مذہب کے نام پر حیوانیت

ضعیف الاعتقادی، تعلیم اور شعور کی کمی نے اسلامی تعلیمات، تصوف اور مزارات کے تقدس کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ملک کے تقریباً ہر حصے میں مفاد پرست، بدکردار لوگ آستانوں کی آڑ میں لوگوں سے ان کی جمع پونجی اور عزتیں لوٹنے میں مصروف ہیں۔ مذہب کے نام پر سادہ لوح انسان ان شرابی، بدکردار جعلی پیروں کے قدموں میں دولت کے انبار اور گھر کی عزت میں لٹوا دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ انسان نما بھیڑیے مذہب کے لبادے میں اپنا مکروہ دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد اپنے مسائل کے حل کے لیے جگہ جگہ کھلے آستانوں پر بیٹھے انسان نما بھیڑیوں کے ہاتھوں کبھی اپنی جمع پونجی گنواتے ہیں تو کبھی اپنے گھر کی عزت۔ عقیدت کے نام پر اندھے ہونے والے لوگ، جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے ہر مشکل کا حل وہاں جعلی پیر کے لبادے میں بیٹھے بدکردار شخص سے وابستہ کرلیتے ہیں۔

یہ عقیدت اور اندھے اعتقاد کی ایسی داستان ہے جس کے پیچھے ہزار کہانیاں ہیں۔ کسی نے پیر (جعلی) کے کہنے پر اپنی عزت کو نیلام کیا، تو کسی نے ’’مرشد‘‘ کے حکم پر اپنے یا کسی اور معصوم بچے کو درندگی سے ذبح کر دیا۔ لیکن اسلام کی رو سے ان سب خرافات کا نام تصوف نہیں ہے۔ تصوف کا درجہ بہت بلند ہے جسے یہ چند مفاد پرست عناصر اپنے مفادات کے لیے بدنام کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اندھے اعتقاد کا شکار صرف کم تعلیم یافتہ یا غریب طبقہ نہیں۔ ملک کی بہت سی مشہور شخصیات نے بھی اپنے عروج کو برقرار رکھنے کے لیے کسی پیر کے ہاتھوں ڈنڈے کھائے ہیں تو کسی نے جھاڑو سے مار کھانا پسند کیا ہے، لیکن اتوار کو سرگودھا (پاکستان کا ایک شہر)کے ایک آستانے میں ہونے والے وحشت و بربریت کے کھیل نے چنگیز خان کی روح کو بھی شرما دیا ہے۔ دو روز تک جاری رہنے والی اس درندگی میں عقیدت کے اندھے لوگوں نے پیر کے کہنے پر ایک دوسرے پر لاٹھیوں، خنجروں کا آزادانہ استعمال کیا۔ کچھ قاتل مقتول کی جگہ لے کر خود قتل ہوتے رہے تو کچھ کو نشہ آور ادویات کھلا کر برہنہ کر کے، بہیمانہ تشدد کر کے اذیت ناک موت سے دو چار کیا گیا۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے:

سرگودھا کے نواحی گاؤں چک نمبر ۹۵ شمالی پکاڈیرہ میں قائم ایک آستانے کا گدی نشین پیر (جعلی) عبد الوحید اپنے مریدوں کو فون کر کے بلاتا رہا اور انہیں قتل کرتا رہا۔ اخباری رپورٹس کے مطابق پیر کے لبادے میں موجود اس بدکردار شخص نے حیوانیت کی تمام سرحدیں پار کرلیں۔ اس نے پہلے لنگر کے نام پر مریدوں کو نشہ آور کھانا کھلایا، برہنہ کر کے ان کے کپڑوں کو جلایا اور آستانے کے عقبی حصے میں لے جاکر انہیں ڈنڈوں اور چھریوں سے تشدد کر کے قتل کر دیا۔ عبد الوحید کی درندگی کا نشانہ بننے والوں میں ایک ہی گھر کے چھے افراد اور چار خواتین سمیت بیس لوگ شامل ہیں۔ مقتولین میں ملزم کے سابق پیر علی محمد گجر کا اکلوتا بیٹا آصف گجر، زاہد ملنگ، بابر، خالد جٹ، وزیر سائیں جمیل، محمد ندیم، شاذیہ، شاہد، فرزانہ بی بی، نصرت بی بی، محمد حسین، سیف الرحمن، محمد اشفاق گلزار، محمد آصف، نعیم، رخسانہ اور محمد ساجد شامل ہیں۔ ان میں سے گیارہ افراد کا تعلق سرگودھا، دو کا اسلام آباد، دو کالیہ، ایک کا میانوالی، ایک اور شخص کا تعلق پیر محل سے ہے۔ مرنے والوں میں تین سگے بھائی محمد ندیم، محمد ساجد، سیف الرحمن، ان کی دو بہنیں نصرت بی بی، شاذیہ بی بی اور سیف الرحمن کی بیوی رخسانہ بھی شامل ہے۔

نام نہاد آستانے پر ہونے والے وحشت و بربریت کے اس کھیل کی خبر وہاں سے زخمی حالت میں بچ نکلنے والی ایک خاتون نے دی، جس نے پولیس کو بتایا کہ خلیفہ (ملزم عبد الوحید گجر) نے اپنے مریدوں کو فون کرکے بلایا اور انہیں بے ہوش کرنے کے بعد برہنہ کر کے ڈنڈے اور خنجر کے وار سے ان کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرتا رہا۔ بعد ازاں ان کی لاشوں کو ایک کمرے میں جمع کرتا رہا۔‘‘ یہ زخمی خاتون ان تین خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جو قتل گاہ سے زخمی حالت میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے، لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی دیگر دو زخمیوں نے گھر پہنچ کر بھی کسی کو اس ہول ناک واقعے کا نہیں بتایا۔ جمعہ کی رات سے شروع ہونے والے وحشت و بربریت کے اس کھیل کی خبر پولیس کو ہفتہ کی شب ملی۔ ملزم عبد الوحید نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا کہ ’’مجھے شک تھا کہ پیر علی احمد گجر کو مریدوں نے زہر دے کر قتل کیا تھا اور وہ مجھے بھی قتل کرنا چاہ رہے ہیں۔ اسی لیے میں نے انہیں دو دو چار چار کر کے بلایا اور تشدد کے بعد قتل کر کے ان کی لاشوں کو ایک کمرے میں جمع کرتا رہا۔‘‘ ڈپٹی کمشنر سرگودھا کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے آستانے پر مریدوں پر تشدد کر کے انہیں یقین دلاتا تھا کہ اس عمل سے ان کے سارے گناہ جھڑ جائیں گے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ملزم عبد الوحید مہینے میں ایک دو بار درگاہ پر آتا تھا، جب کہ آستانے میں شراب کی محفلیں بھی جمتی تھیں۔ وہ اپنے مریدوں کو برہنہ کر کے تشدد کرتا اور ان کے جسم کے مختلف حصوں کو جلاتا بھی تھا۔

حکومت پنجاب کے ترجمان زعیم قادری کا اس بابت کہنا ہے کہ دو سال قبل بنایائے اس دربار کا محکمہ اوقاف اور حکومت پنجاب کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ ہم اس بارے میں تفتیش کر رہے ہیں اور آج کے بعد پنجاب میں کسی جعلی پیر اور تعویذ گنڈا کرنے والے کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دوسری طرف پولیس نے الیکشن کمیشن کے ریٹائرڈ ملازم ملزم عبد الوحید کو پانچ ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے ان کے خلاف قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کر کے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے قتل ہونے والوں کے لواحقین کے لیے پانچ لاکھ روپے جب کہ زخمیوں کو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

سرگودھا میں پیش آنے والا سانحہ ہمارے معاشرے کی بہت سی سیاہ حقیقتیں سامنے لے آیا ہے۔ یہ واقعہ ہمارے ملک میں جہالت اور ضعیف الاعتقادی کی کہانی سنا رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ مذہب، تصوف اور روحانیت کے اُجلے نام استعمال کرتے ہوئے گھناؤنے کردار کے لوگ کس طرح اپنے دھندے کر رہے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سید بابر علی

Leave a Reply