دین میں صحت مند تفریح کی اہمیت

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا حنظلہ سے ملے تو ان سے ان کا حال پوچھا: حضرت حنظلہؓ نے جواب دیا:’’حنظلہ منافق ہوگیا ہے۔‘‘ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: ’’سبحان اللہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ حضرت حنظلہ نے کہا: ’’ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ہوتے ہیں اور آپ دوزخ اور جنت کا ذکر فرماتے ہیں تو ہم لوگ ایسے ہو جاتے ہیں گویا وہ دونوں ہمارے سامنے ہیں اور حضورؐ کے پاس سے آجاتے ہیں تو بیوی بچوں اور جائیداد کے دھندوں میں پھنس کر اس کو بھول جاتے ہیں۔‘‘ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: یہ بات تو ہم کو بھی پیش آتی ہے۔‘‘ حضرت حنظلہ کہتے ہیں: میں اور ابو بکر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہؐ! حنظلہ منافق ہوگیا ہے۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا ’’کیا بات ہوئی؟‘‘ میں نے عرض کیا جب ہم لوگ آپ کی خدمت اقدس میں ہوتے ہیں اور آپؐ جنت کا ذکر فرماتے ہیں تب تو ہم ایسے ہو جاتے ہیں کہ گویا وہ ہمارے سامنے ہے، لیکن جب ہم چلے جاتے ہیں تو جاکر بیوی بچوں اور گھر بار کے دھندوں میں لگ کر بھول جاتے ہیں۔‘‘ حضورؐ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تمہارا وہی حال رہے جیسا میرے سامنے ہوتا ہے تو فرشتے تم سے بستروں پر اور راستوں میں مصافحہ کرنے لگیں۔‘‘ (مسلم)

حضرت علیؓ کرم اللہ وجہ کا ارشاد ہے: ’’اپنے دلوں کو کچھ دیر کے لیے راحت پہنچایا کرو، جب انھیں مجبور کیا جاتا ہے تو یہ اندھے ہوجاتے ہیں۔‘‘ آپؓ کا ہی ارشاد گرامی ہے: ’’دلوں کو راحت دیا کرو اور ان کے لیے حکمت کا کوئی گوشہ عافیت تلاش کیا کرو، پس یقینا دل بھی جسموں کی طرح اکتا جایا کرتے ہیں۔‘‘

معلوم ہوا کہ ہمارے خوب صورت عظیم دین میں تفریح و راحت انسانی سے مراد ہے: نفسیاتی اور جسمانی راحت کے حصول کی خاطر نفس کوآرام اور تفریح اور کشادگی مہیا کرنا، تھکاوٹ اور مشقت کے اثرات زائل کرنا اور زندگی کے بوجھوں کو کم کرنا۔‘‘

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تفریح سے وقت ضائع ہوتا ہے۔ حالاں کہ یہ غلط سوچ ہے۔ جب کہ علمائے اسلام نے تفریح کو وقت کو آباد کرنے کے ذرائع میں شمار کیا ہے۔ ابن القیم اپنی کتاب ’’مدارج السالکین‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’وقت کو آباد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وقت کی تمام گھڑیوں میں ان کاموں میں مصروف رہا جائے جو اللہ سے قریب کردیں یا قریب کرنے میں معاون ہوں جیسے کھانا، پینا، سونا یا آرام کرنا، اگر ان کاموں میں مکمل لذت ملتی ہو۔ لذتوں اور خوشگواریوں کو ترک کرنے کو وقت کی تعمیر و آباد کاری گمان نہ کیا جائے۔‘‘

اللہ بزرگ و برتر اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر اپنی نعمتوں کے اثرات دیکھے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’ترجمہ: اے نبیؐ ان سے کہو، کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے روز تو خالصتاً انھی کے لیے ہوں گی۔‘‘ اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں۔‘‘ (الاعراف:۳۲)

میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے ماں باپ اپنی اولاد کو تفریح کی سہولت مہیا کرنے کی اہمیت سے واقف نہیں بلکہ ان میں سے کچھ تو اسے اس قابل مذمت لہو میں شمار کرتے ہیں جو بے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بہت سے والدین تفریح رسانی میںاسراف سے کام لیتے ہیں۔ وہ تفریح کے دروازے چوپٹ کھول دیتے ہیں۔ کمیت اور نوعیت دونوں لحاظ سے اور حدود و ربط کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ اس میں کیا شک ہے کہ اس افراط و تفرط میں رہ نمائی اور اصول و ضوابط کی سخت ضرورت ہے۔

مباح تفریح

والدین تھوڑی سی منصوبہ بندی اور انتظام سے اپنے بچوں کو اس بات کی تربیت دے سکتے ہیں کہ مسلمان کے تمام اوقات عبادت ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ چھٹیوں کے دنوں اور موسمی تعطیلات کو وہ اپنے بیوی بچوں کو اپنی حیثیت کے مطابق تفریح مہیا کرنے کا ایک سنہری موقع قرار دے لیں تاکہ جائز و مباح ذرائع تفریح کے ذریعے وہ تازہ دم ہوجائیں۔ ایسا کرنے میں اللہ بزرگ و برتر کی فرماں برداری ہے اور زندگی کو اس طرح بسر کرنا ہے جیسا کہ زندگی عطا کرنے والے نے چاہا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔‘‘ (الانعام:۱۶۲)

انسان کا مزاج ایسا ہے کہ وہ ہمیشہ تفریح کی طرف مائل ہوتا ہے۔ وہ کھیلنا کودنا چاہتا ہے اور وہ خوش و شادماں رہنا چاہتا ہے۔ انسان کی اسی طبیعت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایسی تفریح اور کھیل مباح کیا ہے جس سے اسے عبادت کرنے میں قوت ملے۔ نیکی کے کام میں مدد ملے اور زندگی کی مہمات کو سر کرنے کے لیے تقویت ملے۔

نبی انسانیتﷺ نے حضرت حنظلہؓ کی جو رہ نمائی فرمائی تھی، وہ اسی حقیقت کی غماز تھی کہ ’’اے حنظلہ! گاہے گاہے۔‘‘ یعنی انسان اس طرح منافق نہیں ہوتا کیوں کہ وہ کسی لمحے حالت حضوری میں ہوتا ہے اور کسی گھڑی حالت غیر حضوری میں۔ حضوری کے لمحات میں ہم اپنے پروردگار کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ جب کہ غیر حضوری کے اوقات میں ہم اپنے نفسوں کو مباح امور میں راحت و لذت پہنچاتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو رہ نمائی فرمائی ہے، ہم اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی انسان جب اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے تو اس کی شان اور ہوتی ہے اور جب وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کی شان اور ہوتی ہے۔ وہ مباح امور سے اپنے آپ کو تفریح مہیا کرتا ہے نیز اپنے اہل و عیال کو، مگر شرط یہ ہے کہ اس میں اسراف سے کام نہ لے۔ تفریح کے وقت مسلمان زبان حال سے یہ نہ کہہ رہا ہو کہ ’’میں کھیل کود کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔‘‘ یعنی اس کی زندگی کھیل کود سے اس طرح آلودہ نہ ہوجائے کہ وہ زندگی کے بنیادی مقاصد کو چھوڑ دے۔‘‘

لہو مذموم

لہو وہ اقوال و اعمال ہیں جو غیر سنجیدہ اور غیر مطلوب و مقصود ہوں۔ وہ بذات خود مقصد ہوں نہ کسی اچھے مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ ہوں۔ وہ اللہ کی یاد سے غافل کردینے والے ہوں۔ ایک شخص نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے دنیا کی مذمت کی تو آپؓ نے فرمایا: ’’دنیا سچائی کا گھر ہے اس کے لیے جس نے اسے سچا جانا اور دنیا نجات کا گھر ہے اس کے لیے جس نے دنیا کو سمجھا اور بے پروا و مستغنی ہونے کا گھر ہے، جس نے اس سے بے رغبتی کی۔‘‘

وہ لہو و لعب جس کا کوئی ہدف نہ ہو اور نہ اس کے لیے ضوابط ہوں اسے دھوکہ شمار کیا جائے گا۔ اس قسم کا لہو و لعب کفار کا طریق کار ہوتا ہے۔

’’اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں اور ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ (محمد:۱۲)

ایک شخص زندگی کو لہو و لعب میں گزار دیتا ہے اور زندگی کو اسی رنگ میں رنگ لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ لہو و لعب کے لیے پیدا ہوا ہے اور مزے لوٹنے کے لیے دنیا میں آیا ہے تودنیا اپنی تمام تر سجاوٹوں کے ساتھ اسے غافل کر دیتی ہے۔ ایسا شخص اس آدمی سے بالکل الگ ہے جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس لیے تفریح پہنچاتا ہے تاکہ وہ زیادہ سرگرمی، چستی اور بلند ہمت کے ساتھ ازسرنو اپنے کاموں میں مشغول ہوجائے۔

بچوں کا مزاج اور تفریح سے لگاؤ

بچے فطری لحاظ سے کھیل کود کے دل دادہ ہوتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں ان کا رویہ بڑوں سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ بچوں کے جسم انھیں حرکت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بچوں میں ایسی قوتیں ہوتی ہیں کہ حرکت کرنے سے ہی انھیں آسودگی ملتی ہے۔ کیوں کہ ان پٹھوں میں تیزی سے بڑھوتری ہورہی ہوتی ہے اور یہی چیز انہیں ہمیشہ حرکت، دوڑنے اور کودنے پر آمادہ رکھتی ہے۔ پھر بچے تفریح، کھیل کود اور حرکت کی طرف میلان رکھتے ہیں۔ لہٰذا والدین کا کا فرض ہے کہ وہ ان بچوں کے لیے تفریح اور کھیل کا بندوبست کریں و گرنہ ان کے فطری جذبات کو دبانے سے بچوں کو نفسیاتی اور جسمانی نقصانات پہنچیں گے۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ اسی طرز عمل کو بیان کرتی ہیں، جو انھوں نے چھ سال کی عمر میں اختیار کیا تھا، میں ایک جھولے میں ہوتی تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں ہوتی تھیں… پھر آپ نے قصہ بیان کیا۔ (بخاری)

یہ ہے بچوں کی طبیعت اور ان کا مزاج۔

سیدہ عائشہؓ سے ہی روایت ہے، فرماتی ہیں: میں رسول اللہؐکے یہاں بچیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ میری کچھ سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلتی تھیں۔ رسول اللہؐ جب گھر تشریف لاتے تو وہ بھاگ کر ادھر ادھر ہو جاتی تھیں۔ آپؐ انھیں میرے پاس بھیج دیتے چناں چہ وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔‘‘ (مسلم)

بڑوں کے لیے بھی تفریح

پس جس طرح بچوں کے لیے مناسب ذرائع تفریح ہیں، اسی طرح بڑوں کے لیے بھی ان کے موزوں ذرائع تفریح ہیں۔ چناں چہ مسند امام احمد اور سنن ابو داؤد میں حضرت عائشہ سے مروی ہے۔ فرماتی ہیں:

’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپؐ سے دوڑ میں آگے بڑھ گئی۔ پھر جب میرا جسم بھاری ہوگیا تو آپؐ نے مجھ سے دوڑنے کا مقابلہ کیا اور آپؐ مجھ سے آگے بڑھ گئے تو فرمایا:

’’یہ اس کے برابر ہوگیا۔‘‘ (ابوداؤد)

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مزاح کرتے تھے، خاص طور پر سفروں میں، جب دل اکتا جاتے تو وہ ایک دوسرے پر خربوزے کے چھلکے پھینکتے تھے۔ اس کے باوجود سنجیدگی، عمل اور جہاد کے وقت مردانِ کار تھے۔ روایت ہے کہ حضرت عمر اور ابن عباس دونوں سفر پر تھے، راستے میں ان کا گزر ایک پانی کے چشمے سے ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ ابن عباس سے کہا: ’’آؤ ہم دونوں پانی کے اس چشمے میں غوطہ لگاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس کا سانس زیادہ لمبا ہے۔‘‘یعنی پانی میں کون زیادہ دیر تک ٹھہرتا ہے۔ حالاں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت عمر رسیدہ تھے اور ابن عباس نوخیز نوجوان تھے۔یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ صحابہ کرامؓ تفریح سے لطف اندوز ہوتے تھے اور سفر میں پانی میں غوطہ لگانے کی ورزش کرتے تھے۔

کچھ غلطیوں کی درستگی

ہمارے دور میں تفریح، پسندیدہ تفریح سے لہو مذموم میں بدل چکی ہے۔ لوگ اس میں اسراف سے کام لیتے ہیں اور تفریح کو لطف اندوزی اور مزے اڑانے کا ایک مسلسل عمل بنا دیا گیا ہے۔ انھوں نے تفریح کو بذات خود مقصد بنا لیا ہے اور اسے مقصد کا ذریعہ نہیں رہنے دیا۔ پھر انھوں نے تفریح میں اس طرح کا تنوع پیدا کر دیا ہے کہ نوجوان تفریح کی جانب کھنچے چلے جاتے ہیں۔ یہ نوجوانوں کو پروردگار کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں، انھیں زندگی میں مثبت اور اہم کاموں کے بجا لانے سے روک دیتے ہیں۔ ان کی شناخت کم زور کر دیتے ہیں۔ چناں چہ ہمارے بہت سے بچوں کا زندگی میں کوئی مقصد نہیں، انھوں نے ضرورتوں، بنیادوں، اصولوں اور حقائق کو چھوڑ کر معمولی باتوں کو اپنا رکھا ہے۔ لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں پر تفریح کے اصول و ضوابط واضح کردیں تاکہ والدین اور بچے سب انھیں جان لیں۔ ان اصول و ضوابط کو ملحوظ رکھنے اور ان پر عمل درآمد میں ہی ان کا، ان کے معاشروں کا اور امت اسلامیہ کا تحفظ ہے۔

تفریح کے لیے شرعی اور تربیتی ضابطے

ایک شرعی قاعدہ ہے: ’’اشیا میں اصل تو مباح ہوتا ہے الا یہ کہ اس چیز کے حرام ہونے پر کوئی نص وارد ہوئی ہو۔‘‘

چوں کہ مباح امور بہت زیادہ ہیں اور سب کا احاطہ کرنا اور شمار کرنا دشوار ہے۔ اس لیے والدین اور سرپرستوں کے لیے مفید یہی ہوگا کہ میں یہاں پر کچھ عام مروج ممنوعات بیان کردوں، جن میں زیادہ تر لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں تاکہ سب لوگ ان ممنوعات کے ارتکاب سے باز رہیں اور ان سے بچتے رہیں۔ ان ضوابط میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:

٭ ہر وہ تفریح جو شطرنج پر مشتمل ہو، کیوں کہ رسالت مآبؐ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جس نے شطرنج کھیلا، اس نے گویا اپنا ہاتھ سور کے گوشت یا اس کے خون سے آلودہ کر لیا۔‘‘ (مسلم)

٭ چہرے پر مارنا، جیسا کہ کچھ کھیلوں میں ہوتا ہے کہ کھلاڑی ایک دوسرے کے چہرے پر ضربیں لگاتے ہیں جیسے مکہ بازی (باکسنگ) کیوں کہ شریعت نے چہرے کو مکرم ٹھیرایا ہے اور رسول اللہﷺ نے چہرے پر مارنے سے روکا ہے۔

٭ جوا بازی، کیوں کہ اسے حرام قرار دیا گیا ہے۔

٭ کھیل اور تفریح کھلاڑی اور تفریح کرنے والے کو اللہ کے ذکر، نماز، طاعات و عبادات اور نیکی کے کاموں سے روک نہ دے۔ نیز کھیل اور تفریح انسان کے کام کاج اور کارکردگی پر منفی اثرات نہ ڈالیں، یعنی مہارت کے ساتھ اس کے کاموں کو ادا کرنے پر اثر انداز نہ ہوں۔

٭ ہر وہ کھیل اور تفریح ممنوع ہے جس سے جسم یا جان یا کسی اور انسان یا جاندار کو نقصان پہنچے۔ جیسا کہ آتشیں کھیلوں، موت کے کنوؤں یا بیلوں، کبوتروں، مرغوں اور کتوں کو باہم لڑانے کے کرتب ہوتا ہے۔

٭ کھیل یا تفریح فتنہ و فساد کا سبب نہ بنے جیسا کہ اس وقت فتنہ و فساد رونما ہوتا ہے جب عورتیں یا دو شیزائیں، غیر مناسب لباس پہن کر کھیلتی ہیں۔ اس سے معاشرے کے لیے فتنے جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح مرد جب غیر شرعی لباس پہن کر کھیلتے ہیں تو اس سے بھی فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے۔

٭ دل ذرائع تفریح میں اس طرح محو ہوجائے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہوجائے۔

٭ ہر وہ کھیل یا تفریح جس سے بچوں میں تشدد کا رجحان پیدا ہوتا ہو، خواہ یہ تشدد الفاظ و کلمات کی صورت میں ہو یا عمل کی شکل میں۔

اس میں وہ تمام کارٹونوں گیمیں، فلمیں اور ڈرامے ہیں، جن میں مارکٹائی اور تشدد دکھایا جاتا ہے۔

٭ ہر ایسی تفریح ممنوع ہے جو جادو یا خرافات یا فضولیات و لغویات کو ثابت کرتی ہو جیسے کہانیاں، افسانے، ناول اور ڈرامے وغیرہ، خواہ یہ تحریری شکل میں ہوں یا انھیں اسکرین پر دکھایا جاتا ہو۔ اسی میں شعبدے بازی سے متعلق تمام پروگرام بھی داخل ہیں۔

٭ تفریح کے ذرائع سے شریعت کی مخالفت و خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ تفریح کے ذرائع سے نہ تو دوسروں کا مذاق اڑایا گیا ہو اور نہ ہی انسانوں کو کسی قسم کی اذیت پہنچائی گئی ہو۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیر یونس

Leave a Reply