4

تعلیم کے ساتھ تربیت

سماج میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بے شمار صلاحیتیں لیے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ صلاحیتیں عمر اور وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر بھی ہونے لگتی ہیں اور پھلتی پھولتی بھی ہیں۔ پھر ان بچوں میں کوئی سائنس دان بن جاتا ہے اور عالم، کوئی مجرم بن جاتا ہے تو کوئی مصلح اور انسانیت کا خادم بن جاتا ہے۔
ایسا تربیت کے زیر اثر ہوتا ہے۔ تعلیم انسان کو علم تو سکھا سکتی ہے مگر ذہن و فکر اور اخلاق و کردار کی تعمیر و تشکیل تربیت کے ذریعے ہوتی ہے اور تربیت کا یہ عمل تعلیم کے عمل سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے جب کہ تعلیم جو پانچ سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے، اس مرحلے تک آتے آتے بچہ اپنے رویے، سوچ اور طرزِ عمل میں پختہ تر ہونے کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
جب بچوں کے اسکول جانے کی عمر ہوتی ہے تو عمر میں وہ معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بننے یا پھر ایک بگڑا ہوا بچہ بننے کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ اس عمر میں آپ اسے اگر اچھی اور بری باتوں کی تمیز سکھائیں گے۔ تو یہ اس کے لیے نہ صرف بہتر ہوگا بلکہ اس کی زندگی بھی سنور جائے گی۔ اسے کس طرح کے بچوں سے دوستی رکھنی ہے اور کس طرح کے بچوں سے دور رہنا ہے۔ اسے کہاں کہاں ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا ہے، یہ سب آپ اسے اس عمر میں سکھائیں تاکہ اس کی زندگی درست سمت کی طرف گام زن ہوسکے گی۔ اور جب ہم بات کرتے ہیں بچوں کی ذہنی نشو و نما کی تو ظاہر ہے ہم ذہن کو ایک جسمانی عضو کی حیثیت سے سمجھ کر بات کرتے ہیں مگر ہمارا ذہن حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ذہن محض کوئی عضو نہیں تو ہم کس طرح اس کی پرورش کرسکتے ہیں؟
دراصل جب ہم اپنی صحت، خوراک اور ورزش پر توجہ دیں گے تو ہمار اذہن بھی مثبت سوچ اپنائے گا۔ یہی ذہنی نشو ونما ہے کہ وہ اچھا سوچے اور اچھا انداز اپنائے۔ یاد رکھیں، مسلز کی بہتر نشو و نما سے زیادہ مشکل ذہن کی نشو و نما ہوتی ہے۔ بچہ انفرادی طور پر، جذباتی طور پر، جسمانی طور پر اور معاشرتی طور پر تکمیل کے مرحلے میں ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اسے ہر مرحلے پر آپ کی بھرپور رہ نمائی حاصل ہو اور اس کا طرزِ زندگی مثبت ہوتا جائے۔
انسانی زندگی کے لیے یہ صحت مند انداز بہت ضروری ہے۔ گویا جس طرح انسانی زندگی کے لیے خوراک بہت ضروری ہے، اسی طرح صحت مند انداز اور مثبت رویہ اپنانا بہت ضروری ہے۔ بچے کی اخلاقی تربیت میں یہی صحت مند انداز زندگی اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہی اخلاقی تربیت زندگی بھر بچے کی راہ نمائی کرتی ہے۔ اگر اخلاقی تربیت مثبت انداز میں کی گئی ہوگی تو بچہ بڑا ہوکر معاشرے کے لیے ایک فعال اور کار آمد شخصیت بن کر ابھرے گااور اگر اخلاقی تربیت کا فقدان ہوگا تو بچہ زندگی بھر منفی انداز اپنائے گا۔
کسی بھی بچے کا معاشرتی طور پر متحرک ہونا سب سے پہلے اپنے خاندان سے شروع ہوتا ہے۔ کھانے کے وقت پورے خاندان کا ساتھ ہونا اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیوں کہ اس دوران بچے کی اخلاقی، ذہنی، جسمانی اور معاشرتی تربیت ہوتی ہے۔ کھانا کس طرح کھانا ہے، کتنا نکالنا ہے، اور سب مل جل کر کس طرح کھانا کھاتے ہیں اور آپس میں دوسرے کا خیال بھی رکھتے ہیں، یہ سب باتیں بہت غیر محسوس طریقے سے بچوں کی اخلاقی تربیت کرتی ہیں، اس لیے گھر کے تمام افراد کا ساتھ مل جل کر کھانا کھانا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف گھرانوں کی آپس میں ملاقاتیں اور تقاریب بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خاص طور پر اگر ایک ہی عمر کے بچے دونوں گھرانوں کے مل جائیں۔ اس طرح بچوں کو اسکول اور اپنے پڑوسی کے بچوں میں دوست بنانے میں بھی آسانی ہوجاتی ہے۔ اس طرح کی تقاریب سے بچوں اور بڑوں میں تعلقات بھی بہتر ہونے لگتے ہیں۔ بچوں کے آپس کے کھیل بھی اس عمر کے بچوں کو معاشرتی طور پر متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں اس بات کا خیال ضرور رکھیں کہ بچوں کو اس عمر میں ان کھیلوں سے دور رکھیں جن میں ہارنے یا پھر جیتنے کا موقع آتا ہو۔ یہ بات ذہن نشیں کرلیں کہ بچپن کی یہ تربیت بچوں کی پوری زندگی کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
سات سال سے بارہ سال کی عمر کے بچے لفظ ’’بچپن‘‘ کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں۔ بارہ سال کی عمر تک وہ مکمل طور پر تیار دکھائی دیتے ہیں، جذباتی طور پر بھی اور معاشرتی طور پر بھی۔ ایک یا دو سال بعد یعنی تیرہ یا چودہ سال کی عمر میں وہ بالغ بھی ہونے لگتے ہیں اور یہ عمل زندگی کو تبدیل کر دیتا ہے۔ بچپن جوانی کی حدود میں داخل ہونے لگتا ہے۔ بہت سی ثقافتوں میں تو تیرہویں سال کی بہت خوشی اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر یقینا حیرت ہوگی کہ شیکسپیئر کے مشہور رومانوی ڈرامے ’’رومیو اینڈ جولیٹ‘‘ کی ہیروئن جولیٹ خود صرف تیرہ سال کی تھی۔ اس عمر میں بچوں میں بالغوں جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ ان کا ذہن بھی بالغ ہونے لگتا ہے۔ ان میں جوش و جذبہ اور زندگی میں کچھ کر دکھانے کا عزم نمایاں دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وہ عمر ہے جس میں خاص طور پر ’’زبان‘‘ کے سلسلے میں اسے سبقت حاصل ہونے لگتی ہے۔ مختلف زبانوں پر اس عمر کا بچہ عبور حاصل کرنا سیکھتا ہے اور جیسے جیسے بچے کی عمر بڑھتی ہے اس کی اخلاقی تربیت بھی ہوتی جاتی ہے۔ بچہ اپنے گھر، اپنے ماحول اور معاشرے سے جڑا ہوتا ہے وہ جو کچھ سیکھتا ہے یہیں سے سیکھتا ہے۔
بڑھتی ہوئی عمر کے بچے جسمانی طور پر بھی متحرک رہتے ہیں۔ نو عمر بچوں میں اتنی طاقت آنے لگتی ہے کہ وہ بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی مشکلات، کھیلوں وغیرہ میں وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے لگتے ہیں۔
ایک انتہائی اہم سوال یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچوں میں سیکھنے کی صلاحیتوں میں کمی کیوں آنے لگتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد بچوں کا ذہن اور بھی بہت سی چیزوں کی طرف متوجہ ہونے لگتا ہے۔ اس لیے بچوں کی اخلاقی تربیت کے سلسلے میں والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ تمام اہم کام جو بچے کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہیں انہیں سات سے بارہ سال کی عمر تک سکھا دیے جائیں، اس میں اپنی زبان کا سیکھنا اور غیر ملکی زبانوں پر عبور حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
بچے کی اخلاقی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ اسے سچ بولنا، بڑوں کی عزت کرنا، چھوٹوں سے محبت کرنا، مل جل کر کھیلنا، ایمان داری سے فیصلہ کرنا، دوسروں کی مدد کرنا، صفائی کا خیال رکھنا اور بڑوں کی بات ماننا سکھایا جائے۔ یہ باتیں زندگی بھر ا س کو ایک اچھی زندگی گزارنے میں مدد فراہم کریں گی۔ بچے کی اخلاقی تربیت میں کھیل بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچے کے ذہنی رجحان کے مطابق اسے کھیل کھیلنے دیں۔ کھیل دنیا بھر کے کسی بھی کلچر میں بچے کی تفریح کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ کھیل بچے کو دوسرے بچوں کے ساتھ اپنے رویوں کا اظہار کرنا بھی سکھاتا ہے۔ مل جل کر کھیلنا، لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرنا اور درست فیصلہ کرنا بچے کھیل ہی سے سیکھتے ہیں۔
قصہ مختصر، تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر تربیت بھی تعلیم کا حصہ ہے بلکہ اسے آیا وہ اہم ہے۔ جس کے بغیر تعلیم کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے، اس لیے تعلیم کے ساتھ مناسب عمر میں تربیت دینا ضروری ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
نسرین اختر

تبصرہ کیجیے