اپنے بچے کی قیمتی نصیحت سے مدد کیجیے!

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دیہاتی پر زندگی کی راہیں تنگ ہوگئیں، سو اس نے اپنا گاؤں چھوڑ کر دور درواز علاقے میں جانے کا فیصلہ کرلیا کہ شاید اسے دیارِ غیر میں رزق ملے۔ چناں چہ اس نے اپنا گھر بار چھوڑا، اپنی بیوی کو چھوڑا اور اپنے گاؤں سے نکل کھڑا ہوا۔ اس کا رخ ایک بہت ہی دور کے شہر کی طرف تھا، وہ خشک اور خالی صحرا میں چلتا رہا، بالآخر وہ مطلوبہ شہر میں جاپہنچا۔

وہاں اس نے اس شہر کے ایک امیر کبیر آدمی سے ملاقات کی، اسے اپنی بپتا سنائی اور اپنے مالی بحران کی شکایت کی۔ مال دار آدمی نے اس کا خیر مقدم کیا اور اس کی خوب آؤ بھگت کی۔ جب دیہاتی مالدار کے پاس تین دن گزار چکا تو امیر کبیر شخص نے اسے پیشکش کی کہ وہ اس کے یہاں کام کرے۔ دن کے وقت وہ اس کے اونٹ اور مویشی چرائے اور رات کے وقت اس کے مہمانوں کی خدمت بجا لائے، اس کے صلے میں اسے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں میں سے حصہ ملے گا۔ دیہاتی نے یہ پیشکش قبول کرلی اور اس کے پاس کام شروع کر دیا۔

اس کام کاج میں کئی برس بیت گئے۔ اب دیہاتی کو اپنا گھر بار یاد آئے گا، بیوی، رشتے داروں اور گاؤں کی یاد نے اسے خوب ستایا۔ اس نے مال دار آدمی کو اپنا حال سنایا اور بتایا کہ وہ واپس اپنے گاؤں جانا چاہتا ہے کیوں کہ گاؤں والے اسے بہت یاد آرہے ہیں اور اب زیادہ جدائی برداشت کرنا اس کے لیے مشکل ہے۔ مال دار آدمی کو یہ سن کر دکھ ہوا کیوں کہ یہ ایک مخلص، سچا اور امانت دار ملازم تھا، مگر اس نے دیہاتی کو اپنے پاس روک رکھنا بھی مناسب نہ سمجھا، اسے نہ صرف واپس گاؤں جانے کی اجازت دی بلکہ اسے کئی اونٹ اور بہت سی بھیڑ بکریاں بھی دیں۔ پھر اسے الودکہا اور اور اس کے لیے خیر و عافیت سے اپنے گھر پہنچنے کی تمنا ظاہر کی۔

دیہاتی نے کوچ کیا۔ وہ ایک لمبے صحرا میں سے گزرا۔ ایک لمبی مسافت طے کرنے کے بعد اس نے صحرا میں ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک مردِ بزرگ و عمر رسیدہ اپنے خالی خیمے میں بیٹھا ہے۔ دیہاتی نے اس بوڑھے آدمی کو سلام کیا۔ بڈھے نے اس کے سلام کا جواب دیا اور اسے اپنے خیمے میں آرام کی دعوت دی۔ دیہاتی نے اس کی یہ پیشکش قبول کرلی۔ بوڑھے نے اسے کھجوریں، پانی اور قہوہ پیش کیا۔ دیہاتی نے بڈھے سے اس کے کام کاج کی بابت دریافت کیا۔ بوڑھے نے اسے بتایا کہ وہ تجارت و سوداگری کرتا ہے۔ یہ سن کر دیہاتی بولا: آپ کس چیز کی تجارت کرتے ہیں؟ اور آپ کا سامان کہاں ہے؟ بوڑھے نے جواب دیا: میں نصیحتیں فروخت کرتا ہوں۔ دیہاتی نے حیران ہوکر پوچھا: آپ نصیحتیں بیچتے ہیں؟ ایک نصیحت کتنے کی؟ بوڑھا بولا: ’’ہر نصیحت ایک اونٹ کی۔‘‘

دیہاتی نے بوڑھے کی بات پر سر جھکا کر کچھ دیر کیلیے سوچا اور پھر ایک نصیحت کی غیر معمولی قیمت پر غور کیا۔ مگر آخر اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ایک نصیحت ضرور خریدے گا۔ خواہ اسے اس کی کتنی ہی قیمت دینی پڑے۔ چناں چہ اس نے بوڑھے سے کہا: آپ مجھے نصیحت کیجیے، میں آپ کو ایک اونٹ دوں گا‘‘ اس پر مردِ بزرگ نے کہا: ’’جب سہیل ستارہ طلوع ہو تو سیلاب سے بے فکر نہ ہونا۔‘‘

دیہاتی نے اس نصیحت کو سنا اور اس پر خوب سوچ بچار کیا، پھر اپنے دل میں بولا: اس خوف ناک صحرا میں سہیل ستارے کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اور اس وقت یہ نصیحت مجھے کیا فائدہ دے گی؟ ایک لمبی سوچ کے بعد اس نے اپنے آپ سے کہا: یہ نصیحت تو میرے لیے بے فائدہ ہے۔ میں دوسری نصیحت خریدتا ہوں، شاید کہ پہلے نقصان کی کچھ تلافی ہوجائے۔ پہلی نصیحت تو فضول ہے۔ مجھے اس کے بدلے ایک اونٹ سے محروم ہونا پڑا ہے۔ دیہاتی نے بوڑھے سے دوسری نصیحت کی درخواست کی تو مردِ جہاں دیدہ نے اسے یہ نصیحت کی: ’’اس آدمی پر کبھی اعتماد نہ کرنا جس کی آنکھیں چمکیلی ہوں اور دانتوں کے درمیان خلا ہو۔‘‘

اب دیہاتی نے اس دوسری نصیحت پر غور و فکر کیا تو اسے اس میں بھی کوئی فائدہ نظر نہ آیا۔ اس نے بوڑھے سے کہا: ’’اب مجھے تیسری نصیحت کیجیے، میں آپ کو تیسرا اونٹ دیتا ہوں۔‘‘ بوڑھے نے اسے یہ نصیحت کی: ’’پچھتا کر سوجانا، مگر خون کر کے نہ سونا۔‘‘ دیہاتی کے خیال میں اگر یہ یہ تیسری نصیحت پہلی دو نصیحتوں کی طرح بے کار تھی مگر اس نے تیسرا اونٹ بھی دے دیا اور بوڑھے سے اجازت لے کر اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔ اس کے اونٹ اور بھیڑ بکریاں بھی اس کے ساتھ تھیں۔ اس کا رخ اپنے گاؤں کی طرف تھا۔

دیہاتی کئی دنوں تک صحرا میں چلتا رہا۔ اسے سخت مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا، تھکاوٹ ہوئی، صحرا کی گرمی نے اسے اس قدر بے حال کر دیا کہ وہ مردِ بزرگ بھول گیا اور اسے یہ یاد بھی نہ رہا کہ اس نے کسی سے اتنی زیادہ مہنگی نصیحتیں خریدی ہیں۔ آخر ایک رات دیہاتی صحرا میں خیمہ زن لوگوں کے پاس جا پہنچا۔ ان لوگوں نے ایک وادی کے نشیب میں اپنے خیمے گاڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے دیہاتی کا احترام کیا ار اس کی مہمان نوازی کی۔ اسے کھانا کھلایا اور اس کے چوپایوں کے لیے گھاس پیش کی۔ اس نے یہ رات ان کے پاس گزاری۔

وہ ابھی جاگ ہی رہا تھا اور آسمان پر اس کی نگاہیں ستاروں کا مشاہدہ کر رہی تھیں تو اسے اچانک ’’سہیل‘‘ ستارہ دکھائی دیا۔ وہ گھبرا کر اٹھا، لوگوں کو جگایا اور انہیں مردِ بزرگ کی نصیحت سے آگاہ کیا۔ اس نے درخواست کی کہ وہ لوگ اس وادی کے نشیب سے باہر نکل جائیں اور وادی کے پاس پہاڑوں پر چڑھ جائیں، مگر لوگوں نے اس کا مذاق اڑآیا، اسے بے عقل و ناسمجھ قرار دیا اور اس کی بات کو لچر کہا۔ اس پر دیہاتی نے انہیں مطلع کیا۔ اللہ کی قسم! میں نے یہ نصیحت ایک اونٹ دے کر خریدی ہے، لہٰذا میں اس وادی کے نشیب میں ہرگز نہیں سوؤں گا۔ پھر اس نے اپنے اونٹ اور بھیڑ بکریاں لیے اور پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہیں رات گزاری۔

اس رات کے آخری حصے میں زور دار سیلاب آچانک آگیا۔ اس نے خیموں اور لوگوں کو غرق کر دیا اور کوئی چیز بھی باقی نہ رہنے دی۔ ادھر دیہاتی یہ منظر دیکھ کر حیران ہوا اور اس بوڑھے کی نصیحت کی اہمیت و قیمت کا احساس ہوا۔ دیہاتی نے اپنے اونٹ اور بھیڑ بکریوں کا ریوڑ اپنے ساتھ لیا اور اپنے علاقے کی طرف چل پڑا۔

راستے میں اسے دور سے روشنی دکھائی دی۔ رات سخت تاریک تھی، دیہاتی نے اس روشنی کو صحرا کی تاریک رات میں غنیمت سمجھا اور روشنی کے رخ پر چل پڑا۔ جب دیہاتی روشنی کی جگہ پہنچا تو دیکھا کہ ایک دبلا پتلا آدمی ہے، بہت زیادہ پھرتیلا ہے۔ ایک وسیع و عریض گھر میں رہ رہا ہے۔ اس آدمی نے دیہاتی کے خیر مقدم میں مبالغہ کیا تو اس کی یہ حرکت دیہاتی کے دل میں مشکوک ٹھہری۔ اس نے جب دبلے پتلے آدمی کا چہرہ غور سے دیکھا تو اس پر یہ حقیقت کھلی کہ اس کی آنکھیں چمکیلی ہیں اور اس کے دانتوں کے درمیان خلا ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے دل میں کہا: ’’مردِ بزرگ نے مجھے اسی آدمی سے خبردار کیا تھا۔ اس میں ساری نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ کوئی ایک نشانی بھی کم نہیں۔‘‘

دیہاتی نے دبلے آدمی کے گھر میں سونے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں گھر سے باہر اپنے اونٹوں اور ریوڑ کے پاس سونا چاہتا ہوں۔ اس نے تکیہ اور چادر لی اور زمین پر لیٹ گیا۔ مگر اسے خطرے کے پیش نظر بالکل نیند نہ آئی۔ اسے اپنے میزبان سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اپنے میزبان کی طرف سے ہر دم چوکنا اور چوکس تھا۔

آدھی رات کے وقت دیہاتی اٹھا، اس نے اپنے تکیے کے پاس پتھر رکھ دیے اور ان پر چادر ڈال دی، تاکہ مشکوک میزبان اسے سوتا ہوا خیال کرے اور خود اٹھ کر دور کھڑا ہوگیا۔ادھر میزبان گھر سے باہر آیا۔ اپنے پنجوں کے بل آہستگی سے چلا، اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ پھر اس نے دیہاتی کے بستر پر دیہاتی کو سویا سمجھ کر تلواور کا وار کر دیا۔ مگر اس کی تلوار پتھروں پر لگی۔ ادھر دیہاتی نے پھرتی سے میزبان کو پیچھے سے پکڑ لیا اور اس کی تلوار چھین لی اور اس سے کہا: ’’اللہ کی قسم! میں نے یہ نصیحت بہت مہنگی خریدی ہے۔ میں نے ایک اونٹ دے کر یہ نصیحت خریدی ہے۔‘‘ اب اس نے اپنے اونٹ اور ریوڑ لیے اور گاؤں کی جانب گامزن ہوا۔

کئی دنوں اور راتوں کے طویل سفر کے بعد بالآخر دیہاتی اپنے گاؤں پہنچ گیا۔ وہ رات کے وقت گاؤں پہنچا۔ اس نے گھر کی دیوار سے اندر جھانکا تو دیکھا کہ اس کی بیوی نیند کر رہی ہے اور اس کے ساتھ والے بستر پر ایک بھرپور کڑیل جوان محو خواب ہے۔ نوجوان کے سر کے بال لمبے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر اسے سخت غصہ آیا۔ اس کی غیرت نے جوش مارا اور اس نے مضبوطی سے ہاتھ میں تلوار پکڑ لی۔ اس نے ارادہ کرلیا کہ وہ اپنی بیوی کو اور اس کے پاس محو خواب نوجوان کو مار ڈالے، مگرجلد ہی اسے مردِ بزرگ کی تیسری نصیحت یاد آگئی۔ نصیحت یہ تھی کہ ’’پچھتا کر سو جانا مگر خون کر کے نہ سونا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ پرسکون ہوگیا۔ اس نے اپنے آپ پر قابو پالیا اور اپنے ارادے سے باز آیا۔ وہ گھر سے پیچھے ہٹا اور گاؤں سے باہر نکل کر اپنے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کے پاس سوگیا۔

صبح ہوئی تو اس نے نمازِ فجر ادا کی، اب گاؤں کے لوگوں کو اس کی آمد کا علم ہوا،لوگ اس کے پاس گئے، سلام کیا، اس کا خیر مقدم کیا۔ پھر اسے وہ اہم واقعات بتانے لگے جو اس کی گاؤں سے طویل غیر حاضری کے بعد رونما ہوئے تھے۔ دیہاتیوں نے اسے باتوں باتوں کے دوران یہ بھی بتایا کہ جب وہ گاؤں چھوڑ کر گیا تھا اس وقت اس کی بیوی امید سے تھی، اس کے جانے کے کئی ماہ بعد اس کے گھر میں بیٹا پیدا ہوا۔ جو اب ایک کڑیل جوان ہے اور اپنی ماں کی خوب خدمت کر رہا ہے۔

اب دیہاتی پر یہ راز منکشف ہوا کہ رات کی تاریکی میں اس نے اپنے گھر کے صحن میں جسے غیر سمجھا تھا، وہ اس کا اپنا بیٹا تھا۔ اس پر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا، پھر بیٹے کی ولادت اور اس کے جوان ہونے پر اظہارِ مسرت کیا۔ اب اس نے اپنے دل میں سوچا: یہ نصیحت کتنی عظیم ترین تھی اگرچہ ہر نصیحت ہی اپنی جگہ انتہائی قیمتی تھی۔ ہر نصیحت اونٹ سے بھی زیادہ گراں قیمت تھی، حتی کہ اگر ہر نصیحت کے بدلے میں اونٹ پر سونا لاد کر معاوضہ بھی دیا جائے تو بھی سودا مہنگا نہیں۔

یہ کہانی، اس کے کردار اور اس میں بیان کردہ واقعات، نصیحت کی قدر و قیمت کو اچھی طرح اُجاگر کرتے ہیں اور ہمیں نصیحت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ تربیت دیں کہ وہ اپنے ماں باپ اور استاد کی نصیحتیں، اپنے سے بڑوں، سمجھ داروں اور دانش وروں کی باتیں اور نصیحتیں غور و فکر سے سنیں۔ ان نصیحتوں کے معانی و مطالب پر غور کریں اور ان نصیحتوں پر عمل کریں۔

انہیں یہ بھی احساس کرایا جائے کہ آپ کو کی جانے والی یہ نصیحتیں معلوم نہیں زندگی کے کس مقام پر کام آجائیں، جس طرح اس کہانی کی نصیحتیں اس غریب انسان کے کام آئیں۔

خود ہمیں بھی یہ احساس رہنا چاہیے کہ ہم اپنی اولاد کو جو بھی نصیحت کرتے ہیں وہ زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں ان کے ضرور کام آئے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیر یونس ترجمہ: محمد ظہیر الدین بھٹی

Leave a Reply