2

نوکرانی!

’’کیا ہوا شبانہ۔۔۔۔۔ چہرہ کیوں اترا ہوا ہے، کیا روئی ہو رات بھر…؟‘‘ آج صبح کام والی لڑکی آئی تو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی دیکھ کر میں نے پوچھا۔

’’جی باجی! کل سیریل کی ہیروئن کے ساتھ بہت برا ہوا، میرا تو رو رو کر برا حال ہوگیا۔‘‘ شبانہ نے نہایت دلگیر لہجے میں بتایا تو میری ہنسی نکل گئی۔

’’باؤلی ہوئی ہے، ڈراما، ڈراما ہوتا ہے، حقیقت میں تھوڑی ایسا ہوتا ہے۔‘‘ میں نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔

’’نہیں باجی سب کہتے ہیں، بالکل میری جیسی ہے جبھی تو اس کی تکلیف دل پر لگتی ہے۔‘‘

اور میں اس کی کم عقلی پر ’’ہوں‘‘ کر کے رہ گئی۔

پھر ایک دن شبانہ نے مجھ سے میرا کالا جوڑا مانگا۔ بے شک وہ پرانا ہوگیا تھا مگر تھا بڑا دلکش… میں نے کچھ دیر سوچا مگر اس نے اتنی لجاجت سے کہا تو میں نے کہہ دیا کہ کل لے لینا۔ شکل تو اللہ نے اس کی بھولی اور پیاری بنائی تھی، اس پر گہرا کاجل اور ہلکی لپ اسٹک اب اس کا روز کا معمول بن گیا تھا۔ دو، چار دن بعد اس کے ہاتھ میں موبائل بھی نظر آنے لگا۔ میں نے باتوں باتوں میں اپنے میاں کو بتایا تو انھوں نے کہا: ’’اس طرح وارداتیں ہو جاتی ہیں، اس کو بولو یہاں لے کر نہ آیا کرے موبائل۔‘‘

دوسرے دن میں نے پھر اس کے ہاتھ میں موبائل دیکھا تو اس کو کہا ’’شبانہ میرے میاں کو بالکل پسند نہیں کہ گھر میں تم موبائل لے کر آؤ۔ کل سے موبائل نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

’’جی اچھا…‘‘ اس نے لاپروائی سے کہا۔

’’یہ تمہارے پاس آیا کہاں سے ہے؟ ابھی چند دن پہلے تو تم کہہ رہی تھیں کہ مہینہ کا آخر ہے، پیسے ختم ہوگئے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’تمہاری اماں کچھ نہیں کہتی؟‘‘

’’نہیں جی، ان کو تو میں نے بول دیا ہے کہ آپ نے لے کر دیا ہے تاکہ وقت بے وقت آپ کو جب کام ہو، مجھے بلا لیں۔ آپ کی طبیعت خراب ہے نا جی…‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’خدا کا خوف کرو شبانہ…‘‘ میں نے کہا۔

مگر میرے دل میں اس کے خلاف گرہ پڑ گئی تھی۔ میں نے اس کی ماں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ شبانہ سے کہا تو اس نے ٹال دیا۔ آخر دوسری ماسی سے کہہ کر بلوایا، اور جب وہ آئی تو میرا شکریہ ادا کرتے نہیں تھک رہی تھی۔ میرے آگے بچھی جا رہی تھی کہ میں اس کی بیٹی کا اتنا خیال رکھ رہی ہوں۔ بے شک صبح سے شام تک میرے پاس ہوتی ہے مگر کپڑے، موبائل، پرس اور نہ جانے کیا کیا اس نے میرے نام پر گھر پر لاکر ڈھیر کیے ہوئے تھے۔ میں تو دنگ رہ گئی۔ میں نے اس کی ماں کو بتایا کہ:

’’میں نے اس کو کچھ نہیں دیا، میرے پاس تو وہ بارہ بجے آتی ہے اور تین بجے چلی جاتی ہے، کل آتی ہے تو پوچھتی ہوں، تم بھی کل اس کے ساتھ ہی آنا۔‘‘

دوسرے دن دونوں ماں بیٹی آئیں تو میں نے اس سے پوچھا: ’’شبانہ میں کوشش کرتی ہوں کہ تم کو کسی چیز کو منع نہ کروں، تمہاری سب ضرورتیں پوری کردیں، مگر جو جو چیزیں تمہاری ماں بتا رہی ہے، ان میں سے تو میں نے کچھ نہیں دیا… سچ مچ بتاؤ یہ موبائل کس نے دیا ہے، کیا تم نے چوری کی ہے؟‘‘

’’نہیں باجی! آپ کو پتا ہے میں چوری نہیں کرتی۔‘‘

’’پھر اتنا اچھا موبائل تمہارے پاس کہاں سے آیا؟‘‘ میں نے سختی سے پوچھا۔

’’باجی وہ دو گلیاں چھوڑ کر جو آصف صاحب رہتے ہیں ناں بنگلے میں، ان کے بیٹے سرفراز نے دیا ہے۔‘‘ شبانہ نے بتایا۔

’’کیا سرفراز نے!… مگر کیوں؟‘‘ میں حیران رہ گئی۔

’’باجی ہم دونوں شادی کرنے والے ہیں ناں۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔

’’تمہارا دماغ درست ہے؟ اس کو پتا ہے کہ تم کون ہو؟‘‘ میں نے جھلا کر پوچھا۔

’’جی باجی! مگر اب تو سب ڈراموں میں امیر لڑکے ماسی کی بیٹیوں سے شادی کر رہے ہیں۔

’’اور ان کو کوئی قبول بھی نہیں کرتا، یہ بھی تو دیکھا ہوگا ناں…‘‘ میں نے اس کی بات مکمل کی۔

’’ارے باجی مجھے تو پتا ہے کیا کرنا ہے، جب لڑکا لڑکی خوش تو باقی سب جائیں جہنم میں۔‘‘ شبانہ نے بڑے زعم سے کہا۔

’’شبانہ… شبانہ! کیا ہوگیا ہے تم کو، وہ ڈراما ہے، اس میں بھی لڑکیوں کی زندگی خراب ہوتی دکھائی گئی ہے۔ سرفراز کے ماں باپ کو جانتی نہیں ہو، دو دن کیا دو گھنٹے بھی نہیں رہنے دیں گے تم کو، اور وہ سرفراز خود بھی بالکل ناکارہ ہے، اپنے ماں باپ کے آگے کچھ نہیں کر سکتا…‘‘ میں نے اس کو سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔

’’باجی سرفراز کو کچھ نہ کہیں، وہ میرا ہیرو ہے او راس کو بھی میں نے پورا ڈراما دکھا دیا ہے کہ ماں باپ کیسے بہو کے ساتھ ظلم کرتے ہیں، اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ کچھ بھی ہو وہ میرا ساتھ دے گا۔‘‘

’’یا اللہ یہ ڈرامے کہاں لے جا رہے ہیں…‘‘ میں نے دل میں سوچا۔

’’اور باجی آپ کو ڈر لگتا ہے کہ آپ کا نام نہ آجائے… اور آپ میرا حساب کردیں۔‘‘

اس کی ماں پوری بات چیت میں ایک لفظ بھی نہیں بولی، جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ ایک میرا نام لے کر ہی دونوں بے وقوف بنا رہی تھیں۔ میں نے اسی وقت اس کا حساب کر دیا۔

سال بھر بعد محلے کی ایک شادی میں جانا ہوا، وہاں سرفراز کی والدہ بیگم آصف بھی آئی ہوئی تھیں اور عورتیں ان کو دیکھ کر چہ میگوئیاں کر رہی تھیں، مگر وہ سب سے بے نیاز بیٹھی تھیں۔ میرے ساتھ بیٹھی خاتون بولیں۔ ’’رسّی جل گئی، مگر بل نہ گیا۔‘‘

’’کیا مطلب…؟‘‘ میں نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’ارے بیگم آصف کو کہہ رہی ہوں۔‘‘

’’کیوں… کیا ہوا؟‘‘

’’ارے آپ کو نہیں پتا…؟‘‘

’’نہیں… ‘‘میں نے کہا۔

’’ان کے بیٹے نے ماسی کی لڑکی سے نکاح کرلیا تھا اپنے ہی گھر پر۔ ماں باپ تو امریکہ گئے ہؤئے تھے، بھائی بہن کوئی ہے نہیں، سب دوستوں کو بلاکر خوب ہلا گلا کیا۔ پندرہ بیس دن وہ لڑکی سیٹھانی بن کر رہی۔ ارے وہی لڑکی جو آپ کے ہاں بھی کام کرتی تھی۔‘‘ انھوں نے تفصیلاً بتایا۔

’’شبانہ…‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں جی شبانہ… بڑے پر ُڑزے نکال لیے ٹھے… روزانہ بڑھیا بڑھیا ساڑیاں پہن کر وہ اپنے میاں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلتی، دونوں پارٹیوں میں جاتے، ہوٹلنگ کرتے… بس سمجھیں ہر دن عید اور ہر رات شب برات تھی۔ وہ تو کسی نے بیگم آصف کو اطلاع کردی… پھر تو کون سا ٹرپ، کیسا گھومنا، کون سی میٹنگ…!! سب چھوڑچھاڑ کر دونوں میاں بیوی پہلی فلائٹ سے آگئے۔ آتے ہی وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ الامان الحفیظ۔ سنا ہے بات پکی کرنے گئی تھیں اپنے بھائی کی بیٹی سے… شبانہ کے آگے آفر رکھ دی۔ نوکرانی بن کر رہنا ہی تو رہو، مہارانی نہیں، ورنہ طلاق لو اور گھر جاؤ۔ اس نے بھی طلاق لینا پسند کیا… مہر بھی تگڑا لکھوایا تھا۔ سرفراز نے چیں چیں کی کوشش کی تو اس کو عاق کرنے کی دھمکی دی اور یوں یہ معاملہ ختم ہوا۔‘‘

’’مگر شبانہ کی حالت تو بہت بری ہوئی ہوگی؟‘‘ میںنے تجسس سے پوچھا۔

’’نہیں جی… ماں بیٹی نے مہر کے پیسے سے سنا ہے بڑے عیش کیے ہیں۔ اب دوسرے محلے میں شفٹ ہوگئے ہیں۔ شاید اب دوسرا امیر زادہ ڈھونڈیں گی…‘‘ ان خاتون کو تو کچھ زیادہ ہی معلومات تھیں۔

اُف… میں ششدر رہ گئی اور سوچا کتنی معصوم اور خوب صورت تھی مگر کام ایسے کیے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری، رنگ چوکھا آئے…‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
مریم شہزاد

تبصرہ کیجیے