غزل

غم کی شب بے سحر نہیں ہے میاں

ہاں، مگر مختصر نہیں ہے میاں

جیسے گزرے گزارنی ہوگی

زندگی سے مفر نہیں ہے میاں

سب کے سجدے قبول ہوتے ہیں

اس کا گھر سنگِ در نہیں ہے میاں

اتنا برسا ہے ٹوٹ کر بادل

اب گھٹاؤں کا ڈر نہیں ہے میاں

شہر کے لوگ کیوں ہیں برگشتہ

مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے میاں

آئے دن توڑ پھوڑ ہنگامے

شہر اب معتبر نہیں ہے میاں

مت سناؤ قفس کے افسانے

کوئی بے بال و پر نہیں ہے میاں

شیئر کیجیے
Default image
بسمل اعظمی

Leave a Reply