ذکر الٰہی: سکونِ قلب کا نسخہ

اللہ تعالیٰ کی یاد میں منہمک رہنا بندہ مومن کی شان اور اس کا جزو ایمان ہے اور اس کے ذکر اور اس کی یاد سے غافل اور بے پروا رہنا بڑی ہی بدنصیبی اور شقاوت قلب کی علامت ہے۔ ہم لوگ ہر آن اور ہر لمحے اللہ تعالیٰ کی کتنی ہی نعمتوں اور اس کے کتنے ہی احسانات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن اس دوران کبھی بھولے سے بھی ہم نے یہ بات نہیں سوچی یا کم از کم کبھی ہم نے اس بات پر غور و فکر نہیں کیا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کا کتنا شکر یا کم از کم اس کریم اور رحیم ذات کو کتنا یاد کرتے ہیں؟

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ’’تم اپنے رب کو صبح و شام خوب کثرت کے ساتھ یاد کیا کرو۔‘‘ (آل عمران)

مفسرین نے لکھا ہے کہ ذکر کے اصل معنی مطلق کسی کو یاد کرنے کے ہیں، جس کا تعلق قلب سے ہے اور زبان سے کسی کے یاد کرنے کو ذکر اس لیے کہا جاتا ہے کہ زبان قلب کی ترجمان ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زبانی ذکر وہی معتبر ہوتا ہے، جس کے ساتھ قلب بھی اللہ تعالیٰ کی یاد میں منہمک ہو۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اگر کوئی شخص زبان سے ذکر و تسبیح میں مشغول ہو مگر اس کا دل حاضر نہ ہو اور ذکر میں نہ لگے تو وہ بھی فائدے سے خالی نہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ مولانا روم کا شعر قدرے ترمیم و تغیر کے ساتھ اس طرح ذکر فرماتے ہیں:

ترجمہ: ’’اگر آدمی زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور اس کے دل میں دنیاوی چیزوں کے خیالات ہوں تو تب بھی اس کا ذکر اپنا اثر رکھتا ہے۔‘‘

حضرت ابو عثمان نہدیؒ سے کسی نے ایسی حالت کی شکایت کی کہ ہم زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں مگر قلوب میں اس کی کوئی حلاوت محسوس نہیں کرتے۔ آپؒ نے فرمایا:

’’اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہارے ایک عضو یعنی زبان کو تو اپنی اطاعت میں لگایا ہوا ہے۔‘‘ (تفسیر قرطبی)

اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کو یاد کرنے کے قرآن و حدیث میں بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد فرماتے ہیں۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں:

’’میں بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا کہ وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میرا مجمع میں ذکر کرتا ہے تو میں اس مجمع سے بہتر یعنی فرشتوں کے مجمع میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں اور اگر بندہ میری طرف ایک بالشت آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں، اور اگر وہ ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں دو ہاتھ بڑھتا ہوں، اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر چلتا ہوں۔‘‘ (بخاری مسلم)

امام ابو عثمان نہدیؒ یہ بھی فرماتے ہیں : ’’میں اس وقت کو جانتا ہوں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ ہمیں یاد فرماتے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو اس کی خبر کیسے ہو جاتی ہے؟آپؒ نے فرمایا: قرآن مجید کے وعدے کے مطابق جب کوئی بندہ مومن اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد فرماتے ہیں۔ اس لیے سب کو یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ جس وقت ہم اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں گے تو اللہ تعالیٰ بھی ہمیں یادفرمائیں گے۔‘‘

ایک حدیث میں ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جس کو میں اپنا دستور اور اپنا مشغلہ بنا لوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تم ہر وقت رطب اللسان رہا کرو۔‘‘ (ترمذی)

حضرت ابو درداءؓ فر،ماتے ہیں کہ جن لوگوں کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتی ہے وہ جنت میں ہنستے ہوئے داخل ہوں گے۔‘‘ (فضائل ذکر)

ایک حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے کہ چا رچیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص کو یہ مل جائیں اس کو دین و دنیا کی بھلائی مل جائے۔

٭ وہ زبان جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنے والی ہو۔

٭ وہ دل جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کے شکر میں مصروف ہو۔

٭ وہ جسم جو آزمائشوں اور مشقتوں برداشت پر صبر کرنے کا عادی ہو۔ اور نیک بیوی۔

حکیم ترمذیؒ فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ کا ذکر دل کو تر کرتا ہے اور اس میں نرمی پیدا کرتا ہے اور جب دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی ہوتا ہے تو نفس کی گرمی اور شہوت کی آگ سے خشک ہوکر سخت ہو جاتا ہے، اور جب دل سخت ہو جاتا ہے تو سارے اعضاء بھی سخت ہو جاتے ہیں اور طاعت سے رک جاتے ہیں۔ اگر ان اعضا کو کھینچو تو ٹوٹ جائیں گے جیسے کہ خشک لکڑی کہ جھکانے سے نہیں جھکتی بل کہ صرف کاٹ کر ہی جلا دینے کے کام کی رہ جاتی ہے۔

ایک حدیث قدسی میں حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں:

’’میں اس وقت تک اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرتا رہتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر اور میری یاد میں ہلتے رہتے ہیں۔‘‘

حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں:

’’انسان کا کوئی عمل اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے برابر نہیں۔‘‘

حضور نبی پاکؐ نے ارشاد فرمایا:

’’جو تم میں راتوں کو محنت کرنے سے عاجز ہو اور بخل کی وجہ سے (نفلی صدقات وغیرہ میں) اپنا مال بھی نہ خرچ کرسکتا ہو اور بزدلی کی وجہ سے جہاد میں بھی شرکت نہ کرسکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرے۔‘‘ (طبرانی)

الغرض بندہ مومن کو چاہیے کہ وہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہے اور غیر اللہ کو اپنے دل سے نکال دے کہ دلوں کے سکون و قرار کا راز اسی میں مضمر میں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کی یاد ہی بندہ مومن کے دل کے سکون و اطمینان کا نسخہ ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد وقاص

Leave a Reply