دار چینی

دار چینی کھائیں اور حافظہ بڑھائیں

دار چینی ایک قدیم خوشبو دار جڑی بوٹی ہے جو مصالحے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ ویسے تو اس کے کئی فوائد ہیں لیکن ماہرین نے اپنی جدید تحقیق کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کے استعمال سے نہ صرف یاد داشت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے بلکہ اس سے سیکھنے کی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔ کیلی فورنیا کی ’رش یونیورسٹی میڈیکل سنٹر‘ کے ماہرین نے دار چینی کے فوائد کے حوالے سے ایک تحقیق کی ہے جسے بین الاقوامی طبی جریدے ’’امیون فارما کولوجی‘‘ نے شائع کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق گھریلو ذائقہ دار مسالہ دار چینی کے روز مرہ استعمال سے یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ دماغ کا وہ حصہ جہاں یاد داشت کو منظم اور محفوظ رکھا جاتا ہے ’’ہیپوکیمپس‘‘ کہلاتا ہے۔ دماغ میں موجود ’’کیمپ ریسپانس ایلیمنٹ بائنڈنگ‘‘ پروٹین جسے مختصرا سی آر ای بی بھی کہا جاتا ہے۔ جس قدر زیادہ ہوتا ہے وہ اسی قدر زیادہ تیزی سے نئی چیزیں سیکھتا ہے۔ اسی طرح دماغ میں ایک اور مرکب گیما امائنو بیوٹرک ایسڈ ٹائپ اے، ریسپٹر الفا ۵ سب یونٹ نامی پروٹین بھی موجود ہوتا ہے۔ اس مرکب کو سائنسدان جی اے بی آر اے پانچ کا نام دیتے ہیں۔ یہ مرکب دماغ میں نئی معلومات کو جانے سے روکتا ہے۔ ماہرین نے اپنے تجربے کے دوران ایک ماہ تک چوہوں کو پسی ہوئی دار چینی کھلائی۔ ایک ماہ بعد ماہرین نے جب ان چوہوں کے دماغ کا جائزہ لیا تو انہیں پتہ چلا کہ دار چینی ان کے جسم میں دماغی نقصان کے علاج کے لیے ایک دوا کے طور پر استعمال کیے جانے والے کیمیائی، سوڈیم بینزوایٹ میں تبدیل ہوگئی۔ سوڈیم بینز وایٹ نے ان چوہوں کے دماغ میں سی آر ای بی پروٹین کی مقدار بڑھائی اور جی اے بی آر اے پانچ میں کمی کر کے ان کی سطح کو متوازن کر دیا۔ تحقیق میں شامل طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض لوگ معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، جب کہ دوسرے لوگ تیزی سے نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں اور دماغ کی اس صلاحیت کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے اس بارے میں بہت کم جانا جاتا ہے، لیکن جدید تحقیق کی روشنی میں دیر سے سمجھنے والوں کو دماغی طور پر تیز بنانے کے لیے دار چینی کا استعمال سب سے آسان اور محفوظ طریقہ ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply