4

ایک شمع جلانی ہے! (آٹھویں قسط)

ہم ہی وفا کے عہد پہ قائم نہ رہ سکے

اپنے سوا ہمیں تو کسی کا گلہ نہیں

’’غافرہ۔۔۔ اے غافرہ۔۔۔ کب سے بیٹھی ہو سیڑھیوں پر! دھوپ نکل آئی ہے، چل اندر آجا…‘‘ خالہ دادی کی آواز پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا اس کی آنکھوں میں اتنی ویرانی تھی کہ خالہ دادی تڑپ اٹھی تھیں۔

’’کیا ہوا؟ صبح فجر سے یہاں چائے لیے بیٹھی ہے، اب ۱۰ بچنے کو آگئے، چائے تو ساری ٹھنڈی ہوگئی۔‘‘ خالہ دادی بات کرتے کرتے اس کے قریب آگئیں۔

’’کچھ نہیں خالہ دادی… بس ایسے ہی…‘‘ غافرہ نے انہیں ٹال دیا اور خاموشی سے وہاں سے اٹھ گئی مگر خالہ دادی کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا۔

وہ ڈیڑھ سال، چار ماہ، دو دن پیچھے سے حال میں آئی تھی۔ اس عرصے کا سارا دکھ، ساری تکلیف، ساری تنہائی اور ملال اس کی آنکھوں میں تھا۔

وہ دن آخری دن تھا جب ابتسام کی اس سے بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد ابتسام نے مکمل خاموشی اختیار کرلی تھی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا غافرہ کو احساس ہو رہا تھا کہ شادی سے پہلے ماں باپ کے ساتھ رہنے اور شادی کے بعد یوں ماں باپ کے گھر آکر رہنے میں کتنا فرق ہے۔ اپنوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ایک عجیب اجنبیت اسے گھیرے رہتی۔ رشتہ دار تھے، لوگ تھے، ملنے ملانے والے تھے اور پھر تھے اُن کے سوال، ان کی گھورتی جانچتی نظریں۔

شادی کے بعد عورت کے لیے عزت و احترام شوہر کے دم سے ہوتا ہے۔ شوہر کا گھر ہی اس کی ’’چار دیواری ہوتی ہے جو اسے تحفظ دیتی ہے، اِسی رشتہ سے اسے Supportملتا ہے اور یہی اسے خود اعتمادی دیتا ہے۔

اور یوں والدین کے گھر آکر بیٹھ جانے والی لڑکیاں عدم تحفظ اور بے اعتمادی کا شکار ہوکر رہ جاتی ہیں، خود ترسی کا ایک phase ہوتا ہے۔ ایک مسلسل phaseجس میں وہ داخل ہو جاتی ہیں۔

اب غافرہ خود ہی ہر بات اور ہر چیز بھلا دینا چاہتی تھی اور چاہتی تھی کہ حالات موافق ہوجائیں لیکن اب معاملات اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ جب تک شوہر و بیوی کے آپسی تنازعات اِن دونوں کے درمیان رہتے ہیں تو معاملات کی ڈور زیادہ الجھ نہیں پاتی اور یہ بہ آسانی سلجھ جاتی ہے، لیکن جیسے ہی یہ چرچہ عام ہو جائے تو بھی شوہر اور بیوی کٹھ پتلی کا وہ جوڑا بن جاتے ہیں جس میں سے ہر ایک کی بے شمار ڈوریاں ہوتی ہیںجو دوسروں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں اور انھیں نچائے جاتی ہیں۔

اِن چھ ماہ میں مقاہمت کی کوشش کئی بار کی گئی، کچھ ابتسام کی طرف سے، کچھ غافرہ کی جانب سے خاندان کے سمجھ دار افراد درمیان میں تھے، لیکن کچھ حاصل نہ ہو پا رہا تھا، کبھی کوئی اختلاف کر دیتا اور کبھی کوئی ناراضگی کا اظہار کر دیتا، بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی مگر معاملہ حل نہ ہو پاتا۔

اکثر تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ شوہر، بیوی کے درمیان کوئی خاص اختلاف نہیں ہوتا۔ کوئی چھوٹی موٹی غلط فہمی ہو جاتی ہے اور دونوں ہی باہمی مفاہمت کے بعد دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن بات جب چار لوگوں کے درمیان آجاتی ہے تو دونوں ہی کے گھر والے غصہ، جلال اور انا کو بیچ میں لے آتے ہیں اور اب جھگڑا شوہر، بیوی کا نہ ہوکر اُن کے والدین اورگھر والوں کا ہو جاتا ہے اور پھر بھلے ہی وہ دونوں مل بیٹھنے کے لیے تیار ہوں گھر والے تیار نہیں رہتے۔ ایک دباؤ بنائے رکھتے ہیں اور بالآخر سلسلہ طلاق یا خلع پر آ رُکتا ہے۔ یہ آج کی بڑی ہی تلخ حقیقت اور سچائی ہے۔ اگر ایک نظر ہم اپنے معاشرہ پر ڈالیں تو ہر تیسرے گھر میں ایسی ہی ایک سسکتی کہانی ملے گی!

خیر تو یوں غافرہ کا معاملہ التوا میں پڑ چکا تھا۔ سویرا شادی الرجک ہوگئی تھی۔ گھر میں اگر اس کے رشتے کی بات بھی کی جاتی تو وہ رو رو کر گھر سر پر اٹھا لیتی۔ عفان چڑ چڑا ہوگیا تھا اور بیزار بھی! اس نے کافی عرصہ تک نیک نیتی کے ساتھ یہ کوشش کی تھی کہ غافرہ اپنے گھر چلی جائے۔ اپنے تئیں غافرہ کو سمجھانے کی، فائقہ بیگم کو سمجھانے کی بھی بہت کوشش کی، لیکن کسی نے اس کی نہ مانی اور یوں اب اس کا مزاج بھی بگڑا بگڑا رہتا۔ یاسر صاحب سر جھکائے، تفکرات کا جال پیشانی پرلیے پھرتے۔ فائقہ بیگم کبھی پریشان ہوتیں، کبھی اپنے جلال میں آجاتیں۔ یہ بات تو ان کے سمجھ میں آہی گئی تھی کہ بیٹیاں بھاری نہیں ہوتیں، لوگوں کی نظریں اور باتیں بھاری ہوتی ہیں۔ مگر وہ اب بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھیں کہ غلطی ان کی ہے۔ خالہ دادی اکثر بلا جھجک ان سے کہہ دیتی تھیں کہ غافرہ کی زندگی میں آئے اِس طوفان کی ذمہ دار وہی ہے اور افسوس ظاہر کرتیں کہ انہیں اگر سارا معاملہ پہلے ہی پتہ چل جاتا تو وہ زبردستی غافرہ کو اس کے گھر چھوڑ آتیں۔

اور یوں آج ایک ایک بات یادوں کے جھروکوں سے نکل کر آئی تو غافرہ کا دل اور اداس ہوگیا تھا۔ لیکن بہ نسبت پچھلے کئی دنوں کے وہ آج خود کو زیادہ پرسکون محسوس کر رہی تھی کہ آج اس نے نہ صرف اللہ کو پورے دل سے پکارا تھا بلکہ اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا تھا۔ ایک ٹھنڈک تھی جو اسے دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اپنے روز مرہ کے کاموں میں جٹ گئی۔ اسے یقین تھا کہ اللہ راستہ نکالے گا اور اس اندھیرے سے نکلنے کے لیے روشنی کی کرن ضرور بھیجے گا۔

٭٭٭

جو تم مایوس ہوجاؤ

تو رب سے گفتگو کرنا

وفا کی آرزو کرنا

سفر کی جستجو کرنا

یہ اکثر ہو بھی جاتا ہے

کہ کوئی کھو بھی جاتا ہے

مقدر کو برا جانوگے

تو یہ سو بھی جاتا ہے

اگر تم حوصلہ رکھو

وفا کا سلسلہ رکھو

جسے کہتے ہو تم خالق

اسی سے رابطہ رکھو

میں یہ دعوے سے کہتی ہوں

کبھی ناکام نہ ہوگے

ہفتہ میں کم از کم دو سے تین بار وہ تہجد کا اہتمام کرنے لگی تھی، یہ رب کا وعدہ تھا کہ وہ پکارنے والے کی پکار سنتا ہے اور جواب دیتا ہے اور تہجد کے وقت تو ویسے بھی وہ پہلے آسمان پر ہوتا ہے۔ اور وہ مانگے جا رہی تھی اس یقین کے ساتھ کہ اللہ حل نکالے گا اور ضرور نکالے گا لیکن اس کا یقین اس وقت ہل کر رہ گیا جب اسے ریشما آنٹی سے پتہ چلا کہ ابتسام کی امی اس کے لیے لڑکی تلاش کر رہی ہیں۔ جہاں اس کا دل تڑپ اٹھا تھا وہیں اس کے گھر والوں کو بھی شاک لگا تھا۔ مفاہمت کی کوششیں ایک بار پھر عروج پر آگئی تھیں۔ ابتسام اور اس کے گھر والوں کی شرط تھی کہ غافرہ کو ان سے معافی مانگنی ہوگی، اپنی ضد چھوڑنی ہوگی اور خود ہی گھر واپس آنا ہوگا۔‘‘اس مرتبہ فائقہ بیگم بھی خاموش ہی رہیں،حالاں کہ اندر ہی اندر یہ بات انہیں کھائے جا رہی تھی کہ سب کچھ اُن کی مرضی کے خلاف ہے، اور غافرہ…!!

غافرہ ایک عجیب کیفیت کاشکار تھی۔ اسے اپنا آپ بے معنی اور صفر لگنے لگا تھا۔ ’’اللہ میں نے اس طرح کے حل کے لیے دعا نہیں مانگی تھی کہ ابتسام مجھے چھوڑ ہی دے…‘‘ خاموشی سے دو آنسو اس کے دامن میں جذب ہوگئے۔ وہ ذہنی خلجان کاشکار ہو رہی تھی۔‘‘

’’غافرہ… بیٹی کیا دو دن میرے ساتھ چل کر رہ سکتی ہو تم؟ رحمیٰ اپنے بھائی بھابھی کے پاس گئی ہوئی ہے، اکیلے میں میرا دل بڑا ہولتا ہے۔‘‘ خالہ دادی نے بڑی امید سے اسے کہا تو وہ انکار نہ کرسکی حالاں کہ کہیں بھی آجا سکے ایسی اس کی حالت نہ تھی۔

’’جی خالہ دادی، میں ابو سے پوچھ لیتی ہوں۔‘‘ غافرہ نے پھیکی مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو وہ بس اسے دیکھتی رہ گئیں۔ حادثات، دکھ اور کرب انسان سے اس کی تازگی اور شگفتہ مزاجی کس طرح چوس لیتے ہیں اور اپنا نشان چہروں پر چھوڑ جاتے ہیں۔ حقیقت میں وہ غافرہ کے لیے بہت دکھی تھیں۔

’’میں پوچھ چکی ہوں، وہ تو خوشی خوشی تیار ہے، اس کا خیال ہے کہ اس بہانے ہی سہی تم گھر سے تو نکلوگی۔ تم تو دنیا تیاگ بیٹھی ہو۔ ذرا باپ کا خیال کر بیٹی۔ پریشان پھرتا ہے ہر وقت ۔ دادی کا اپنا ایک انداز تھا لیکن ان کے اس جملہ پر جیسے کسی نے غافرہ کا دل مٹھی میں لے لیا تھا، وہ بھولی بھٹکی پھیکی سی مسکراہٹ بھی غائب ہوگئی۔

’’میں بیگ لے کر آتی ہوں۔‘‘ وہ نظریں چراتی ہوئی منظر سے غائب ہوگئی۔

٭٭

اپنے جو چھوڑ جائیں، اپنوں کو راستوں میں

غیروں پہ ذمہ داری، الزام کیا دھروں میں

دو کمروں، ایک کچن اور چھوٹے سے صحن کے ساتھ پرانے طرز پر بنا خالہ دادی کا گھر بڑی نفاست سے سجا تھا۔ ایک سکون سا محسوس ہو رہا تھا اسے۔ خالہ دادی چائے پی کر کسی سے ملنے کے لیے چلی گئیں۔ اس عمر میں بھی خاصی ایکٹیو اور سوشل تھیں وہ۔ ان کے جانے کے بعد وہ صحن میں آگئی۔ صحن چھوٹا سا ہی تھا جس میں ایک جانب پانی کی ٹنکی رکھی تھی اور اسی سے لگ کر کپڑے اور برتن دھونے کے لیے نل لگا تھا۔ مٹی کے بے شمار گملے نہایت سلیقے سے صحن میں چاروں طرف رکھے ہوئے تھے، جن میں پودینہ، مرچی، کڑی پتہ کے علاوہ موگرہ، چمیلی اور سدا بہار کے پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے۔

پڑوسی کے گھر میں لگا نیم کا درخت خالہ دادی کے آدھے سے زیادہ صحن پر چھایا تھا۔ آج کے دور میں جہاں گھروں میں صحن اور نیم و جامن کے درختوں کا تصور ہی قصہ پارینہ بن گیا ہے وہاں اُسے یہ منظر بہت اچھا لگا۔

’’جب میرا اپنا گھر ہوگا تو میں اس میں ڈھیر سارے پودے لگاؤں گی۔‘‘ ایک بھولی بسری خواہش یاد آئی تو دل میں ہوک سے اٹھ گئی۔

صحن میں رکھی ایک کرسی جس کا رنگ کسی زمانے میں سفید ہی رہا ہوگا، مگر اب نہ رہا تھا، اس پر وہ ٹک گئی۔

’’اللہ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کیا کروں؟ کوئی امید نہیں بچی اب میرے پاس۔ زندگی بڑی عجیب سی ہوگئی ہے۔ یا اللہ میں تھکنے لگی ہوں اور یہ اندھیرا مجھے پریشان کر رہا ہے۔ تو کسی انسان پر اس کی ذات سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ مانتی ہوں کہ جو کچھ میری زندگی میں پریشانی ہے وہ میرے اپنے اعمال کی وجہ سے [یہ ایک ایسی تلخ حقیقت تھی جسے کم از کم تنہائی میں تو وہ مان ہی لیتی تھی] اور میرا ہی بنایا ہوا جال ہے۔ میری مدد کیجیے اللہ پاک! مجھے ان اندھیروں سے نکالیے اور مجھے روشنی دکھائیے مولائے کریم! تیرے سوا میرا کوئی نہیں…‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی۔

’’امی ابھی بھی غصہ میں کہہ دیتی ہیں کہ میری بیٹی کو رشتے کی کمی تھوڑی ہے اگر وہ رشتہ ختم کر کے ابتسام کی دوسری شادی کرنا ہی چاہتے ہیں تو ہم بھی اپنی بیٹی کو اس سے پہلے ہی بیاہ دیں گے، امی سمجھ کیوں نہیں پاتیں کہ ان کی غیر شادی شدہ غافرہ کے لیے رشتوں کی بھرمار ہوسکتی ہے مگر ایک طلاق یافتہ بیٹی کے لیے نہیں!! وہ یاسیت سے اپنے آپ سے باتیں کیے جا رہی تھی، تبھی دروازہ پر دستک ہوئی۔

’’کون؟ اس نے اونچی آواز میں پوچھتے ہوئے تیزی سے نم آنکھیں صاف کیں۔ مصیبتوں کا جتنا اشتہار لگا تھا وہی کافی تھا۔

’’رحمیٰ ہوں…‘‘ رحمی باجی کی دھیمی آواز سن کر اس نے دروازہ کھول دیا۔

’’السلام علیکم رحمیٰ باجی‘‘ دروازہ کھولتے ہی غافرہ نے خوشگوار انداز میں سلام کیا۔

’’وعلیکم السلام…‘‘ رحمیٰ باجی دھیمے سے مسکرا دیں اور گھر میں داخل ہوگئیں۔

’’آپ سرپرائز نہیں ہوئیں مجھے یہاں دیکھ کر۔‘‘ غافرہ نے دروازہ بند کرتے ہوئے قدرے شوخی سے پوچھا۔ یہ خود ساختہ شوخی و تازگی کا خول اس نے خود پر فوراً سے چڑھا لیا تھا، تاکہ کوئی یہ نہ جان سکے کہ کچھ دیر پہلے وہ کن کرب ناک سوچوں میں گھری غم زدہ سی ہو رہی تھی۔

اس کی بات پر رحمیٰ ہنس دی۔

’’نہیں! خالہ امی نے بتایا تھا مجھے کہ وہ تمہیں لے آئیں گی…‘‘ انھوںنے جواب دیا لیکن غافرہ تو ان کی ہنسی میںکھو گئی تھی۔ یہ عام اور نارمل ہنسی تو نہ تھی، یہ دل کے زخم اور آنکھوں کی نمی کو چھپانے والی ہنسی تھی، اور ایسی ہنسی کو غافرہ سے بہتر اور کون سمجھ سکتا تھا۔

’’میرا بھی دماغ خراب ہوگیا ہے شاید… اپنے دکھ میں مجھے سبھی دکھی نظر آنے لگے ہیں‘‘ اس نے سرجھٹک کر اس سوچ کو بھی جھٹک دیا۔

’’آپ اپنے بھائی کے گھرگئی ہوئی تھیں نا! جلدی آگئیں۔‘‘ غافرہ نے بات بدلی تھی اس بات سے بے خبر کہ اس کی اس بات نے غافرہ کے چہرے کے رنگ بدل دیے تھے۔

’’ہاں بس دل نہیں لگا وہاں۔‘‘ رحمیٰ نے گردن جھکا کر جواب دیا تو ایک بار پھر غافرہ کو وہم ہوا کہ انھوں نے آنکھوں میں در آئی نمی کو چھپانے کے لیے ایسا کیا ہے۔

’’خالہ دادی کے گھر کا سب سے حسین اور خوب صورت حصہ یہ صحن ہے۔‘‘ بات بدلنے کا کام ایک بار پھر غافرہ نے ہی کیا۔

’’ہاں… اور پرسکون بھی۔‘‘ رحمیٰ نے دھیمی مسکراہٹ سے کہا۔

’’مجھے یہاں بیٹھنا بہت پسند ہے۔‘‘ رحمیٰ نے بات آگے بڑھائی۔

وہ دونوں ہی دکھی تھیں اور ان کے دل دکھے تھے اور دونوں ہی اپنے دکھ کو چھپانے کے لیے ناکام سی کوشش کر رہیں تھیں۔

وہ دونوں ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگیں۔ باتوں ہی باتوں میں دونوں اپنے خول سے نکل آئیں… ’’خالہ امی مجھے اکثر تمہارے بارے میں بتاتی رہتی ہیں۔ بہت پریشان رہتی ہیں وہ تمہارے لیے۔‘‘ [یہ انکشاف اس کے لیے نیا تھا] پھر تم نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ شاید خالہ دادی اسے یہ بھی بتا چکی تھی کہ معاملہ سنگین ہوچکا ہے، ان کا رشتہ آخری سانسیں لے رہا ہے، اور مفاہمت کی کوشش عروج پر چل رہی ہے۔ ہلکی پھلکی باتیں کرتے کرتے رحمیٰ نے اتنا اچانک یہ ذکر چھیڑ دیا کہ وہ چند لمحے کے لیے خاموش ہوگئی… رحمیٰ نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا، لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ رحمیٰ نے خود اپنے زخموں کو چھیڑا تھا۔ وہ بے خبر تھی کہ وہ سب باتوں کا علم رکھنے والا جب کسی کا دل اس پر کھولتا جا رہاہے تو یہ وہ روشنی ہے جو اسے ملنے والی ہے… یہ مدد تھی جو وہ کر رہا تھا۔ اور وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا کہ وہ اس روشنی سے اپنے اندھیرے دور کرتی ہے بھی یا نہیں! وہ اس غیبی مدد کو سمجھ پاتی ہے بھی یا نہیں!!lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

تبصرہ کیجیے