نعت

حیات آفریں سب انقلاب ان کے ہیں

ازل سے جو بھی ہیں، روشن نصاب ان کے ہیں

غلام سارے ہی عزت مآب ان کے ہیں

تمام ذرے بنے آفتاب ان کے ہیں

اگرچہ جاں سے گزرنا ہے دشت حق کا سفر

وفا شعار مگر فوزیاب ان کے ہیں

فضا ہے ساری معطر بہ فیض ذکر نبیؐ

مشام جاں میں مہکتے گلاب ان کے ہیں

انہی کی نعت مسلسل جسے کہیں قرآن

سخن خدا کا، ثناؤں کے باب ان کے ہیں

ہمیں توازن فکر و عمل ملا ان سے

دورنِ ذات کھلے میں جو باب ان کے ہیں

ہماری نیند سدا ان کی تشنۂ دیدار

ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب ان کے ہیں

جہاں میں لوگ وہی خوش نصیب ہیں عرفان

درِ نیاز سے جو باریاب ان کے ہیں

شیئر کیجیے
Default image
عرفان وحید

Leave a Reply