جلد بازی؟!

ایک صاحب فن مکالمہ پر لیکچر دے رہے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کیا۔ جب وہ قرآن کی اس آیت پر پہنچے:

ترجمہ!’’اس کے ساتھ قید خانے میں دونوجوان بھی داخل ہوئے۔‘‘ (یوسف:۳۶)تو انھوں نے حاضرین کو بغور دیکھا، پھر ان سے دریافت کیا:

’’اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے؟ ان تینوں میں سے کون پہلے داخل ہوا؟‘‘

یوسف علیہ السلام یا دونوجوان؟

ایک پکارا: ’’یوسف علیہ السلام۔‘‘

دوسرے نے کہا: ’’نہیں، دونوجوان۔‘‘

تیسرا بولا: ’’نہیں، نہیں یوسف، یوسف۔‘‘

چوتھے نے ذرا ہوشیار بننے کی کوشش کی: ’’وہ اکٹھے داخل ہوئے تھے۔‘‘

پھر پانچواں بولا اور ایک شور بپا ہوگیا۔ اصل بات کہیں غائب ہوگئی۔ لیکچرار صاحب یہی چاہتے تھے۔ انھوں نے حاضرین کے چہروں کو غور سے دیکھا اور مسکرائے، پھر انھیں خاموش ہوجانے کا اشارہ کیا اور کہنے لگے:

’’آخر مشکل کیا ہے؟ یوسف علیہ السلام پہلے داخل ہوئے ہوں یا دو نوجوان، بات ایک ہی ہے۔ کیا یہ مسئلہ اتنے اختلاف اور بحث وتکرار کا مستحق ہے؟‘‘

واقعی بسا اوقات ہم لوگ خواہ مخواہ دوسروں کی باتیں کاٹ کر اعتراض کرتے اور ساری بات کا مزہ کرکرا کر دیتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کی حقیقت سمجھے بغیر اس پر اعتراض جڑ دیتے ہیں اور صبر یا انتظار کرنے کا تکلف نہیں کرتے۔

زیادہ ایک نیک نوجوان ہے۔ وہ لوگوںکو اچھے کاموں کی نصحیت کرنے میں خاصا پر جوش ہے۔ ایک روز وہ اپنی کار میں بیٹھا محو سفر تھا۔ گاڑی سرخ اشارے پر رُکی۔ انگریزی موسیقی کی تیز اور بے ہنگم آواز زیاد کے کانوں میں پڑی۔ زیاد کو حیرت ہوئی کہ یہ بلند آواز کہاں سے آرہی ہے۔ وہ اِدھر ادھر دیکھ کر آواز کا مخرج تلاش کرنے لگا۔ آواز ساتھ والی کار سے آرہی تھی۔ زیاد نے گاڑی کا ہارن بجا کر اس کار کے ڈرائیور کو متوجہ کرنے کی کوشش کی کہ ریکارڈ کی آواز آہستہ کرے۔ اس آدمی نے توجہ نہیں کی۔ وہ موسیقی میں مست اپنے گردو پیش سے بے خبر تھا۔ زیاد نے جب یہ دیکھا کہ اس گاڑی میں بیٹھا شخص مکمل طور پر باریش ہے تو اس کی حیرت مزید بڑھ گئی۔ اسے تعجب ہوا کہ شرعی حلیے کا حامل آدمی قرآن کی تلاوت کے بجائے موسیقی سن رہا ہے اور وہ بھی اس قدر بلند آواز سے… اتنے میں سبز بتی جلی اور سب گاڑیاں چل پڑیں۔ زیاد اس آدمی کو راہِ راست پر لانے پر تلا ہوا تھا۔ اس نے اپنی کار اس کے پیچھے لگا دی۔ وہ آدمی ایک شاپنگ سنٹر کے پاس رکا۔ زیاد نے کار اس کی کار کے عقب میں کھڑے کر دی اور اس کی حرکتیں نوٹ کرنے لگا۔ وہ آدمی کار سے نکلا۔ وہ پتلون میں ملبوس تھا۔ زیاد نے سوچا اب یہ سگریٹ خریدے گا۔ لیکن یہ کیا! اس کے ہاتھ میں ایک معروف دینی میگزین تھا۔ زیاد سے صبر نہ ہوا۔ وہ گاڑی سے نکلا اور اس آدمی کے پاس جا کر نرمی سے بولا: ’’بھائی! اگر آپ اجازت دیں تو…، اس نے کوئی جواب نہ دیا اور توجہ بھی نہیں کی۔

زیاد نے آواز ذرا بلند کی:

’’دیکھیے، سنیے! اگر آپ اجازت دیں تو۔‘‘

آدمی نے اب بھی زیاد کی طرف توجہ نہ کی اور جا کر گاڑی میں سوار ہو گیا۔

زیاد طیش میں آگیا۔ وہ گاڑی کے قریب آیا اور بولا: ’’بھائی! اللہ آپ کو ہدایت دے۔ آپ کو سنائی نہیں دیتا؟‘‘

آدمی نے مسکرا کر زیاد کی طرف دیکھا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی ریکارڈ بھی اونچی آواز سے بجنے لگا۔ زیاد مشتعل ہو کر کہنے لگا:

’’بھائی! یہ حرام ہے۔ آپ نے لوگوں کو تنگ کر رکھا ہے۔‘‘

آدمی نے زیاد کو غصے میں دیکھا تو اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر ’’نہ‘‘ کا اشارہ کیا، پھر جیب سے ایک جیبی ڈائری نکالی جس کے پہلے صفحے پر لکھا تھا:

’’میں گونگا بہرا ہوں، سن نہیں سکتا۔ براہِ کرم آپ جو کہنا چاہتے ہیں لکھ دیجیے۔‘‘

اللہ تعالی نے سچ فرمایا:

وکان الانسان عجولا۔ (بنی اسرائیل 11)

’’اور انسان جلد باز واقع ہو اہے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی

Leave a Reply