خدا بخش لائبزیزی

خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری

دارالمطالعے ہماری علمی روایت کی تاریخ مرتب کرتے ہیں۔ لہٰذا دارالمطالوں کی اپنی قدریں جس قدر مستحکم ہوں گی ان سے مرتب ہونے والی علمی روایت بھی اسی قدر عظیم الشان اور پرشکوہ قرار دی جائے گی۔

خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری ہماری علمی دانشورانہ روایت کی تاریخ میں ایک نشان امتیازکی حیثیت رکھتی ہے اور تقریباً 125 برسوں سے اس دعوے پر دلیل و برہان کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے اور جس قدر قدامت اس علمی سرمائے کی ہم نشین ہوتی جائے گی اس کی روشن مثال کی داستان اسی قدر روشن سے روشن تر۔ خدا بخش لائبریری ابوعلی خاں المعروف بہ خدا بخش خاں کے والد مولوی محمد بخش خاں متوطن ضلع چھپرہ، صوبہ بہار کی ذاتی دلچسپیوں اور علمی نواردات کے ذخیروں کی فراہمی کے شوق کی مرہون منت ہے۔ جنہوں نے اپنے وارث خدا بخش خاں کیلئے اپنے ترکے میں تقریباً 1400 عربی و فارسی مخطوطات اور طبع شدہ کتابوں کا ذخیرہ اس ہدایت کے ساتھ چھوڑا کہ ان کا وارث عظیم آباد شہر کے قلب میں ایک ایسا دارالمطالعہ قائم کرے جس کی نظیر صاحب نظروں کو دور دور تک نظر نہ آئے۔ میراث پدر دعاؤں کے ساتھ تھی اور وارث خود علمی ذوق بھی وارثت میں لایا تھا لہٰذا 80 ہزار روپئے کی لاگت سے 1888میں یہ خواب دریائے گنگا کے کنارے وسط عظیم آباد میں شرمندہ تعبیر ہوا۔

افتتاح کرتے وقت لیفٹنٹ گورنر چارلس ایلیٹ نے نہایت ذمہ داری سے بیان دیا کہ اس کی بنا پائیدار ہے لہٰذا تاریخ بھی روشن ہو گی، جو حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوا۔ اردو، فارسی اور عربی کے 1400 مخطوطات اور مطبوعہ کتابوں سے شروع ہونے والی یہ لائبریری آج اپنے علمی سرمائے کا جب شمار پیش کرتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے مخطوطات کا ذخیرہ 21000 سے زائد اور مطبوعات کا تعداد تقریباً 2لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ صرف مجلد رسائل و جرائد تقریباً 38000 سے زائد ہیں۔ لائبریری کی نوادرات میں جہاں مخطوطات اور بے مثل مطبوعات کا ذخیرہ ہے وہیں تغلق، اکبر، شاہجہاں اور شاہ عالم جیسے فرمانرواؤںکے دور کے نادر و نایاب 800سکے بھی موجود ہیں۔

لائبریری کے ذمہ داران کے مطابق 1965میں مخطوطات 8487 اور مطبوعہ کتابیں 41411 تھیں جبکہ 31مارچ 1999 تک قلمی ذخیروں کی تعداد 21101 اور مطبوعات 95538 تک پہنچ چکی تھیں۔ کسی بھی اچھی لائبریری کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے دامن میں نادر و نایاب مخطوطات اور فن پاروں کے کتنے گوہرآبدار موجود ہیں۔ اس لحاظ سے خدا بخش لائبریری کی قدرو قیمت صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کی کسی بھی اہم لائبریری سے کسی طورپر بھی کم نظر نہیں آتی۔ خطاطی اور تصویروں کے نمونوں سے لے کر نادر و نایاب مخطوطات تک بے مثل سرمائے اس لائبریری کی جان ہیں۔

عباسی دور کے خطاط یا قوت مستعصی کے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن، صحابہ کے دور میں ہرن کی کھال پر خط کوفی میں لکھی ہوئی سورہ ابراہیم کی تین آیتیں ، قرآن شریف کا بڑی تقطیع پر لکھا ہوا مرصع وہ مطلا نسخہ اور قرآن کے بعض ایسے نسخے یہاں موجود ہیں کہ جن کی مثال شاید و باید ہی کہیں نظر آئے۔

علاوہ ازیں مصنف کی زندگی میں کتابت شدہ رسالہ قثیریہ اور تاریخ خاندان تیموریہ کے ایسے نسخے نظر آتے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کے واحد نسخے ہیں۔ فاتح قسطنطنیہ سلطان ثانی کی تاریخ’’شہنشاہ نامہ‘‘شاہ جہاں کی مکمل تاریخ ’’بادشاہ نامہ‘‘ بادشاہ جہانگیر کا ’’جہانگیر نامہ‘‘ اور فردوسی کے ’’شاہنامہ‘‘ کے مصور نسخے نہایت بے مثال مصوری کے نمونوں کے ساتھ موجود ہیں جو کسی زمانے میں بادشا ہوں کے مطالعے میں رہے تھے اور ان پر اب بھی ان کے دستخط ان کے نادر ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔

مشہور فارسی شاعر جامیؒ کے خود اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی تصنیف ’’سلسلۃ الذہب‘‘ کا نسخہ اور ان کی کتاب ’’یوسف و زلیخا‘‘ کا عبدالرحیم خان خاناں کے ہاتھوں تیار شدہ نسخہ اور دیوان حافظ کا وہ نسخہ جس پر ہمایوں اور جہانگیر کے دستخط موجود ہیں اور داراشکوہ کی مشہور کتاب ’’سفینتہ الاولیاء‘‘ کا وہ نسخہ جسے خود اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا، لائبریری کے ان نواردات میں شامل ہیں جن کی قدرو قیمت کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کے علاوہ گیتا، پران ، مہابھارت کے نایاب فارسی تراجم اور سنسکرت میں کئی سوتامڑپتر اور کثیر تعداد میں اہم شخصیات کے خطوط کے ذخیرے لائبریری کی شان میں اضافہ کرتے ہیں۔ ابتداء سے ہی لائبریری کی جدید کاری پر ہمیشہ توجہ دی گئی لہٰذا 1954 میں ہی عکسی نقل فراہم کرانے کیلئے ایک مائیکرو فلمنگ سیکشن قائم کیا گیا۔ ریپرو گرافی کی خدمات مہیا کرائی گئیں۔ زیروکس کے بعد منولٹا مائیکرو فلم ریڈر کا انتظام ہوا اور اب مخطوطے کی مائکرو فلم تیار کر کے اس کے پرنٹ آوٹ بہ آسانی مہیا کرانے کی سہولتیں دستیاب ہیں۔

کمپیوٹر سکشن کا حالیہ اضافہ لائبریری کی جدید کاری کی طرف ایک اہم قدم ہے جس کی وجہ سے لائبریری کو دوسری سہولتوں کے علاوہ طباعت کی آسانیاں بھی فراہم ہو گئی ہیں۔

خدا بخش خاں نے لائبریری کی جودو منزلہ عمارت تیار کروائی تھی اس میں وقت کے ساتھ کافی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت بہار نے 1938ء میں نہایت خوب صورت عمارت تیار کروائی تھی۔ حکومت ہند نے بعد میں اس کی دوسری منزل کا اضافہ کیالیکن جب جگہ کی قلت محسوس کی گئی تو پرانی عمارت کی پشت پر 1983میں ایک نہایت خوب صورت سہ منزلہ عمارت کی تعمیر کی گئی۔ لیکن لائبریری کی روزافزوں ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے یہ عمارتیں بھی ناکافی محسوس ہورہی ہیں۔ لہٰذا نئے ذمہ داروں نے ایک شش منزلہ عمارت کا منصوبہ بورڈ سے پاس کراکے محکمہ ثقافت کو بھیجا ہے جس پر تقریباً 5کروڑ روپے کی لاگت کا اندازہ ہے۔

دسمبر 1969 میں حکومت ہند نے پارلیمنٹ ایکٹ کے ذریعہ اس لائبریری کو قومی ادارے کی شکل دے دی جس بناء پر اس کے مصارف اس ادارے کے لیے نہایت تشفی کی بات ہے۔

لائبریری کا بجٹ تقریباً 1.5کروڑروپئے سالانہ ہے اور حکومت بہار کی طرف سے بھی سالانہ 50 ہزار روپئے کی امداد مل جاتی ہے۔ ان آسانیوں کی وجہ سے لائبریری کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوششیں جا رہی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شہناز بیگم

Leave a Reply