غزل

زخمی خود اپنے آپ سے ایسا ہوا ہوں میں

’کم ظرف محسنوں کا ستایا ہوا ہوں میں‘

جلتی پہ کام تیل کا کرتے ہیں اشک بھی

یوں اپنے دل کی آگ میں دہکا ہوا ہوں میں

رسم کہن سے میں نے کیا اختلاف جب

کہنے لگے ہیں لوگ کہ بھٹکا ہوا ہوں میں

میں ہاں میں ہاں ملا نہ سکا اس کی، اس لیے

اس کی نظر سے آج بھی اترا ہوا ہوں میں

بے مول ہوگئی ہے مری زندگی تمام

جب سے تری نگاہ میں رسوا ہوا ہوں میں

میں قافلے سے تھوڑا سا ہٹ کر چلا تھا بس

پتے کی طرح پاؤں میں روندا ہوا ہوں میں

تنویر کھا کے زخم بھی، میں مسکرا دیا

اس فن میں تو کمال کو پہنچا ہوا ہوں میں

شیئر کیجیے
Default image
تنویر آفاقی

Leave a Reply