حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ مکہ تشریف لائے اور رسول اللہﷺ کی اجازت سے مدینہ منورہ ہجرت کرلی، جہاں انھوں نے حضرت حسانؓ کے بھائی حضرت اویس بن ثابتؓ کے گھر قیام کیا۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اہل سیر کا یہی کہنا ہے کہ حضرت عثمانؓ مکہ آئے اور پھر اہلیہ کے ساتھ مدینہ ہجرت کرلی۔

اللہ کے رسول اللہﷺ اپنی صاحب زادیوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ دن رات اللہ کی راہ میں مصروف رہنے کے باوجود حضرت رقیہؓ کی خیریت معلوم کرنے کے لیے ان کا پریشان و متفکر رہنا، دنیا کے تمام والدین کے لیے ایک کھلا پیغام ہے کہ شادی کے بعد بھی بچیوں کی خبر گیری کرنا، عین سنت اور باپ کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ جو والدین بچیوں کی شادی کے بعد یہ کہہ کر بے فکر ہو جاتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب بچی جانے اور اس کا مقدر، تو ایسے لوگوں کے لیے حضرت نبی اکرمﷺ کا حبشہ کے راستے میں گھنٹوں کھڑے رہ کر اپنی بیٹی کی خیریت معلوم کرنے کی جستجو آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک نصیحت بھرا سبق اور خاموش پیغام ہے۔ شادی کے بعد بھی بچیوں خبر گیری کرنا ان کے حالات و معاملات پر گہری نظر رکھنا ، انہیں اللہ اور رسولﷺ کی ہدایت کی روشنی میں اچھی نصیحتیں کرتے رہنا کہ جس سے شوہر اور سسرال کی نظروں میں اس کا مقام بلند ہو، والدہ کے ساتھ والد کی بھی ذمے داری ہے، اگر والد حیات نہیں ہیں، تو یہ بھائی کی ذمے داری ہے کہ غیر شادی شدہ بہنوں کے علاوہ شادی شدہ بہنوں کے سرپر بھی ہاتھ رکھے اور انھیں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دے۔

دو ہجری ۱۲ رمضان المبارک کو نبی اکرمﷺ نے غزوۂ بدر میں شرکت کے لیے مدینے سے نکلنے کا اعلان کر دیا تھا، صحابہ کرامؓ کی جانب سے زور و شور سے تیاریاں جاری تھیں۔ حضرت عثمانؓ رسول اللہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’یا رسول اللہﷺ ! میری اہلیہ رقیہؓ کے جسم پر چیچک کے دانے نکل آئے ہیں۔‘‘ چیچک کے دانے نکلنا کوئی اچھی علامت نہ تھی۔ آپﷺ فوری طو رپر حضرت عثمانؓ کے گھر گئے، صاحب زادی صاحب فراش تھیں، جسم پر آبلے پڑے ہوئے تھے۔ آپؐ نے حضرت رقیہؓ کے سر پر ہاتھ رکھا، انھیں پیار کیا، تھوڑی دیر بیٹھے اور واپس آگئے، لیکن مرض بڑھتا گیا۔ ۱۲؍ رمضان ، ۲ ہجری کو حضرت عثمانؓ ، حضور اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا: ’’یا رسول اللہﷺ میری خواہش ہے کہ اس غزوہ میں شریک رہوں، لیکن میری اہلیہ نہایت علیل ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جو ان کی تیمار داری کر سکے۔ ’’آپﷺ نے فرمایا: ’’اے عثمانؓ! تم اپنی اہلیہ کی تیمار داری کرو، ان شاء اللہ رب العزت تمہیں غزوہ میں شرکت کے ثواب سے محروم نہیں کرے گا۔‘‘ بعد ازیں اللہ رب العزت نے ان مٹھی بھر مجاہدین کو فتح مبین عطا فرمائی۔ دو ہجری ۱۸ رمضان المبارک کو زید بن حارثہؓ اور عبد اللہ بن رواحہؓ فتح کی خوش خبری لے کر مدینے میں داخل ہوئے اور اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا، تو یہی وہ وقت تھا کہ جب حضرت عثمانؓ مدینہ میں موجود صحابہؓ کے ساتھ جنت البقیع میں حضرت رقیہؓ کی تدفین کر رہے تھے۔ آپؓ نے حاضرین سے دریافت کیا کہ یہ تکبیر کی آواز کیسی ہے؟ لوگوں نے جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ زیدؓ بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپؐ کی اونٹنی پر سوار ہیں، اور معرکہ بدر میں مسلمانوں کی شان دار فتح کی خوش خبری لے کر آئے ہیں۔ آں حضرتﷺ غزوۂ بدر میں شرکت کی وجہ سے لخت جگر کے جنازے میں شریک نہ ہوسکے۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ’’جب آپﷺ مدینہ تشریف لائے اور آپﷺ کو حضرت رقیہؓ کے انتقال کی خبر دی گئی تو آپﷺ نے صبر و شکر کے ساتھ فرمایا: ’’عثمانؓ بن مظعون جاچکے، اب تم بھی ان کے پاس چلی گئیں۔‘‘ (عثمانؓ بن مظعون، ایک جلیل القد رصحابی تھے۔ مہاجرین میں سب سے پہلے مدینے میں ان کا انتقال ہوا تھا) رسول اللہﷺ کے اس ارشاد کے بعد وہاں موجود خواتین حضرت رقیہؓ کو یاد کر کے رونے لگیں۔ حضرت عمرؓ نے خواتین کو رونے سے منع کیا۔ اس موقعے پر آپﷺ نے فرمایا: ’’انہیں رونے دو، رونے میں کوئی حرج نہیں، کیوں کہ جب رونے کا تعلق قلب اور آنکھ سے ہو تو اللہ کی رحمت پر مبنی ہوتا ہے، لیکن اگر یہ ہاتھ اور زبان تک پہنچے یعنی اگر بہ آواز بلند رونے یا بین کرنے لگیں تو اسے شیطان کی تحریک سمجھنا چاہیے اور اس سے بچنا چاہیے۔‘‘

روایت ہے کہ حضرت رقیہؓ کی چھوٹی بہن، حضرت فاطمہؓ ایک دن آں حضرتﷺ کے ساتھ حضرت رقیہؓ کی قبر پر تشریف لائیں اور قبر کے کنارے بیٹھ کر رونے لگیں، آپ روتی جاتی تھیں اور حضورﷺ ان کے آنسو پونچھتے جاتے تھے اور صبر و سکون کی تلقین بھی کرتے جاتے تھے۔ حبشہ میں قیام کے دوران حضرت رقیہؓ کے بطن سے ایک صاحب زادے پیدا ہوئے، جن کا نام عبد اللہ تھا۔ ان ہی کے نام کی وجہ سے حضرت عثمانؓ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ حضرت عبد اللہ کی عمر چھے برس تھی، تو ایک مرغ نے ان کی آنکھ پر چونچ مار دی، جن کی وجہ سے ان کے تمام چہرے پر ورم آگیا اور یہی ان کے انتقال کا سبب بنا۔ اپنی والدہ کے انتقال کے دو سال بعد چار ہجری کو معصوم عبد اللہ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ نبی اکرمﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ حضرت عثمانؓ نے قبر میں اتارا اور یوں یہ معصوم اور پیارا بچہ اپنی ماں کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمود نجمی

Leave a Reply