خادم الحرمین سے…

سلفی ہے اگر تو، ترے اسلاف کی پہچان

ڈر میں بھی زباں، ہو تو فقط حق کی ثنا خوان

اے پیر حرم، پیر کلیسا کی غلامی

اللہ سے ڈر، فیصلۂ خلق خدا مان

اسلام سے نفرت ہے، عداوت ہے حرم سے

یہ جنگ نہیں معرکۂ سنی و ایران

پھر تیر کمانوں پہ چڑھائے ہیں عدو نے

مقصود نشانے ہیں قطر ترکی و ایران

اب اس کے سوا اور قطر کی ہے خطا کیا

حامی ہے فلسطین کا وہ، حامیِ اخوان

تو وادیِ بطحا کی فضاؤں سے پرومند

لیکن ترے اعصاب ہیں مغرب کے ثنا خوان

کیا کم تھے خلافت سے بغاوت کے جرائم

اے والیِ مکہ ہے دریدہ ترا دامان

در پردہ تری سامری زادوں سے محبت

وہ جن کی فلسطین کے قاتل کی ہے پہچان

جو نیل کے پانی میں لہو تیر رہا ہے

اس خون سے بے داغ نہیں ہے ترا دامان

سر ریت میں پوشیدہ نہ کر مثل شتر مرغ

مومن کی بصیرت سے نوازے تجھے رحمن

قرضاوی و مرسی پہ غضب کس کی خطا کا

کس جرم زلیخا کی سزا یوسف کنعان

تعمیر حرم، خدمت حجاج و سقایہ

تحدید ’’و لم یخش‘‘ سے مشروط ہے فرمان

بزمی وہ نمک خوار سعودی تو ہے لیکن

اتنا بھی نہیں ہو کہ اسے بیچ دے ایمان

شیئر کیجیے
Default image
سرفراز بزمی

Leave a Reply