امراض قلب میں اضافے کا رجحان

فی زمانہ امراض قلب میں اضافہ ہوا ہے اور دل کو لاحق ہونے والے نقصانات کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ مغربی طرزِ زندگی کے زیادہ عادی ہوگئے ہیں، ان کی فعالیت کم ہوگئی ہے۔ ان کی حیاتی سرگرمی میں کمی واقع ہوئی ہے اور حراروں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم بعض احتیاطی اقدامات کے ذریعے اس بیماری کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

بہت سے مرد اور عورتیں چالیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی دل کے دورے کے باعث امراض قلب کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں۔ یہ تعداد تشویش ناک ہے۔

اس سے پہلے عورتوں میں امراض قلب کا امکان مردوں کے مقابلے میں دس سال بعد ہوتا تھا اور عموماً سن یاس کے بعد اس کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے لیکن اب یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مخصوص ایام کے بند ہونے سے قبل ہی نوجوان عورتیں بھی امراض قلب میں مبتلا ہو رہی ہیں۔

امراض قلب کے باعث ہلاک ہونے والی عورتوں کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ہارٹ سرجری کے بعد تقریباً چار پانچ فیصدی عورتیں مر جاتی ہیں جب کہ مردوں میں یہ شرح 1.9 فیصدی ہے۔

یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے، دل کو پہنچنے والے نقصان کی حد اس وقت پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے، اس کے ساتھ خطرے کے دیگر عوامل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، ذیابیطس، خون میں کولیسٹرول میں غیر معمولی اضافہ وغیرہ۔

یہ بیماری اس خراب اور ناپسندیدہ طرزِ زندگی کی پیدا کردہ ہے جو کہ خوش حالی، شہرکاری اور مشینی زندگی کے باعث وجود میں آئی ہے۔ لوگ جب دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب منتقل ہوتے ہیں تو ان میں خود بخود بہت ساری تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ مغربی طرزِ زندگی کو اپنانے لگتے ہیں۔ ان کی نقل و حرکت اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی آجاتی ہے جب کہ حراروں کے استعمال میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چربی کی فالتو مقدار ان کے جسموں میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے جو امراضِ قلب کے امکانات کو بڑھاتی ہے۔

اس مخصوص طرز زندگی کی بنا پر جسم میں نئی تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں اور باڈی ماس انڈیکس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دیہی علاقوں کے مقالبے میں شہروں میں باڈی ماس انڈیکس بڑھ جاتا ہے۔ یہ مردوں میں بیس فیصدی کے مقابلے میں چوبیس فیصدی اور عورتوں میں بیس فیصدی کے مقابلے میں پچیس فیصدی ہو جاتا ہے۔ شہری آبادی میں شکم میں چربی جمع ہو جانے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ پیٹ بڑھ جاتا ہے اور کمر پھیل جاتی ہے۔ جسم میں چربی کی مقدار میں اس اضافے کے باعث انسولین کو اپنا کام کرنے میں رکاوٹ پیش آتی ہے اور کولیسٹرول میں بھی خلل واقع ہوتا ہے۔ شہری علاقوں میں سیرم کولیسٹرول کی سطح دیہی علاقوں کے مقابلے میں پچیس ایم جی زیادہ ہے۔

خطرے کے ان عوامل کے علاوہ کولیسٹرول کی بڑھی ہوئی سطح اور اچھے کولیسٹرول کی گھٹی ہوئی سطح بھی خون کے گاڑھا ہونے اور خون کی شریانوں کے تنگ ہوجانے کا باعث ہیں۔

غذائی چکنائیوں کا کردار

حالیہ عرصے میں یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ کھانا پکانے کے روایتی تیل صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چناں چہ ان کی جگہ ریفائنڈ قسم کے ویجی ٹیبل آئل استعمال کیے جانے لگے ہیں جن کی بڑے پیمانے پر پبلسٹی کی جاتی ہے۔ میڈیا کے ذریعے ان کی خصوصیات گنائی جاتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو ’’دل کا دوست‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان میں Poly-Unsaturated Fatty Acid موجود ہوتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود بھی امراض قلب میں کمی نہیں واقع ہوئی ہے۔ تجربات و مشاہدات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ اصل اہمیت پوفا کی نہیں بلکہ پوفا کی قسم کی ہے۔

سماجی عامل

شہر کاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی جانب ہجرت کرنے اور وہاں بود و باش اختیار کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پرانے طرز کے بڑے خاندان ٹوٹ رہے ہیں اور ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے محض گنے چنے افراد پر مشتمل شہری خاندان وجود میں آرہے ہیں۔

پرانی نسل کے لوگوں کی عمریں اب بھی زیادہ ہوتی ہیں اور وہ بہتر غذائی عادتوں کے سہارے زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں جب کہ ’’سینڈوچ کھانے والی نسل‘‘ میں امراض قلب کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نئی نسل کے لوگوں کے مسائل بھی بہت زیادہ ہیں جس کے باعث انہیں ہمہ وقت کسی نہ کسی پریشانی کا شکار رہنا پڑتا ہے۔ اپنے لیے اچھے روزگار اور اچھے حالات کار کی تلاش، اچھی آمدنی کا حصول، بچوں کا اچھے اسکول میں داخلہ اور اس کے لیے بچوں کی تیاری تاکہ وہ مقابلے میں اپنی جگہ بنا سکیں اور انہیں اچھے اور معیاری اسکول میں داخلہ مل جائے۔ یہ ساری چیزیں مل کر مسلسل ذہنی دباؤ کا سبب بنتی ہیں اور اس ذہنی دباؤ کے نتیجے میں ان عوامل کی کارکردگی میں اضافہ ہونے لگتا ہے جو امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں۔

ہمارے گھروں میں ٹی وی چینلوں کی یلغار نے ہمارے کھانے پینے، سونے، پڑھنے اور لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے کی عادتوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں پیدا کردی ہیں۔ ہماری زندگی میں جسمانی سرگرمی کا تناسب کم ہوتا ہے کیوں کہ گھریلو کام کاج کے لیے طرح طرح کی مشینوں کا استعمال کیا جانے لگا ہے اس لیے ہماری جسمانی مشقت کم اور دماغی مشقت زیادہ ہوگئی ہے۔ ’’بٹن دبانے‘‘ کی ٹیکنالوجی ہر جگہ موجود ہے۔

حملہ قلب کیا ہے؟

دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں ایک چکنے مادے کو جمع کرنے لگتی ہیں جسے پلیک (Plaque) کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیںاور خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور دل کے لیے خون کی فراہمی میں خلل واقع ہونے لگتا ہے۔ اسے عام زبان میں حملہ قلب کہتے ہیں۔

متعدد سطحوں پر کیے جانے والے اقدامات کے ذریعے امراض قلب کے حملوں سے بچا جاسکتا ہے۔

انفرادی

ایک پرسکون طرز زندگی اختیا رکر کے روازنہ کی زندگی میں دباؤ سے بچا جاسکتا ہے۔ حالات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو غیر ضروری پریشانیوں سے بچانا چاہیے اور جس حد تک ممکن ہوسکے اپنے اعصاب کو پرسکون رکھا جائے۔ اگر ذہن میں کوئی پریشانی ہو، کوئی گمبھیر مسئلہ ہو تو بہتر ہوگا کہ اس کے بارے میں آپ اپنے شوہر (یا بیوی) سے یا والدین سے یا بچوں سے بات کریں اور کھل کر انہیں اپنی پریشانی میں شریک کریں۔ آپ محسوس کریں گے کہ اس سے آپ کا ذہن ہلکا ہوتا ہے اور آپ کے اعصاب پر طاری دباؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔

ٹی وی کو اپنی زندگی پر غالب نہ آنے دیجیے صرف بالکل فرصت کے اوقات میں، جب آپ ذرا دیر کے لیے بصری تفریح کے خواہش مند ہوں تو ٹی وی آن کر دیجیے۔

اپنا بلڈ پریشر مسلسل چیک کرواتے رہیے۔ یہ بہت ضروری ہے۔

غذائی احتیاط

حالیہ تحقیقات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ کھانا پکانے کے روایتی تیلوں کے ساتھ ساتھ چکنائی کی مختلف اقسام استعمال کی جانی چاہئیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رائے ہے کہ روزانہ استعمال کیے جانے والے حراروں میں غذائی چکنائیوں کا مجموعی حصہ پندرہ سے تیس فیصدی تک ہونا چاہیے۔ ایس ایف (سیچورٹییڈفیٹ) کا حصہ دس فیصدی سے کم ہونا چاہیے۔ پوفاکا حصہ آٹھ فیصدی سے کم ہونا چاہیے اور باقی موفا پر مشتمل ہونا چاہیے۔ پوفا اور ایس ایف کے درمیان نسبت 0.8 سے کم ہونی چاہیے۔

گوشت کے استعمال سے پرہیز کیجیے اور گوشت کے استعمال کو صرف مچھلی تک محدود کر دیجیے۔ مچھلی میں N-3 چکنائی ہوتی ہے اور یہ دل کے لیے بہترین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکیمو لوگ، جن کی غذا مچھلی ہوتی ہے، کبھی بھی امراض قلب کا شکار نہیں ہوتے۔ تلے ہوئے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ایک شخص کے لیے ایک دن میں تین سے چار چمچے کوکنگ آئل کافی ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن ایک ایسے شخص کے لیے جو کہ حملہ قلب کے بعد صحت یابی کے مراحل سے گزر رہاہو، ایسی غذا کی سفارش کرتی ہے جس میں زیتون کا تیل، پھل و سبزیاں اور مچھلی شامل ہو۔ دالوں، پھلوں اور سبزیوں میں فائبرکی کافی مقدا رپائی جاتی ہے جو کہ دل کے لیے بہت مفید ہے۔

غذا میں دس گرام فائبر کی شمولیت سے امراض قلب کے حملے کے خطرے میں انیس فیصدی کی کمی واقع ہوتی ہے کیوں کہ اس سے کولیسٹرول میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اگر بلڈ پریشر ہائی ہو تو اس صورت میں نمک کے استعمال میں کمی کردینی چاہیے۔

ورزش

ہلکی پھلکی اور ضروری ورزش کے ذریعے امراض قلب کے خطرے کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ ورزش پابندی کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ چلنا ورزش کی سب سے اچھی قسم ہے۔ اس کے علاوہ جوگنگ وغیرہ بھی کی جاسکتی ہے، ہفتے میں تین یا چار بار ایک ہلکی پھلکی ورزش کافی ہے۔

اگر کوئی شخص ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی شوگر اور بلڈ پریشر پابندی کے ساتھ چیک کرواتا رہے اور اپنا علاج جاری رکھے۔ اس معاملے میں غفلت اور لاپرواہی سے کام نہیں لینا چاہیے۔

یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ مغرب میں مندرجہ ذیل طریقوں کے استعمال کے ذریعے امراض قلب کی وارداتوں میں کمی کی گئی۔ ہم بھی ان طریقوں پر عمل کر کے امراض قلب کی وارداتوں میں کمی کرسکتے ہیں۔

۱- کولیسٹرول کی اوسط سطح کو گھٹا کر تیس ایم جی تک لاکر امراض قلب کی وارداتوں مین تیس فیصدی کی کمی کی جاسکتی ہے۔

۲- تمباکو نوشی کو ترک کر کے امراض قلب کی وارداتوں میں چوبیس فیصدی کی کمی کی جاسکتی ہے۔

۳- ہائی بلڈ پریشر کا علاج کر کے نوفیصدی کی کمی کی جاسکتی ہے۔

خاندان

بڑے خاندانوں والے پرانے روایتی نظام کی جانب مراجعت امراض قلب کے خلاف جدوجہد میں کافی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ خاندان کے اراکین کے درمیان زیادہ ربط و ضبط ہونا چاہیے۔ دباؤ اور میکانزم کا مقابلہ کرنے کی تعلیم دی جانی چاہیے اور اس کی صلاحیت بھی پیدا کی جانی چاہیے۔

اگر کسی شخص کے قلب میں کوئی رکاوٹ موجود ہے تو اس کے بہن بھائیوں اور اولادوں کو اپنا تفصیلی چیک اپ کروانا چاہیے کیوں کہ ان کے اندر بھی جینیاتی طور پر یہ نقص موجود ہوسکتا ہے اور اگر ابتدا میں ہی اس کی تشخیص ہوجائے اور اس کا علاج کرلیا جائے تو اس سے ان کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

سماج

ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان امراض قلب سے آگاہی پیدا کرنے اور انہیں ان کے خطرات کے عوامل سے واقف کرانے کے لیے زیادہ موثر طور پر کام کیا جائے۔ آبادی کے اوسط کولیسٹرول کی سطح کو سو ایم جی تک لایا جانا چاہیے۔ لوگوں کو اچھی متوازن غذا کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے اور انہیں تمباکو نوشی کے مضر اثرات، پابندی کے ساتھ ورزش کرنے کے فوائد اور موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے خطرے کے عوامل کے بارے میں خبردار کیا جائے۔ طرزِ زندگی کو معتدل رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور بے احتیاطی سے گریز کیا جائے۔

ڈاکٹر حضرات نہ صرف امراض قلب کی ابتدائی تشخیص اور اس کے علاج میں بلکہ فرد کے پورے علاج میں اور خاص طور سے اس کے دماغ کے علاج میں بھی ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ دواؤں کے مناسب استعمال کے ذریعے ہی بڑھے ہوئے کولیسٹرول پر قابو پایا جاسکتا ہے اور انجیو گرافی جیسے مہنگے طریقے سے بچا جاسکتا ہے۔

چناں چہ ان طریقوں کے استعمال کے ذریعے امراض قلب کی وارداتوں کو اس طرح کم کیا جاسکتا ہے، جس طرح مغرب میں انہیں کم کیا گیا ہے اور پھر شاید ایسا نہ ہو کہ ہم نوجوان مردوں اور عورتوں کو ان کے شباب کے عالم میں ہی امراض قلب کا شکار ہوکر زندگی سے محروم ہوتے ہوئے دیکھیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ریحانہ انور صدیقی

Leave a Reply