میری گھریلو زندگی

میں نے شادی کر ہی لی۔ شادی پر میرا یقین حقیقت پر مبنی نہیں، بلکہ تصوراتی تھا۔ یہ میرا تصور ہی تھا، جس نے میری بیوی، اس کی عادات و اطوار اور خوبیوں کا ایک پیکر تراشا تھا۔ ان تمام باتوں پر یقین میں نے ان خواتین کو دیکھ کر کیا، جن کا میں نے مشاہدہ کیا اور یہ میرا تصور ہی تھا، جس نے میری آنے والی زندگی کی تصویر کشی کی اور مجھے اس بات کا پختہ یقین ہوچکا تھا کہ ایسا ہی ہوگا، کیوں کہ میں نے اس معاملے سے متعلق ان لوگوں کی باتیں سن رکھی تھیں، جو اپنی زندگی میں خوش و خرم تھے یا جو سخت مصائب کا شکار تھے اور ان کے خوش و خرم ہونے کے رازوں اور مصائب و پریشانیوں کے اسباب سے بھی،میں اچھی طرح واقف تھا، پھر میرا اعتقاد، ازدواجی زندگی پر انگریزی میں لکھی گئی ان کتب پر بھی تھا، جن کا مطالعہ میں نے کیا تھا۔ لیکن بڑا فرق ہے، حقیقت اور تصور میں… کیوں کہ جب مصور تصویر بناتا ہے تو آسمانوں پر آزادانہ گھومتے پھرتے بناتا ہے، جب کہ حقیقت زمین سے چپک کر رہ جاتی ہے، بلکہ ماحول و زمان و مکان میں قید ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے، جو میرے ایک دوست کے ساتھ پیش آیا۔ یہ واقعہ مجھے تصور اور حقیقت کے درمیان پائے جانے والے فرق کو یاد دلا رہا ہے۔ میں نے اپنے اس دوست کے ساتھ اسکندریہ کا سفر کیا۔ میں تیراکی جانتا تھا، جب کہ وہ تیراکی کی الف ب سے بھی واقف نہیں تھا۔ سو، اس نے یہ کیا کہ ایک بک شاپ پر گیا اور تیراکی سے متعلق ایک انگریزی کتاب خریدی۔ رات بھر جاگ کر اس نے پوری کتاب پڑھ ڈالی اور اس سے تیراکی کے بارے میں معلومات کے ساتھ، تیراکی کرنے کا طریقہ بھی سیکھ لیا۔ اس کے مطالعے سے موصوف کو پختہ یقین ہوگیا کہ وہ اب ماہر سے ماہر تیراک کو بھی ہرا سکتا ہے، لیکن جب ہم سمندر میں اترے، تو تیراکی کے بارے میں اس کے سارے نظریات اور علم اڑن چھو ہوگیا۔ اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، جسم کانپنے لگا اور وہ ڈوبنے کے قریب ہوگیا۔

خیر، میں بات کر رہا تھا اپنی بیوی کی، سو جب میں اس سے ملا تو تو میں نے اللہ کی اس دین پر اس کا شکرانہ ادا کیا۔ جلد ہی میں نے اس کے اوصاف جاننے شروع کردیے، جو دن بہ دن مختلف مواقع پر میرے سامنے آتے چلے جا رہے تھے۔ میری بیو کو میری جانب سے جو پہلا دھچکا لگا وہ یہ تھا کہ میں بہت خاموش طبع، کم گو اور سنجیدہ مزاج ہوں، جب کہ وہ ایک بھرے پرے گھر میں پلی بڑھی تھی، جہاں ہنسی، مذاق، ہلا گلا اور گفتگو کی محفلوں کا رواج تھا۔ میرے رویے سے اسے یہ احساس ہوچلا تھا کہ گویا میں اس سے شادی کر کے پچھتا رہا ہوں، جب کہ میں اسے یہ یقین دلانے کی حتی الامکان کوشش کرتا کہ یہ میری فطرت ہے، جو میں نے اپنے گھر کے ماحول سے سیکھی ہے، لیکن اسے اس بات کا بڑے عرصے بعد یقین آیا، جب اس نے یہ دیکھا کہ میری یہ عادتیں اور رویہ صرف اس کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ بھی اسی طرح سے ہے۔ دوسری ایک مشکل اور تھی اور وہ یہ کہ میں ایک استاد ہوں۔ میں عموما شام کے وقت اپنے لیکچرز کی تیاری کرتا ہوں، نہ صرف یہ بلکہ میں اپنے نصاب کے علاوہ بھی مطالعے کا شوق رکھتا ہوں۔ اس کے برعکس میری بیوی محدود مطالعے کی عادی تھی، وہ افسانے اور معمولی قسم کے ناول پڑھا کرتی۔ صبح کا وقت تنہا گزارتی، کھانا وغیرہ پکاتی، گھر کی صفائی ستھرائی کرتی، لیکن اب بھلا وہ شام بھی تنہا گزارے، جب کہ میں اس کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں اور کتابوں کا مطالعہ کر رہا ہوں، لکھ رہا ہوں، پھر وہ دن، ہماری شادی کے ابتدائی دن بھی ہوں۔ ایک مرتبہ یوں ہوا کہ اس نے رات کا کھانا تیار کیا اور کمرے کا دروازہ کھول کر مجھے اطلاع دی کہ کھانا تیار ہے۔ میں نے اس کی آواز سننا تو درکنار دروازہ کھلنے کی آواز کو بھی محسوس نہ کیا۔ وہ سخت ناراض ہوئی اور اپنے گھر والوں سے میری اس حرکت کی شکایت کردی، مگر میں اپنی عادت سے مجبور اپنی اس طبیعت کو نہ بدل سکا، البتہ یہ مسئلہ حل ہوگیا اور وہ اس طرح کہ میرے پہلے بیٹے کی پیدائش ہوگئی اور اس کے بعد بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پھر ہوا یہ کہ میری بیوی نے میری عادات کو سمجھ لیا۔ یوں آپس میں مصالحت اور افہام و تفہیم کی فضا قائم ہوگئی۔ اس طرح ہماری زندگی پر سکون اور خوش گوار ہوتی چلی گئی۔

ہم دونوں زیادہ تر اپنی زندگی میں جس بات کا خیال رکھتے، وہ بچوں کی بہتری اور بھلائی اور ان کی تربیت و نشو ونما کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی ہوا کرتی۔ بس، دو باتیں ایسی تھیں، جن کی وجہ سے ماحول پراگندہ ہو جایا کرتا۔ ان میں سے ایک تو ملازمین کا مسئلہ تھا کہ ان کے بغیر گھر سکون میں تھا اور نہ ان کی موجودگی میں۔ ہمارے گھر میں ملازمین کے مسائل بڑے پرانے تھے۔ خصوصاً ملازماؤں کے حوالے سے تو مسائل کافی پیچیدہ تھے۔ در اصل میری بیوی اس معاملے میں غصے کی تیز تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کے تمام احکامات پر سختی سے عمل درآمد ہو اور ملازماؤں کا یہ حال کہ جو کام، جس طرح بتایا جاتا، کبھی اس طرح نہ کرتیں۔ ایسے میں اگر میں کبھی درمیان میں مداخلت کر بیٹھتا، تو توپوں کا رخ خادمہ کی بجائے میری جانب ہو جاتا۔ پھر میری بیوی میں غیرت بھی بہت تھی، چناں چہ وہ ملازماؤں کے بن سنور کے آنے کو بالکل پسند نہ کرتی، اگر کوئی آجاتی تو بس پھر اس کی شامت آجایا کرتی۔ آکر کار میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں ملازمین کے مسئلے کو بیوی ہی پر چھوڑ دوں کہ وہ جسے چاہے نکال باہر کرے، جسے چاہے رکھ لے۔

اور دوسری مشکل جو تھی وہ آپس میں کسی بات کو سمجھنے کے طریقے کا مفقود ہونا تھا۔ اس بارے میں میری پختہ رائے یہ تھی کہ عقل ہی وہ واحد فطری ذریعہ ہے، جس کے ذریعے آپس میں ایک دوسرے کی بات بہتر طور پر سمجھی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو، تو ہم عقل کے ذریعے اسے طے کر سکتے ہیں، لیکن طویل تجربات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ عقل، افہام و تفہیم کا سب سے کم زور ذریعہ ہے، کیوں کہ زیادہ تر خواتین کے حوالے سے تو میں نے یہی دیکھا ہے کہ آپ کریں گے مشرق کی بات، تو وہ کریں گی مغرب کی، آپ کریں آسمان کی بات تو وہ کریں گی زمین کی۔ آپ دلائل پر دلائل دیتے جائیں، مگر ان کے نزدیک دلائل کی قطعی کوئی اہمیت ہے، نہ قدر و قیمت۔ خیر اس کے باوجود ہماری زندگی پرسکون ہی رہی۔ پر اس پر سکون سمندر میں پریشانیوں اور مسائل کی وجہ سے کبھی کبھار جوار بھاٹا بھی آجاتا لیکن یہ طوفان جلد ہی اتر بھی جاتا۔

ہمارے یہاں شادی کے بعد جلد ہی بیٹا ہوا۔ میں نے اس پر بہت توجہ دی، اس کی پرورش و نگہ داشت کے لیے تربیت اولاد کے بارے میں کئی انگریزی اور عربی کتب پڑھیں، میں اپنے بڑے بچوں کے لیے بہت سخت گیر رہا، ان کی اخلاقی تربیت اور تعلیمی معاملات کی کڑی نگرانی کی اور کبھی کبھار ان کو معاملات میں لاپروائی برتنے اور رو گردانی کرنے پر سخت سزائیں بھی دیں۔ انہیں حد سے بڑھ کر آزادی نہیںدی، پر جوں جوں میری عمر بڑھتی گئی، میری سوچ میں وسعت آتی گئی۔ سو، ان کے معاملات میں دخل اندازی کرنا ترک کر دیا اور انہیں کافی حد تک آزادی دے دی۔ مختصر یہ کہ میں نے اپنے بچوں کی صحت، تعلیم اور اخلاقی تربیت پر بڑی محنت کی اور صعوبتیں اٹھائیں۔ ان کی شرارتوں اور بری عادات کو برداشت کیا، اس طرح میں انہیں معاشرے میں باعزت مقام دلوانے میں بھی کام یاب رہا۔ ان بچوں پر میری اور میری بیوی کی توجہ، محبتیں، چاہتیں اور عنایتیں حد سے بڑھ کر رہیں۔ ہم دونوں نے اپنی بہت سی خوشیوں اور خواہشات کو ان پر قربان کر ڈالا۔ ان کے آرام و سکون کی خاطر خود بے آرام و بے سکون رہے اور اس کے لیے ہم صرف اللہ ہی سے جزا کے طلب گار ہیں۔ جب کہ ہماری اولاد کا یہ حال ہے کہ وہ ہماری چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی حساب کتاب کرنے لگتی ہے اور یہ گمان کرتی ہے کہ ہماری چھوٹی سی چھوٹی بات نے ان کے احساس کو مجروح کیا ہے۔ حالاں کہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اولادکی تعلیم و تربیت کوئی تجارت نہیں کہ انہیں دے کر وصول کیا جائے، نہ ہی کوئی خرید و فروخت ہے کہ منافع کے لیے کی جائے۔ اصل میں تو یہ ایک فرض ہے، جو والدین کو اپنے بچوں اور اپنی امت کے لیے ادا کرنا لازم ہے۔ سو، اگر اولاد اس ادائیگی کی قدر کرے، تو انہیں چاہیے کہ والدین کے حوالے سے خود پر عائد کردہ فرائض کی بجا آوری کریں، ورنہ والدین نے تو جو فرض تھا، وہ پورا کیا اور رہا بدلہ تو وہ اللہ ہی دینے والا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
احمد امین ابراہیم الطباخ ترجمہ: ڈاکٹر جہاں آرا

Leave a Reply