والدین سے حسن سلوک

اسلام اپنے معاشرتی نظام میں خاندان کو بنیادی اکائی قرار دیتا ہے۔ اس خاندان کا ایک مظہر والدین کا وجود ہے۔ ماں باپ کے بغیر کوئی معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا۔ عورت اور مرد کا سب سے اچھا روپ ماں اور باپ کا ہے۔ یہ روپ اللہ کی رحمت اور اس کے انتظام کا عکس ہے۔ معاشرتی زندگی میں اولین چیز ایثار ہے اور کوئی معاشرہ بھی ایثار کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ والدین اس ایثار کا مکمل نمونہ ہیں۔ توحید کے بعد معاشرے کی جڑ اور بنیاد والدین سے حسن سلوک ہے۔ سب سے بڑھ کر تو حق اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ کا حق یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، خالص اسی کی بندگی ہو جب کہ معاشرے میں سب سے بڑا اور پہلا حق والدین کا ہے۔

قرآن و حدیث میں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔

’’اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بوڑھے ہوکر رہیں تو انھیں اُف تک نہ کہو، نہ انھیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ کہ ان کے ساتھ احترام کے ساتھ بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کیا کرو کہ اے پروردگار ان پر رحم فرما جس طرح انھوں نے مجھے رحمت و شفقت کے ساتھ بچپن میں پالا تھا۔‘‘ (بنی اسرائیل)

انسانوں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد حتمی حکم کی صورت میں ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں بہ کثرت اور مسلسل آیات مذکور ہیں جو مسلمانوں کو والدین سے حسن سلوک کو اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کا سبب قرار دیتی ہیں اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو اللہ پر ایمان کی فضیلت کے بعد سب سے بڑی انسانی فضیلت قرار دیتی ہیں۔ قرآنی آیات کے ساتھ احادیث مبارکہ بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت کو پورے زور و تاکید سے ثابت کرتی ہیں اور ان کی نافرمانی اور بدسلوکی سے ڈراتی ہیں، خواہ اس کے اسباب کچھ بھی ہوں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ میںنے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’وقت پر نماز ادا کرنا۔ میںنے عرض کیا: پھر کون سا عمل؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ (بخاری ومسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے: ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو۔ عرض کیا گیا کس کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کا بڑھاپے میں پایا اس کے باوجود جنت میں داخل نہیں ہوا۔‘‘ (مسلم)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والا جب اپنے والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر مرتبہ دیکھنے کی عوض (اس کے اعمال نامے میں) ایک مقبول حج کا ثواب لکھتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی اگرچہ وہ دن میں سو مرتبہ والدین کو دیکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔‘‘ (مسلم)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جنت کی خوش بو پانچ سو برس کی مسافت سے محسوس ہوگی لیکن ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے اس سے محروم رہیں گے۔‘‘ (طبرانی)

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’تمہارے اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کی نافرمانی تم پر حرام کر دی۔‘‘ (بخاری)

ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا، جی! آپؐ نے فرمایا: ان کی خدمت جہاد سمجھ کر کرو۔‘‘ (بخاری ومسلم)

والد کی اطاعت اور احترام کے متعلق ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

’’باپ کی خوشی میں اللہ کی خوشی ہے اور باپ کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی ہے۔‘‘ (ترمذی)

حسن سلوک کے ضمن میں ماں کا درجہ باپ سے زیادہ ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرمؐ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ کون مستحق ہے؟ آپؐ نے فرمایا تمہاری ماں، اس نے پھر عرض کیا: فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پھر عرض کی۔ فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پھر عرض کی۔ فرمایا تمہارا باپ۔ (بخاری و مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں کا درجہ باپ سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ قرآن مجید نے یہ بتائی کہ اس کی ماں نے بڑی مشقت سے پیٹ میں رکھا اور مشقت سے جنم دیا۔ اولاد کی پرورش اور تربیت کے لیے ماں کو جن تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے باپ کو نہیں کرنا پڑتا، علاوہ ازیں حمل، وضع حمل اور رضاعت کی تکلیف بھی ماں برداشت کرتی ہے۔ اس وجہ سے علما نے کہا کہ جہاں تک ادب و احترام کا تعلق ہے باپ زیادہ حق دار ہے لیکن حسن سلوک اور خدمت کے لحاظ سے ماں کا درجہ زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کی شان اتنی بلند کی ہے کہ ماں کی عظمت اور شان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جسم کا سب سے کم تر عضو پاؤں ہے اورجنت ماں کی پاؤں کے تلے بنائی گئی ہے۔

ایک نوجوان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت عطا فرمائیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہاری ماں زندہ ہے جواب دیا ہاں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جہاد پر جانے کے بجائے اپنی ماں کی خدمت بجا لاؤ کیوں کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ (نسائی)

ماں باپ کا حق صرف ان کی زندگی تک ہی محدود نہیں بل کہ ان کی وفات کے بعد اولاد پر یہ بھی ذمے داری ہے کہ وہ ان کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہیں۔

ارشاد ربانی ہے، مفہوم: ’’اے میرے پروردگار میرے ماں باپ پر رحم فرما جیسے بچپن میں انھوں نے مجھے پالا رحمت و شفقت کے ساتھ۔‘‘ (بنی اسرائیل)

ایک مرتبہ ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا والدین کے مرنے کے بعد میں کوئی نیکی ان سے کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو۔ ان کے کیے وعدہ پورے کرو، ان کے رشتے داروں سے صلہ رحمی کرو اور ان کے دوستوں کی عزت کیا کرو۔‘‘ (ابوداؤد)

قرآن و حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے۔ ماں باپ کو راضی کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ ماں باپ کی نافرمانی گناہ کبیرہ ہے۔ ماں باپ کے نافرمان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا، چاہے اس عمل کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے ہو۔ ماں باپ کا نافرمان دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔

دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نیک برتاؤکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین lll

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر رائے محمد اعجاز

Leave a Reply