بنیاد کے پتھر

ڈاکٹر ماجد کی زندگی میں اب زبردست انقلاب آچکا تھا۔ کچھ وقت پہلے حال یہ تھا کہ ایک چھوٹا سا مکان تھا وہ بھی کرایہ کا۔ ایک کمرہ تھا جس میں رہنا سہنا سب کچھ تھا اور دوسرا کمرہ جو باورچی خانہ تھا اور ضرورت پڑنے پر وہی غسل خانہ بھی ہو جاتا تھا۔ لیکن اب مکان نہیں تھا بلکہ کوٹھی تھی جس میں ضرورت کا سب ہی سازو سامان تھا۔ یہی حال کلینک کا تھا جو اب شاندار نرسنگ ہوم میں تبدیل ہوچکی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ یہ سب ماجد کی مسلسل اور انتھک محنت کا نتیجہ تھا لیکن بنیادی طور پر یہ سب ماجد کے والد صاحب کے جگری دوست شفقت صاحب کی خصوصی توجہ اور بے لوث محبت کا ثمرہ تھا۔ ڈاکٹر ماجد اپنا آبائی وطن چھوڑ کر بساط نگرآئے تو انھوں نے کئی ماہ تک اپنے ہی مکان میں ان کو رکھا۔ کسی بھی طرح کی پریشانی نہیں ہونے دی۔ اپنی ہی بیٹھک میں کلینک کرا دیا اور اوپر سے مزید یہ کہ کلینک کے قیام کے لیے مالی تعاون بھی کیا کہ لو دوائیں لاکر رکھو، دوائیں نہیں ہوں گی تو مریض کا علاج کیسے کروگے؟خدا کا کرنا کہ پریکٹس جمنے لگی۔ کچھ دن بعد شفقت صاحب نے ان کو ایک مکان بھی دلا دیا اور کلینک بھی الگ کرا دیا۔ اللہ نے عزت بھی دی اور شہرت بھی۔ اپنا یہ مکان فروخت کرکے ایک کوٹھی نما مکان خرید لیا۔ یہ مکان شفقت صاحب ہی خریدنا چاہتے تھے۔ لیکن انھوں نے ڈاکٹر ماجد ہی کو خریدوا دیا جس نے ڈینٹنگ پینٹنگ کے بعد ایک بہترین کوٹھی کی شکل اختیار کرلی۔

ابھرتی ہوئی شخصیت اور بدلتے ہوئے حالات دیکھ کر دوست احباب بسا اوقات کہہ دیتے کہ ڈاکٹر صاحب کبھی ہمارے ہاتھ تو جوٹھے کرادو اب تو اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے۔اتنے ڈھیٹ مت بنو۔ ہمارا بھی تو کچھ حق ہے۔ ارے ہمیں کھلاؤگے تو اللہ اور دے گا۔ بات مذاق کی تھی مگر اتنی بار دہرائی جانے لگی کہ ماجد نے دعوت کا اہتمام کرہی ڈالا۔ مزید یہ کہ ہمیں بھی مدعو کر ڈالا۔ بار بار فون چچا میاں آپ ضرور آئیں۔ آپ خاطر جمع رکھیں پریشانی سے بچنے کے لیے میں گاڑی بھیج دوں گا۔میں آپ کا شدت سے انتظار کروں گا۔ دیکھئے بھولیے گا نہیں۔

او رپھر یہ ہوا کہ سویرے ہی مسرور صاحب گاڑی لے کر آئے اب تو کسی طرح کا حیلہ بہانہ بیکار ہی تھا۔ چار و ناچار تیار ہونا پڑا اور ہم تقریباً دو گھنٹے کی مسافت کے بعد بساط نگر ڈاکٹر ماجد کے یہاں پہنچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب بڑی عقیدت و احترام سے پیش آئے۔ ہمیں لے جاکر ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور اصرار کیا کہ لیٹ جائیے کافی لمبا سفر کر کے آئے ہیں۔ ہم نے اس مخلصانہ اصرار کو نعمت ہی جانا اور لیٹتے ہی ایک ہلکی پھلکی نیند نکال لی۔ کچھ دیر بعد فریش ہوکر کھانے پر چلے گئے۔ کہنے کو تو یہ نیاز تھی بڑی پرتکلف۔ حضرت نے کافی پیسہ خرچ کر ڈالا تھا۔ کھانے پر سیلف سروس کا اصول ہوتے ہوئے بھی ہماری طرف خاص توجہ تھی کہ ہمیں میز سے ہلنا نہیں پڑا اور ہر چیز وہیں مہیا کردی جاتی۔ کھانے سے فارغ ہوکر ملاقات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کافی نئے پرانے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ڈرائنگ روم میں بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو خصوصی مدعوئین لگتے تھے، ان سے بھی علیک سلیک ہوئی۔ البتہ کوئی نظر نہیں آیا تو وہ شفقت صاحب تھے۔ سوچا کہیں باہر چلے گئے ہوں گے یا کچھ تاخیر سے آئیں گے۔ دعوت میں جہاں ہم ڈاکٹر صاحب کی پسرانہ انکساری کی وجہ سے آئے تھے وہیں شفقت صاحب سے ملاقات بھی ہمارے پیش نظر تھی۔ ایک تو یہ کہ وہ ہمارے ہم عصر تھے، ساتھ پڑھے تھے۔ دوسرے یہ کہ ماجد صاحب کے تئیں جو ان کا سلوک اور قربانی تھی وہ آج کے دور میں عدیم المثال تھی۔ آج تو ہر شخص کا وظیفہ حیات نفسی نفسی ہی ہے اپنی اولاد کے علاوہ اس کو کوئی اور نظر نہیں آتا کجا یہ کہ ایک دوست کے بیٹے کو جس سے دور کا بھی کوئی رشتہ نہیں تھا اپنے پیروں پر کھڑا ہی نہیں کیا بلکہ تعلق نبھانے کی ایک مثال قائم کردی۔ ہم نے اپنے آپ کو بہت سمجھانے کی کوشش کی اور جب کچھ نہ بن پڑا اور وقت بھی کافی ہوگیا تو ہم نے ڈاکٹر ماجد سے پوچھ ہی لیا۔ بیٹے وہ تمہارے چچا میاں شفقت صاحب کہاں رہ گئے کیا ہوا وہ کہیں باہر ہیں یا ان کو مدعو نہیں کیا۔ ان کو تو سب سے پہلے موجود ہونا چاہیے تھا۔ آج تم جو کچھ ہو انہیں کی قربانیوں اور حسن سلوک ہی کی وجہ سے تو ہو۔ بات کچھ سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔

ہاں چچا میاںآپ کی بات ہے تو بالکل درست، مگر میںنے بس کچھ ہی لوگوں کو زحمت دی تھی۔ اپنے بہت سے قریبی لوگوں کو بھی مدعو نہیں کیا کہ چھوٹی سی نیازہی تو ہے کوئی بڑی تقریب ہو تو بلانا اچھا بھی لگے۔

یہ جواب سن کر بس ہمارا سر ہی تو چکرا گیا۔ جی چاہا سارا کھانا قے کر کے باہر نکال دیں۔ بہت مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا۔ ڈاکر ماجد سے کہا: بیٹا ہمیں فوراً واپس جانا ہے۔ ماجد نے گاڑی منگائی اور کھڑکی کھول کر ہم نے پوری قوت سے اپنے آپ کو پچھلی سیٹ میں دھنسا دیا اور مسرور صاحب کو بھی وہیں کھینچ لیا۔ بہت دیر تک آنکھوں میں آنسو تیرتے رہے اور ہم جھوٹی مسکراہٹ سے انہیں خشک کرنے کی سعی لا حاصل کرتے رہے۔آخر مسرور صاحب بولے بھئی اتنے خاموش کیوں ہوگئے بولتے کیوں نہیں۔ ہم نے کہا دعوت میں نئے پرانے اور دور قریب کے کتنے ہی لوگ شامل تھے، نہیں تھے تو ایک شفقت صاحب نہیں تھے جن کا یہ سارا کرا دھرا تھا اور جس سے ملنے کی تمنا دعوت میں شرکت کی خاص محرک تھی۔

مسرور صاحب ہماری آنکھوں میں آنکھیںڈال کر بولے بھائی صاحب آپ بھی بس عجیب ہی ہیں بنیاد کے پتھر کہیں نظر آتے ہیں۔کون دیکھتا ہے ان کی طرف، عمارت کھڑی ہوگئی بات ختم ہوگئی وہ تو بڑے اعلیٰ ظرف لوگ ہوتے ہیں جو ذرا ذرا سی بات کا خیال رکھتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر داؤد نگینہ

Leave a Reply