لفافہ

حجاب کے نام

موجودہ نظام

روٹی کپڑا اور مکان انسان کی اولین ضرورت ہیں لیکن انسانوں نے ایک ایسے عالمی نظام کو اپنایا ہے، جس میں دولت مند طبقے ہی ان تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پھر حکومتوں نے بالواسطہ ٹیکسوں کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ جس نے عام آدمی کی قوت خرید ہی ختم کر دی۔ براہِ راست ٹیکس نہ دینے والے طاقت ور طبقے میں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کروڑوں روپے کا ٹیکس ادا کرتے ہیں حالاں کہ یہ براہِ راست ٹیکس نہیں ہوتے یہ وہ بالواسطہ ٹیکس ہیں جو قیمت میں شامل ہوتے ہیں جو عوام ادا کرتے ہیں۔ سیلز ٹیکس اس کی اذیت ناک مثال ہے۔ اب آپ دیکھئے کہ ایک مستند سروے کے مطابق سیمنٹ کی کارٹیلز نے منافع کا 367 فیصد بڑھایا ہے ان حالات میں جب افراط زر بھی ہو، بیڈ گورننس بھی ہو، اراضی پر سٹہ بازی بھی کی جائے، کوآپریٹیو سوسائٹیز اپنا کھیل کھیلتی ہوں، عوام کی اکثریت بے روزگار ہو تو پھر کیسے کوئی اپنا سائبان بنایا خرید سکتا ہے۔ ارزاں مکانات سازی ایک خواب ہوکر رہ گئی ہے۔ مغرب نے یہ بھی کیا ہے کہ گھروں کی کشادگی ختم کر کے روشن دن ختم کر دیے تاکہ بند کمروں کے لیے ایئرکنڈیشنڈ کی امپورٹ یا اسمبل کرنے کی طلب بڑھ جائے یوں مالدار مزید مال دار ہو اور سٹہ کھیلے اور غریب زیادہ غریب ہو اور بھوک اور بیماری میں تڑپتا رہے، ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ زیادہ تر اہل قلم بھی وہ شعور بہم نہیں پہنچاتے، جس سے فلاحی کام کی طرف سیاست بڑھے اور زندگی ہر نفس کے لیے آرام جاں ہو۔

کہیں ہر طرف بہار ہے اور کہیں فصل گل کا ماتم ہے۔ حکومتیں چل نہیں سکتیں، عیاش، عیاشی نہیں کرسکتے جب تک وہ بالواسطہ ٹیکسوں اور یوٹیلیٹیز بلوں کے نرخوں میں اضافہ نہ کریں۔

اب سچ لکھنا بھی اہل بست و کشاد کو بار خاطر گزرتا ہے تو پھر ظلم اور استحصال کے بوجھ کو غریب کب تک اٹھائے گا، اور کب اس کے لیے روٹی کپڑا اور مکان میسر آئے گا۔ جب کہ موجودہ کساد بازاری اور بجلی گیس کی عدم دستیابی کے دور میں بھی بینک، انرجی کمپنیاں اور سیمنٹ انڈسٹری بے تہاشا منافع کما رہی ہیں۔ کیوں کہ یہ سرمایہ داروں کا حصہ ہیں۔

نام، پتہ نہیں

مضامین عملی رہ نما

ستمبر کا شمارہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ حجاب اسلامی اس حیثیت سے منفرد رسالہ ہے کہ یہ خواتین کے لیے ہونے کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام لوگوں کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا اچھا ذریعہ ہے۔ تعمیری اور اصلاحی فکر کے ساتھ نکلنے والے اس پرچے کی خوبی یہ بھی لگتی ہے کہ یہ کسی خاص مسلک یا گروپ کی ترجمانی کرنے کے بجائے دین کے مزاج کو بیان کرتا ہے اور ساتھ ہی خواتین کی عملی زندگی میں رہ نمائی کرتا ہے۔

ڈاکٹر غازی صاحب کا مضمون بے حد پسند آیا۔ تعاون باہمی اور ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا ایک صحت مند معاشرے اور مستحکم خاندان کی بنیاد ہے۔ مضمون پڑھ کر احساس ہوا کہ اگر ہمارے گھروں کی خواتین ہی نہیں سبھی لوگ ’’گھر میں کام سب کریں! گھر میں آرام سب کریں!!‘‘ کے اصول پر کاربند ہوجائیں تو گھر نہ صرف سکون کا گہوارہ بن جائے گا بلکہ شکوے شکایات کو پنپنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔

صحت انڈسٹری کے بارے میں سی سیکشن پر دی گئی رپورٹ معلوم کر کے حیرت اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ سب حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے سبب ہے۔ حکومتیں کیوں کہ عوام کی صحت کی ذمے داری سے پلا جھاڑ کر کنارے ہو جانا چاہتی ہیں اسی لیے اس چیز نے ایک صنعت یا بازار کی شکل اختیا رکرلی ہے۔ ڈاکٹر، تاجر ہیں اور عوام بکنے اور خریدے جانے والی چیز۔

صحت مند زندگی کے لیے سیلف کیریئر کے اصول، بیوہ اور مطلقہ کا نکاح ثانی اور سیکھنے کی کوئی عمر نہیں اچھے لگے۔ اللہ کرے کہ آپ کا ماہ نامہ خوب ترقی کرے اور لوگ اس کے ذریعے زندگی میں رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔

ڈاکٹر رخسانہ نکہت، لکھنؤ (یوپی) بذریعہ ای-میل

مادریت پر ظلم

ستمبر کے رسالے میں ’’بچوں کی پیدائش کی تجارت میں مادریت پر ظلم‘‘ اچھا مضمون لکھا آپ نے۔ میں خود اس کا ستم زدہ ہوں اور وہ بھی ایک مسلم ٹرسٹ کے ہاسپیٹل کا۔ حالاں کہ مسلم اداروں کو تو دوسروں سے الگ سوچ والا ہونا چاہیے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ شکایتاً نہیں لکھ رہا ہوں، اس لیے لکھا ہے کہ آپ کا رسالہ بہت سے اداروں اور جماعتوں میں بھی جاتا ہوگا۔ شاید میری بات زیادہ لوگوں تک پہنچ جائے اور وہ اس پر سوچیں۔

خورشید عالم خان (بذریعہ: واٹسپ)

اچھا مضمون

ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کا مضمون بہت زیادہ اچھا لگا۔ غازی صاحب کا شکریہ۔ اتنا اچھا مضمون لکھنے کے لیے اور بہنوں سے درخواست ہے کہ اپنے گھروں میں اسی بات کو عملاً جاری کریں۔ انشاء اللہ ہمارے رشتے اور تعلقات مضبوط رہیں گے۔

حنا تبسم نیلور (بذریعہ واٹسپ)

تین طلاق کا مسئلہ

حالیہ دنوں میں عدالت نے تین طلاق پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ پابندی تو نئی ہے مگر مسئلہ پرانا ہے۔ مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے اور یونیفارم سول کوڈ لانے کی طرف قدم۔ حقیقت کیا ہے اور تین طلاق کا معاملہ اور اس پر سیاست سے باخبر کرنے کے سلسلے میں بھی آپ اپنے رسالے میں لکھیں تو ہم خواتین کو کچھ معلومات مل سکیں گی۔

سمیہ یونس خان (بارہ دری محمود خاں رام پور ،یوپی)

[سمیہ صاحبہ! جلد ہی اور ممکن ہے آئندہ ماہ ہم اس موضوع پر خصوصی شمارہ شائع کرنے کی کوشش میں ہیں۔ یہ رسالہ نہ صرف طلاق کے موضوع پر وسیع معلومات فراہم کرے گا بلکہ اس کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں پر بھی بھرپور معلومات قارئین کو دے گا، بس ذرا انتظار کیجیے۔ایڈیٹر]

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply